ہمارے پیارے آقا  ﷺ ہمارے لیے رحمت بن کے آئے اور ساتھ ساتھ ہماری تربیت کرنے کے لیے بھی تشریف لے کے آئے، اپنے قول و فعل سے ہماری تربیت فرمائی اور ہمیں دنیا میں زندگی گزارنے کا سلیقہ دیا اور ہم سب کو چاہیے کہ حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ پڑھ کر تربیت حاصل کریں۔

(1)علم کو جادو سے تشبیہ دینا : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ

ترجمہ: حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے علم نجوم کا حصہ حاصل کیا اس نے جادو کا حصہ حاصل کیا جس نے اسے بڑھایا اتنا ہی اسے بڑھایا ۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4598)

علم نجوم سے مراد کہانت کا علم ہے کہ ستاروں سے علم ِغیب حاصل کیا جائے۔اسی علم کو جادو سے تشبیہ دینا اس کی انتہائی ذلت کے اظہار کے لیے ہے یعنی علم نجوم جادو کی طرح برا ہے جادو کفر ہے یا قریب کفر۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4598)

(2) تصویر سازی سے تشبیہ دینا: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُواذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيْرَةً

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو فرماتے سنا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق کی طرح گھڑنے بنانے لگے تو انہیں چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کریں یا ایک دانہ یا ایک جو پیدا کریں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4496)

یعنی اس تصویر سازی میں اللہ تعالیٰ سے تشبیہ یا اس سے مقابلہ کی بو ہے لہذا اس سے بچے یہ حکم اطاعت ہے ہم حکم کے بندے ہیں بے جان کی تصویریں بنانا درست ہے جاندار کی صورتیں بنانا حرام ہم کو بسرو چشم قبول ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4496)

(3) بادل کے ٹکروں سے تشبیہ دیتے: وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهٰى عَنِ الْقَزَعِ قِيلَ لِنَافِعٍ: مَا الْقَزَعُ قَالَ: يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصِّبِيِّ وَيُتْرُكُ البَعْضُ

ترجمہ: روایت ہے نافع سے وہ حضرت ابن عمر سے راوی فرماتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو سنا کہ آپ قزع سے منع فرماتے ہیں نافع سے کہا گیا کہ قزع کیا ہے فرمایا کہ بچے کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جاوے اور کچھ حصہ چھوڑ دیا جاوے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4426)

قزع قاف کے فتحہ سے بمعنی بادل کے ٹکڑے،اب اصطلاح میں سر کا بعض حصہ منڈوانے یا کترانے اور بعض رکھانے کوقزع کہتے ہیں اسے بادل کے ٹکڑوں سے تشبیہ دیتے ہوئے،یہ ممانعت بچوں بڑوں سب کے لیے ہے۔مجبوری کے حالات اس سے علیٰحدہ ہیں جیسے کبھی سر سام میں بیمار کا تالو کھول دیا جاتا ہے یعنی صرف بیچ کھوپڑی کے بال مونڈدیئے جاتے ہیں ویسے بلاضرورت ممنوع ہے کہ کراہت تنزیہی ہے،انگریزی حجامت بھی قزع ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4426)

(4)خلاصہ سے تشبیہ دیتے: عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ

ترجمہ: حضرت معاذا بن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔

شاذّہ:وہ بکری ہے جو اپنی ہم جنسوں سے متنفر ہو اور گلے سے دور رہے۔قاصیہ:وہ جو متنفر تو نہ ہو چرنے کے لیے ریوڑ سے الگ ہوجائے۔ناحیہ:وہ جو ریوڑ سے الگ تو نہ ہو مگر کنارے کنارے چلے۔خلاصۂ تشبیہ یہ ہے کہ دنیا ایک جنگل ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں،شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری تاک میں ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:184)

(5)جوتے کے تسمہ سے تشبیہ دیتے: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔

مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔حدیث پاک میں جس تسمے کا ذکر ہے وہ در اصل وہ تسمہ نہیں جو ہمارے یہاں مُراد لیا جاتا ہے بلکہ اس سے مُراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں داخل کرتا ہے (جیساکہ فی زمانہ انگوٹھے والی چپلوں میں یہ تسمہ بناہوا ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا انگوٹھا ڈالتا ہے) جوتے میں اگر یہ تسمہ نہ بنایا جائے تو آدمی کے لیے چلنا دشوار ہوجائے۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)