وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُؕ-    اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُۚ- وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ(۲۲) اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ(۲۳) ترجمۂ کنز الایمان: اور برابر نہیں زندے اور مُردے بےشک اللہ سناتا ہے جسے چاہے اور تم نہیں سنانے والے اُنہیں جو قبروں میں پڑے ہیں۔ تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو۔(پ 22، فاطر:22، 23)

تفسیر صراط الجنان : وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ : اور تم انہیں سنانے والے نہیں جوقبروں میں پڑے ہیں ۔ آیت کے اس حصے میں کفارکو مُردوں سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح مردے سنی ہوئی بات سے نفع نہیں اُٹھا سکتے اور نصیحت قبول نہیں کر سکتے، بد انجام کفار کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہدایت و نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔

یاد رہے کہ اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر اِستدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ آیت میں قبر والوں سے مراد کفار ہیں نہ کہ مردے اور سننے سے مراد وہ سننا ہے جس پر ہدایت کا نفع مُرَتَّب ہو، اور جہاں تک مُردوں کے سننے کا تعلق ہے تو یہ کثیر اَحادیث سے ثابت ہے۔ (تفسیرِ صراط الجنان جلد 8 ص 193)

پیارے اسلامی بھائیو ! رب ذوالجلال نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر امت کی تشبیہات کے ذریعے سے تربیت فرمائی اور تشبیہات کے متعلق تاجدارِ مدینہ ﷺ کے فرامین موجود ہیں، اسی ضمن میں پانچ احادیث ذکر کی جاتی ہیں:

(1) بال بکھرے ہوئے نہ رکھیں: حضرت سیدنا عطا بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار دو عالم ، شاہ بنی آدم، رسول اکرم نور مجسم ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے ۔ اتنے میں ایک شخص آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔ ہمارے میٹھے مدنی آقا ﷺ نے اس کی طرف اس انداز سے اشارہ کیا جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ آپ ﷺ اس کو بال درست کرنے کا حکم فرمارہے ہیں۔ وہ شخص بال درست کر کے واپس آیا سر کار مدینہ ﷺ نے فرمایا: "کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص بالوں کو اس طرح بکھیر کر آتا ہے گویا وہ شیطان ہے۔“ (موطا امام مالک ، کتاب الشعر، باب اصلاح الشعر، الحدیث ، 1819، ج 2، ص 435)

میٹھے اسلامی بھائیو! مندرجہ بالا حدیث مبارکہ میں سر اور داڑھی کے بالوں کو بکھرا ہوا اور بے ترتیب چھوڑنا نا پسندیدہ بتایا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ بالوں کا اکرام کیا کرو یعنی ان کو تیل اور کنگھی کے ذریعے درست رکھا کرو ۔ بلکہ بیان کی گئی حدیث پاک میں تو بکھرے ہوئے بال رکھنے والے کو شیطان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے لباس کو پاک وصاف رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے داڑھی اور سر کے بالوں کو بھی درست رکھا کریں۔ بہر حال ہمارا حلیہ سنتوں کے سانچے میں ڈھل کر ایسا ستھرا اور نکھرا ہوا ہونا چاہیے کہ لوگ ہمیں دیکھ کر ہم سے گھن نہ کریں بلکہ ہماری طرف مائل ہوں۔ ( سنتیں اور آداب ،ص75 مکتبۃ المدینہ )

(2) کنجوس اور سخی کی کہاوت: روایت ہے، حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، الفصل الاول، باب، خرچ کرنا اور بخل کی برائی، جلد 3 ص 81 حدیث 1768 مکتبہ اسلامیہ)

(3) ویران گھر کی طرح کون: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“( فیضانِ ریاض الصالحین باب قرآن پاک پڑنے کی فضیلت،جلد نمبر 7 حدیث نمبر 1000 مکتبۃ المدینہ )

(4) دین کو نقصان پہنچانے والی چیزیں: ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “( فیضانِ ریاض الصالحین جلد 4 ص 721 حدیث 485 مکتبۃ المدینہ)

(5) شکر گزار کھانے والا کس کی طرح ہے: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ شکر گزار کھانے والا صابر روزہ دار کی طرح ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، باب کھانوں کا باب، الفصل الثانی،جلد 6 ص 46 حدیث 4022 مکتبہ اسلامیہ )

اللہ پاک ہمیں بھی اچھے انداز میں سمجھانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ