رسول اللہ  ﷺ نے اپنی تعلیمات میں تشبیہات اور مثالوں کا بھرپور استعمال فرمایا ہے تاکہ پیچیدہ باتیں آسانی سے سمجھی جاسکیں اور دلوں پر گہرا اثر ڈال سکیں ۔ یہ طریقہ نہ صرف سمجھنے میں مدد گار ہوتا ہے بلکہ انسان کے دل و دماغ میں بات مضبوطی سے بٹھا دیتا ہے آپ علیہ السلام کے کلمات ہماری زندگی گزانے کے عملی اصول بن جاتے ہیں اور اس انداز سے اخلاقی اصولوں کو اپنانے میں مدد بھی ملتی ہے ۔ تشبیہات کے ذریعے آپ ﷺ نے اخلاق ، معاملات اور دین کی اہم تعلیمات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ۔ رسول اللہ ﷺ کا تشبیہات سے تربیت فرمانے کا طریقہ درس و تدریس میں ایک خاص حکمت اور خوبصورتی کی علامت ہے ۔ آپ ﷺ نے ہر دور اور ہر طبقے کے لوگوں کی فہم کے مطابق ایسی مثالیں استعمال کیں جو دل کو چھو جائیں ۔رسول اللہ ﷺ کی تشبیہات میں منفرد اثر ہوتا ہے کیونکہ وہ زندگی کے تمام تجربات سے متعلق ہوتی ہیں جس سے سننے والا فوراً سمجھ لیتا ہے ۔حضور ﷺ کا تشبیہات سے تربیت فرمانے کے خوبصورت انداز کو درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمایئے :

(1) قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رَيْحًا خَبِيْثَةً۔ (مرآۃ المناجیح:5010)

ترجمہ: فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے مشک بردار یا تمہیں کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے ۔

اس مثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی۔ (مرآۃ المناجیح) آج ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہم اس فرمان کے الٹ عمل کر رہے ہیں جس کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہی اسی طرح بری صحبت کا بچوں پر اتنا برا اثر پڑتا ہے کہ وہ والدین کے نافرمان اور شرابی اور جواری بن جاتے ہیں۔

(2) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللَّه عليه وسلم يَقُولُ:تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا،فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ،وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، حَتَّى يَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ: أَبْيَضُ مِثْلُ الصَّفَا، فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ، وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًّا لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ"(مرآۃ المناجیح:5380)

ترجمہ: میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ دلوں پر فتنے پیش آئیں گے جیسے چٹائی کا ایک ریگ جو دل فتنے پلا دیا گیا اس میں سیاہ دھبہ پیدا کر دیں گے اور جو دل انہیں برا سمجھے اس میں سفید داغ پیدا ہوجاوے گا حتی کہ لوگ دو قسم کے دلوں پر ہوجائیں گے ایک سفید جیسے سنگ مرمر، اسے کوئی فتنہ نقصان نہ دے گا جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں اور دوسرا کالا راکھ ہمرنگ جیسے اوندھا کوزہ وہ نہ بھلائی کو پہچانے نہ برائی کو برا جانے سوائے اس خواہش کے جو اسے پلادی گئی۔

مطلب یہ ہے کہ جو شخص فتنوں کو اچھا سمجھے گا اس کا دل سیاہ ہو جائے گا بے ایمان جیئے گا بے ایمان مرے گا ۔ جو ان فتنوں سے نفرت کرے گا اس کا دل نورانی ہوگا ۔ معلوم ہوا گناہ سے الفت اور نفرت کا دل پر اثر پڑتا ہے ۔ پھر کبھی دل کا اثر چہرے پر نمودار ہو جاتا ہے ۔ چہرہ دل کی کتاب ہے ۔(مرآۃ المناجیح)

آج ہمارے معاشرے میں اس کے نظارے عام ہیں کہ پسند کرنا دور کی بات صرف بد مذہب کو سنتے ہیں تو وہ بدمذہب ہو رہے ہیں تو پھر پسند کرنے کی نحوست کتنی ہوگی !

(3)قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهٖ مِنَ الْهُدٰى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ،وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ،فَنَفَعَ اللّٰهُ بِهَا النَّاسَ،فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْاوَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرٰى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلأً،فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ، وَنَفَعَهٗ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهٖ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهٖ ۔(مرآۃ المناجیح:150)

ترجمہ:فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا اس بہت سی بارش کی طرح ہے جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگادیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس سےاللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیزنے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اورسکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اوراللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔

اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور گویا رحمت کے بادل ہیں حضور کا ظاہری و باطنی فیض اور نورانی کلام بارش ، انسانوں کے دل مختلف قسم کی زمین۔ چنانچہ مومن کا دل قابل کاشت زمین ہے جہاں عمل اور تقوی کے پودے اگتے ہیں۔ علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب اور خزینے کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی ۔ منافقین اور کفار کے سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ فائدہ پہنچائیں۔ (مراۃ المناجیح)

اس تشبیہ کے دو فائدے ہیں : (1) کوئی شخص کسی درجے پر پہنچ جائے حضور سے بے نیاز نہیں ہو سکتا کہ زمین کیسی ہو بارش کی محتاج ہے۔ (2) تا قیامت مسلمان علماء کے محتاج ہیں کہ ان کی کھیتیوں کو پانی انہی تالابوں سے ملے گا حضور کی رحمت انہی کے ذریعے ملے گی۔ (مراۃ المناجیح)

اس سے معلوم ہوا کہ علم اور ہدایت ایک نہیں ۔ کبھی علم ہوتا ہے ہدایت نہیں جیسے بے دین علماء ۔ کبھی ہدایت ہوتی ہے بہت سا علم نہیں ہوتا جیسے عوام الناس۔ کبھی ہدایت اور دین دونوں ملتا ہے جیسے علمائے دین۔ اللہ ہمیں دونوں عطا فرمائے۔ امین(مرآۃ المناجیح)

(4)قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللّٰهُ بِهٖ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰى قَوْمًا، فَقَالَ: يَا قَوْمِ! إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ،فَالنَّجَاءَ النَّجَاءَ، فَأَطَاعَهٗ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهٖ فَأَدْلَجُوْا،فَانْطَلَقُوْا عَلٰى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوْا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي فَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهٖ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِيْ وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهٖ مِنَ الْحَقِّ(مرآۃ المناجیح:148)

ترجمہ:فرمایا نبی ﷺ نے کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے میں کھلا ڈرانے والاہوں ، بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے اور ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا ، انہیں ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا، یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔

جیسے نجات و ہلاکت کا دارومدار اس اعلان کرنے والے کی تصدیق یا تکذیب ہے ایسے ہی آخرت کے عذاب سے بچنے نہ بچنے کا دارومدار حضور کے ماننے نہ ماننے پر ہے۔(مرآۃ المناجیح)

پیارے اسلامی بھائیو ! دیکھا کتنے پیارے انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اللہ و رسول کی اطاعت کرنے ، اچھی صحبت اختیار کرنے ، تلاوت قرآن کرنے اور فتنوں سے بچنے کا فرمایا ۔ اللہ ہمیں ان چیزوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اس انداز کو اختیار کرکے اپنے ماتحت افراد کی تربیت کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔