یقیناً  رسول اللہ امت کے لیے ایک بہترین رہنما ہیں جس کے بارے میں خود قراآن کریم میں اللہ پاک نے یہ بیان فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ(۲۱) ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہےاس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے ۔(پ21، الاحزاب:21)

رسول اللہ کا تربیت فرمانے کا انداز بھی بالکل ہی الگ تھا آپ کبھی مثالوں سے کبھی نصیحت سے تو کبھی تشبیہات کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی فرماتے۔ آپ کی تشبیہات ایسی تھیں جو دل کو چھو لیتی تھیں۔ آپ کا یہ طریقہ اتنا مؤثر تھا  جس سے پیچیدہ باتیں بھی نہایت آسان اور دل نشین ہو جاتی تھیں۔ آئیے اس کی کچھ مثالیں ملاحظہ کرتے ہیں :

نبی پاک نے علم اور اس پر عمل کرنے  اور اسے آگے پہنچانے کو موسلا دھار بارش کے ساتھ تشبیہ دے کر بیان فرمایا  : ‏‏‏‏وعن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:مثل ما بعثني الله به من الهدى والعلم كمثل الغيث الكثير اصاب ارضا فكان منها نقية قبلت الماء فانبتت الكلا والعشب الكثير وكانت منها اجادب امسكت الماء فنفع الله بها الناس فشربوا وسقوا وزرعوا واصابت منها طائفة اخرى إنما هي قيعان لا تمسك ماء ولا تنبت كلا فذلك مثل من فقه في دين الله ونفعه ما بعثني الله به فعلم وعلم ومثل من لم يرفع بذلك راسا ولم يقبل هدى الله الذي ارسلت به

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے جو ہدایت اور علم دے کر مجھے مبعوث کیا ہے، وہ کسی زمین پر برسنے والی موسلادھار بارش کی طرح ہے، پس اس زمین کا ایک ٹکڑا بہت اچھا تھا، اس نے پانی کو قبول کیا اور اس نے بہت سا گھاس اور سبزہ اگایا، اور اس زمین کا کچھ ٹکڑا سخت تھا، اس نے پانی کو روک لیا، پس اللہ نے اس کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچایا، لوگوں نے خود پیا، جانوروں کو پلایا اور آب پاشی کی، جبکہ زمین کا ایک ٹکڑا صاف چٹیل تھا، وہاں بارش ہوئی تو وہ پانی روکتی ہے نہ سبزہ اگاتی ہے، پس یہی مثال اس شخص کی ہے جسے اللہ کے دین میں سمجھ بوجھ عطا کی گئی، اور اللہ نے جو تعلیمات دے کر مجھے مبعوث فرمایا ان سے اسے فائدہ پہنچایا، پس اس نے خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے (ازراہ تکبر) اس کی طرف سر نہ اٹھایا اور اللہ نے جو ہدایت دے کر مجھے مبعوث فرمایا اسے قبول نہ کیا۔ “ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ (مشكوة المصابيح/كتاب الايمان/حدیث: 150)

ایک اور جگہ پیارے آقا نے یوں ہی تشبیہ کے ذریعے نماز کی فضیلت کو واضح فرمایا :

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ارايتم لو ان نهرا بباب احدكم يغتسل فيه كل يوم خمسا هل يبقى من درنه شيء قالوا: لا يبقى من درنه شيء قال: فذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ اگر تم میں سے کسی شخص کے گھر کے سامنے نہر ہو اور وہ ہر روز اس میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہوتو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ جائے گی ؟“ صحابہ نے عرض کیا، اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہے گی، آپ نے فرمایا: ”یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ ان کے ذریعے خطائیں مٹا دیتا ہے۔ “ متفق علیہ۔ (مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 565)

نبی پاک کا مختلف مسائل کو اس طرح تشبیہ کے ذریعے بیان فرمانے میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہوتی تھیں جن میں سے چند عرض کرتا ہوں :

(1) اس سے پیغام دل میں بیٹھ جاتا تھا اور اس کی اہمیت بڑھ جاتی تھی۔

(2)سننے والے کے ذہن میں گہرے اثرات پیدا ہوتے تھے ۔

(3) لوگوں کو مثالوں کے ذریعے باتیں جلدی یاد ہو جایا کرتی تھیں۔

(4) اس سے نبی پاک کا مقصود لوگوں کو قیاس کی تربیت دینا تھا ۔

تشبیہات سے تربیت کا یہ اسلوب ہمیں سکھاتا ہے کہ تعلیم محض معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ فکر، احساس اور بصیرت کی بیداری کا نام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جو مثالیں بیان فرمائیں، وہ آج بھی اسی طرح تازہ، روشن اور سبق آموز ہیں، جیسے چودہ سو سال پہلے تھیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی اپنی تعلیم و تربیت میں ان تشبیہات کے انداز کو اپنائیں، بات کو مؤثر انداز میں پیش کریں۔ اللہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو اپنانے اور ان کے اسالیبِ تربیت کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔