نبی کریم  ﷺ نے اپنی تعلیم و تربیت کے انداز میں تشبیہات کا استعمال نہایت مؤثر انداز میں کیا تاکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دیگر سامعین کے لیے بات کو سمجھنا اور ذہن نشین کرنا آسان ہو جائے۔ تشبیہات کے ذریعے تربیت کا یہ اسلوب قرآن مجید میں بھی پایا جاتا ہے، اور نبی ﷺ نے اس سنت کو جاری رکھا۔ذیل میں کچھ احادیث پیش کی جا رہی ہیں جن میں نبی اکرم ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے تعلیم و تربیت فرمائی :

جیسا کہ نیک اور بُرے ساتھی کی مثال دیتے ہوئے حدیث پاک میں فرمایا: إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِیسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِیسِ السُّوءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ(بخاری: 5534، مسلم: 2628)ترجمہ: نیک اور بُرے ساتھی کی مثال مشک (خوشبو) بیچنے والے اور لوہار کی مانند ہے۔ مشک والا یا تو تمہیں کچھ دے گا، یا تم اس سے خرید لو گے، یا تمہیں اس کی خوشبو ملے گی۔ اور لوہار یا تو تمہارے کپڑے جلائے گا یا تم اس سے بُو پاؤ گے۔

یہ حدیث پاک ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم کن لوگوں کی صحبت اختیار کریں اور کن سے بچیں کہ جیسی صحبت ہو گی ویسا ہی اثر ہوگا۔

اسی طرح ایک مقام پر پانچ نمازوں کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا حدیث پاک ہے : أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ (بخاری: 528، مسلم: 667)ترجمہ:کیا تم دیکھتے نہیں اگر کسی کے دروازے پر ایک ندی ہو اور وہ دن میں پانچ بار اس میں نہائے، تو کیا اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہ جائے گا؟ صحابہ نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔

جس سے پتہ چلتا ہے کہ نماز پڑھنے سے گناہ مٹ جاتے ہیں نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح اگر دل لگا کر نماز پڑھے گا تو ضرور اس کا دل نماز میں لگے گا اور قرب الہی حاصل ہوگا۔اور اسی میں منافق کی مثال دیتے ہوئے فرمایا :

مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَالشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ (مسلم: 5027) ترجمہ:منافق کی مثال ایسی بکری کی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان حیران پھرتی ہے، نہ اِس کی طرف جاتی ہے، نہ اُس کی طرف۔

یعنی منافق ظاہرا تمہارے ساتھ ہوتے ہیں لیکن یہ دلی طور پر تمہارے ساتھ نہیں ہوتے صرف دیکھاوا کرتے ہیں اور صرف اپنے مقصد کے لیے تمہارے پاس آتے ہیں وہ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست، خیر خواہ،ہمدرد نہیں ہوسکتے بلکہ صرف اذیت ہی پہنچائیں گے۔