محمد ابوبکر مدنی ( دورہ حدیث مرکزی جامعۃ المدینہ جوہر ٹاؤن
لاہور ،پاکستان)
رب العالمین نے ہمارے آقا حضرت
محمد ﷺ کو رحمۃ للعالمین ( دونوں جہانوں کیلئے رحمت) بنا کر بھیجا ۔ ویسے تو حضور
تمام جہان والوں کیلئے رحمت ہیں پر مومنوں پر آپ ﷺ کی رحیمی کے کیا کہنے کہ قرآن
فرما رہا ہے :لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ
مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ
بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) ترجمۂ کنز الایمان:
بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے
تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان ۔( پ11، التوبۃ:
128)
جو بندہ کسی پر کمال مہربان ہو
تو اسکی بھلائی کیلئے فکرمند ہوتا ہے اور اسے وعظ و نصیحت کرتا رہتا ہے ۔ حضور بھی
گاہے بَہ گاہے امت کی رہنمائی فرماتے رہتے اور مختلف انداز اختیار فرما کر امت کی تربیت فرماتے تاکہ انہیں سمجھنے میں آسانی ہو۔
انہیں میں ایک انداز تشبیہ دے کر سمجھانے کا ہے ۔ تشبیہ کا انداز سامع کی روح میں بات اتارنے والا انداز ہے ۔ حضور خاتم
النبیین ﷺ نے متعدد مقامات پر یہ انداز
اختیار فرما کر تربیت فرمائی ۔ چند مقامات ذکر کرتا ہوں:
(1) ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ
أَخِيهِ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى ؛ فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ ترجمہ: تم میں سے ہر کوئی ایک دوسرے کا آئینہ ہے، اگر اس میں کوئی
برائی دیکھے تو مٹا دے ۔(جامع ترمذی، باب ما جاء فی شفقۃ المسلم علی المسلم، حدیث
نمبر 1929)
اس حدیث پاک میں مومن کو دوسرے
مومن کیلئے آئینہ قرار دیا گیا ہے کہ جس طرح وہ آئینے میں کوئی گندگی وغیرہ دیکھتا
ہے تو اسے لوگوں کو نہیں بتاتا بلکہ خود اس کو مٹا کر آئینہ صاف کر دیتا ہے ویسے ہی
اپنے مسلمان بھائی میں کوئی بندہ برائی دیکھے تو اسے لوگوں میں ظاہر نہ کرے بلکہ
اسکی انفرادی طور پر اصلاح کرے۔
(2) دنیا سے بے رغبتی کی تشبیہ: حضور خاتم النبیین ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا : كُنْ فِي
الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ترجمہ: تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ اجنبی ہو یا مسافر۔ (صحیح
البخاری ، باب قول النبی كُنْ فِي
الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، حدیث 6416)
اس حدیث میں دنیا سے بے رغبتی
کو مسافر اور اجنبی سے تشبیہ دے کر سمجھایا کہ جس طرح مسافر اور اجنبی کسی جگہ کو ٹھکانہ نہیں بناتا اور ضرورت کا
سامان ساتھ رکھتا ہے اسی طرح انسان کو دنیا اور اسکے مال و متاع میں جی نہیں لگا لینا
چاہیے اور نہ ہی لمبی امیدیں لگانی چاہیے بلکہ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت میں رغبت
رکھنی چاہیے ۔
(3) بے عمل مبلّغ کی تشبیہ: ھادی کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَثَلُ
الْعَالِمِ الَّذِي يُعلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسٰى نَفْسَهُ كَمَثَلِ
السِّراجِِ يُضِيْءُ لِلنّاسِ ويَحْرِقُ نَفْسَهُ ترجمہ: وہ عالم جو لوگوں کو نیکی کی تعلیم دے اور خود اس پر عمل نہ
کرے اس چراغ جیسا ہے جو اوروں کو تو روشنی
دے اور اپنے آپ کو جلاتا رہے۔(معجم الطبرانی ، 2/165)
اس حدیث میں بے عمل عالم کو چراغ سے تشبیہ دی گئی
کہ جس طرح چراغ دوسروں کو تو فائدہ پہنچاتا ہے پر خود جلتا رہتا ہے اسی طرح بے عمل
عالم اپنے علم سے لوگوں کو نیک بنا دیتا ہے پر خود عمل نہ کر کے اپنی آخرت برباد
کر رہا ہوتا ہے ۔ اللہ ہمیں عالم با عمل بنائے آمین ۔
(4) حب جاہ و مال کی تشبیہ: ہمارے آقا سیّد الزاھدین ﷺ ( زاھدوں کے سردار) نے ارشاد
فرمایا : مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا
مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ ترجمہ: دو بھوکے بھیڑیے جنہیں
بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اس ریوڑ کیلئے اتنا نقصان دہ نہیں جتنا نقصان دہ آدمی کے دین کیلئے اسکی مال و جاہ کی حرص ہے۔ (جامع الترمذی ،ابواب الزھد
عن رسول اللہ ﷺ، حدیث 2376)
اس حدیث مبارک میں بھیڑیوں کو
حب جاہ و مال کی حرص سے تشبیہ دے کر ان سے بچنے کی ترغیب حضور اکرم ﷺ نے ارشاد
فرمائی ہے ۔ بھیڑیا بھی نقصان دہ ہے اور حب جاہ اور مال کی حرص بھی نقصان دہ ہے پر
حب جاہ اور مال کی حرص زیادہ خطرناک ہے کیونکہ بھیڑیا انسان کی بکریاں کھا جائے گا
جو کہ اسکا مال و متاع ہے جبکہ حب جاہ اور مال کی حرص بعض دفعہ ایمان لے جاتی ہے جیسا کہ مشاہدہ بھی ہے بعض لوگ
صرف بیرون ملک ویزہ کی خاطر اپنے نام کیساتھ
معاذ اللہ قادیانی لکھوا کر بے ایمان ہو گئے ۔ اللہ کریم کی پناہ حب جاہ اور مال کی حرص سے۔
اللہ کریم
ہمیں رسول کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر
زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بجاہ سیدنا خاتم النبیین
Dawateislami