یوں تو اللہ تعالی کے آ خری نبی
محمد عربی رسول ہاشمی ﷺ کی ہر بات ہر ادا ہر عمل حکمت سے بھرپور اور
اصلاح امت سے معمور ہے اور ”وہ زبان کہ جس کو سب کن کی کنجی کہیں“۔ پھر وہ زبان کہ جس کو اللہ تعالی قرآن پاک میں فرمائے کہ ”محبوب کی زبان سے جو بات نکلتی ہے وہ وحی ہوتی ہے “ پھر آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا کبھی اپنے امتیوں
کو اشارے سے تربیت فرمانا کبھی اقوال کے ذریعے تربیت فرمانا کبھی اپنے عمل کے ذریعے
تربیت فرمانا اور اسی طرح بہت سارے مقامات پر آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے امتیوں کو تشبیہات
کے ذریعے بھی تربیت فرمائی یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دے کر جیسے کہ بخل کو
تشبیہ دے کر سمجھایا، سخاوت کو تشبیہ دے کر سمجھایا، اسی طرح عابد اور عالم کی فضیلت کو تشبیہ دے کر سمجھایا، اسی طرح
متعدد مقامات پر آقا علیہ الصلوۃ والسلام
نے تشبیہات کے ذریعے اپنے صحابہ کی اور صحابہ کے ذریعے اپنے امتیوں کی تربیت فرمائی۔
آئیے جن احادیث میں اللہ کے آ خری نبی ﷺ نے تشبیہات سے تربیت فرمائی
ان میں سے 5کو ملاحظہ کرتے ہیں:
(1) ویران گھر کی طرح: آقا علیہ الصلوۃ
والسلام نے اس حدیث میں جو بندہ قرآن
پاک کی تلاوت نہیں کرتا اس کے بارے میں
فرمایا کہ اس کا دل ویران گھر کی طرح ہے یعنی
کہ جس طرح ایک گھر، گھر والوں کے بغیر ویران ہوتا ہے اسی طرح جس سینے میں قران نہیں
وہ بھی ویران گھر کی طرح لہذا اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا:
اِنَّ الَّذِي
لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: ”جس کے سینےمیں قرآن نہیں
وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“ (فیضانِ ریاض الصالحین جلد نمبر 7 باب: قرآن پاک پڑھنے کی فضیلت حدیث نمبر:1000)
(2) کنجوس اور سخی کی کہاوت: اس حدیث مبارکہ میں کنجوسی کرنے والے کے بارے میں وعید اور سخاوت کرنے والے کے بارے
میں بشارت کو تشبیہ دے کر بیان کیا گیا
چنانچہ اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے فرمایا:
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
-صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ
وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ
اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ
الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ
الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ
بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ
سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں
نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے
لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے
اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے"(مرآةالمناجیح شرح مشکوةالمصابیح جلد نمبر:3
باب:خرچ کرنا اور بخل کی برائی حدیث
نمبر:1864)
(3) دو بھوکے بھیڑیوں کی طرح: اس حدیث مبارکہ میں مال و دولت کی حرص اور لالچ کی و عید بیان کی
گئی ہے اور ان کو ایک نہایت ہی نفیس تشبیہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے لہذا اللہ
کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:عَنِْ کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ
اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ
وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ ترجمہ:
حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ
اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں
چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ
جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔
“ (فیضان ریاض الصالحین جلد نمبر: 4 باب:زھدو فقر کی فضیلت حدیث نمبر:485)
(4) اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لے: اس حدیث مبارکہ میں کسی کو تحفہ دے کر واپس لینے کے بارے میں وعید کو
بیان کیا گیا اور آقا علیہ الصلوۃ والسلام
نے بڑی ہی پیاری تشبیہ کے ساتھ سمجھایا کہ تحفہ دینے کے بعد واپس لینے والا کیسا
ہے چنانچہ اللہ کے آخری نبی ﷺ کا
فرمان عبرت نشان ہے: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ
فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے
کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی
مثال نہیں۔ (مرآةالمناجیح شرح مشکوةالمصابیح
جلد نمبر:4 باب:تجارتوں کا بیان حدیث نمبر:3018)
(5) مومن اور منافق : اس حدیث میں اللہ تعالی کے آخری نبی ﷺ نے قرآن پاک پڑھنے والے مومن اور نہ پڑھنے والے مومن اور قرآن پاک پڑھنے والے منافق اور نہ پڑھنے والے منافق کو بہت ہی نفیس تشبیہ
سے سمجھایا ، لہذا اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا:
عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ:
قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي
يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ
وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ
الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ
الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ
ترجمہ:حضرت سَیِّدُناابو موسٰی
اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن
کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں
لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو
اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس
کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔ (فیضان
ریاض الصالحین جلد نمبر:7 باب: قرآن پاک پڑھنے کے فضائل حدیث نمبر:995)
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے
کہ ہم نے مذکورہ احادیث مبارکہ میں جو کچھ تربیت کے حوالے سے پڑھا اللہ
تعالی ان تمام بری عادتوں سے بچنے اور جو اچھی باتیں اس میں سیکھنے کو ملی ان پر
عمل کرنے اور ان کو آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نیکی کا حکم دینے
اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami