انسانی ذہن کسی بات کو اس وقت
بہتر انداز میں سمجھتا ہے جب اسے کسی مشابہ چیز یا واضح تصویر کے ذریعے سمجھایا
جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے عظیم معلم، حضرت محمد ﷺ نے
اپنے طرزِ تربیت میں تشبیہات اور مثالوں کا کثرت سے استعمال فرمایا۔ آپ کا اندازِ
بیان نہایت مؤثر، فطری اور سامع کے ذہنی درجے کے مطابق ہوتا تھا، اور آپ اکثر بات
کو ایسے مثال کے ذریعے بیان فرماتے جس سے مفہوم دل میں اتر جاتا۔آپ ﷺ لوگوں کی عقل و فہم، معاشرتی حالات اور روزمرہ
کی چیزوں کو سامنے رکھ کر تشبیہات دیتے تاکہ مفہوم دلنشین ہو جائے۔
اسی
مناسبت سے چند احادیث پڑھیے:
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ
فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ روایت ہے حضرت
ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے
کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی
مثال نہیں۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح تجارتوں کا بیان ، جلد:4 ، حدیث نمبر:3018 )
دو شخصوں کی تشبیہ: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
-صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ
رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا
إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ
بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ
قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے
پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور
کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ
جائے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح زکوٰۃ کا بیان باب: خرچ کرنے اور بخل کی
برائی، جلد:3 ، حدیث نمبر:1864 )
اس حدیث میں تشبیہ کے حوالے سے
بتایا جارہا ہے کہ یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں دو شخصوں کی پوری حالتوں کو دوسرے دو
شخصوں کے پورے حال سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی کنجوس اور سخی کی حالتیں ان دو شخصوں کی
سی ہیں جن کے جسم پر دو لوہے کی زر ہیں ہیں،انسان کی خلقی اور پیدائشی محبت مال
اور خرچ کرنے کو دل نہ چاہنے کو زرہوں سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے زرہ جسم کو گھیرے
اور چمٹی ہوتی ہے ایسی محبت مال انسان کے دل کو چمٹی ہوتی ہے۔
سبحان الله ! کیا نفیس تشبیہ ہے یعنی بخیل بھی کبھی خیرات کرنے کا ارادہ تو کرتا
ہے مگر اس کے دل کی ہچکچاہٹ اس کے ارادہ پر غالب آ جاتی ہے اور وہ خیرات نہیں کرتا اور سخی کو بھی خیرات
کرتے وقت ہچکچاہٹ تو ہوتی ہے مگر اس کا ارادہ اس پر غالب آجاتا ہے اسی غلبہ پر سخی ثواب پاتا ہے پھر سخاوت کرتےکرتےنفس امارہ اتنا دب جاتا ہے کہ اس کو
کبھی خیرات پرہچکچاہٹ پیدا ہی نہیں ہوتی،یہ بہت بلند مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان
کھلے دل سے صدقہ کرنے لگتا ہے، ہر عبادت کا یہی حال ہے کہ پہلے نفس امارہ روکا
کرتا ہے مگر جب اس کی نہ مانی جائے تو پھر روکنا چھوڑ دیتا ہے،نفس کی مثال شیر
خوار بچے کی سی ہےجو دودھ چھوڑتے وقت ماں کو بہت پریشان کرتا ہےمگر جب ماں اس کی
ضد کی پرواہ نہیں کرتی تو وہ پھر دودھ نہیں مانگتا۔
رسول اللہ ﷺ کا
تشبیہات سے تربیت فرمانا ایک ایسا معجز اتی اسلوب تھا جو آج بھی تربیت اور تعلیم کے میدان میں مشعل راہ ہے۔ آپ کے اس انداز سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر
بات کو مؤثر انداز میں سمجھانا ہو، تو اسے تشبیہ اور مثال کے ذریعے بیان کرنا نہایت
کارگر ہے۔ موجودہ دور کے اساتذہ، والدین، اور رہنما اگر آپ ﷺ کے اس اسلوب کو اپنائیں
تو تعلیم و تربیت کا عمل نہ صرف آسان بلکہ مؤثر بھی ہو جائے گا۔ان شاءاللہ
Dawateislami