تشبیہ وتمثیل ہر زبان میں تعبیر وتفہیم اوراظہار وبیان کا ایک موٴثر اور خوبصورت ذریعہ رہا ہے، بعض اوقات بغیر تشبیہ و تمثیل کے کلام مکمل طور پر سمجھ نہیں آتا کچھ اشکال باقی رہ جاتے ہیں جن کو دور کرنے اور بات کو احسن انداز میں سمجھانے کے لیے تشبیہ و تمثیل کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کلام الٰہی عزوجل میں کئی مقامات پر سمجھانے کے لیے تشبیہ وتمثیل کا ذکر ہے جیسا کہ فرمان الٰہی عزوجل ہے:

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِۖۚ-اِتَّخَذَتْ بَیْتًاؕ-وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۴۱) ترجمۂ کنزُالعِرفان: جنہوں نے الله کے سوا اورمددگاربنارکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے،جس نے گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھرہوتا ہے۔کیا اچھا ہوتا اگر وہ جانتے۔ (پ20، العنکبوت:41)

کلام الٰہی کے بعد سب سے زیادہ اہم کلام کلام رسول ﷺ ہے۔ کلام نبوی ﷺ میں بھی کثرت سے اس ذریعہٴ تفہیم کو اختیار کیاگیا ہے۔ چند احادیثِ تشبیہات وتمثیلات اور مختصر وضاحت :

(1) حضور اقدس ﷺ کا فرمان مبارک ہے: إِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ أَخِيهِ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ (سنن ابی داود، حدیث: 4946) ترجمہ:تم میں سے ہر شخص اپنے بھائی کے لیے ایک آئینہ ہے، اگر وہ اُس میں کوئی تکلیف دہ چیز دیکھے تو اُسے دُور کر دے۔

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اخوتِ ایمانی اور اصلاحِ باہمی کو آئینے کی مثال سے سمجھایا ہے: جس طرح آئینہ انسان کو اُس کی عیب داریاں بغیر بغض یا تحقیر کے صاف دکھاتا ہے،اسی طرح مسلمان کو چاہیے کہ اپنے بھائی کی خامی یا غلطی نرمی اور خیر خواہی کے ساتھ دور کرے،عیب چھپانا نہیں، بلکہ ادب کے ساتھ اس کی اصلاح کرنی چاہیے ۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیوں کو نظرانداز کرنے کے بجائے نرمی سے دور کرنے والے بنیں۔

(2) نماز کی فضیلت ،اہمیت اور اسکے فوائد کو احسن انداز میں سمجھانے کے لیے بھی حضور ﷺ نے تشبیہ وتمثیل کا استعمال فرمایا ہے جیسا کہ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قالوا: لا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قال: فَذَٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا (صحیح البخاری: حدیث 528 – صحیح مسلم: حدیث 667)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے، تو کیا اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہے گا؟" صحابہ نے عرض کیا: "نہیں، کچھ باقی نہ رہے گا۔" آپ ﷺ نے فرمایا:"یہی مثال پانچ وقت کی نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"

رسول اللہ ﷺ نے نمازوں کی اہمیت کو مثال (تشبیہ) کے ذریعے بیان فرمایا:جیسے کوئی شخص دن میں پانچ بار نہائے تو اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح اگر مسلمان دن میں پانچ وقت نمازیں پڑھتا ہے تو اس کے صغیرہ گناہ مٹتے رہتے ہیں۔ اس میں ظاہری اور باطنی صفائی کا تصور موجود ہے۔

ظاہری صفائی: وضو، جسم کی پاکیزگی۔ باطنی صفائی: گناہوں کی معافی، روح کی پاکیزگی۔

(3) نبی کریم ﷺ نے امت کے حال پر ایک مثال کے ذریعے رحم، شفقت اور تنبیہ فرمائی کہ عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله ﷺ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَتِ ٱلْفَرَاشُ وَهَٰذِهِ ٱلدَّوَابُّ ٱلَّتِي تَقَعُ فِي ٱلنَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، فَيَجْعَلُ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَقْتَحِمْنَ فِيهَا (صحیح البخاری: حدیث 6483، صحیح مسلم: حدیث 2284 )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی نے آگ جلائی، تو پروانے اور وہ کیڑے جو آگ میں گرتے ہیں، اس میں گرنے لگے۔ وہ انہیں (آگ سے) نکالتا ہے لیکن وہ اس پر غالب آ جاتے ہیں اور آگ میں گرتے رہتے ہیں۔"

یہ حدیث نبی کریم ﷺ کی تشبیہ ہے: انسانوں کی حالت ایسی ہے جیسے پروانے اور کیڑے جو آگ کی طرف لپکتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جل جائیں گے۔نبی کریم ﷺ ان کو آگ (جہنم) سے بچانا چاہتے ہیں، لیکن وہ خود ہی واپس اسی گناہوں کی طرف پلٹتے ہیں۔یہ حدیث رحمتِ نبوی ﷺ اور امت کی نافرمانی دونوں کو بہت بلیغ اور پراثر انداز میں ظاہر کرتی ہے۔

(4) اچھی اور بری صحبت اور انکے اثرات کو احسن انداز میں سمجھانے کے لیے بھی حضور ﷺ نے تشبیہ وتمثیل کا استعمال فرمایا جیسا کہ فرمان عالیشان ہے:

عن أبي موسى رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إِنَّمَا مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالجَلِيسِ السُّوءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ، وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ، إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الكِيرِ، إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً (صحیح البخاری: حدیث 5534، صحیح مسلم: حدیث 2628)

ترجمہ:حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے اور بھٹی دہکانے والے کی طرح ہے۔ مشک بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو دے گا، یا تم اس سے خوشبو خرید لو گے، یا کم از کم تمہیں اس سے خوشبو ضرور محسوس ہوگی۔ اور بھٹی دہکانے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا تمہیں اس سے بدبو محسوس ہوگی۔

اس حدیث میں تشبیہ کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ نیک ساتھی کی صحبت ہر حال میں نفع بخش ہوتی ہے، یا وہ تمہیں کچھ سکھائے گا (علمی یا اخلاقی نفع) یا تم اس کی پیروی کرو گے یا کم از کم اس کی نیکی کی خوشبو تم پر اثر کرے گی برا ساتھی تمہیں نقصان پہنچائے بغیر نہیں رہے گا، یا وہ تمہیں گناہ میں مبتلا کرے گا یا تمہیں بدنام کرے گا یا تمہارے اخلاق بگاڑے گا۔

مذکورہ احادیث میں کسی نہ کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے تشبیہ دی جارہی جس کا مقصد بہتر اور احسن انداز میں سمجھانا اور بات کی وضاحت کرنا ہے ۔ پتا چلا تشبیہات و تمثیلات کا استعمال کرنا اللہ عزوجل اور اسکے محبوب ﷺ کا طریقہ ہے تو ہمیں بھی اپنی بات مخاطب کو سمجھانے کے لیے تشبیہات و تمثیلات کا استعمال کرنا چاہیے ۔

اللہ عزوجل ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین