محمد ابدال عطاری (درجہ سادسہ مرکزی
جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر
ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
رسولِ اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے
”جوامع الکلم“ عطا فرمائے، یعنی آپ ﷺ قلیل الفاظ میں کثیر معانی بیان فرماتے۔ آپ کی احادیث میں گہری حکمتیں اور نصیحتیں پوشیدہ
ہیں۔ تعلیم کو قریب اور آسان بنانے کے لیے آپ ﷺ تمثیل اور تشبیہ کے اسلوب کو استعمال فرماتے تاکہ سننے والا بات کو
فوراً سمجھ سکے اور اس کے دل پر اثر کرے۔ ذیل میں اس کے متعلق چند اہم احادیث ذکر
کی جاتی ہیں۔
(1) مسلمانوں کی مثال: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم
مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے
ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں
ہوتا ہے، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (بخاری،
کتاب الادب، باب رحمۃ الناس والبھائم، رقم الحديث 6011)
یہ تمثیل واضح کرتی ہے کہ
مسلمان ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہیں۔
(2) نیک اور برے ساتھی کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ
الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَجَلِيسِ السُّوءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ ترجمہ: نیک ساتھی کی مثال خوشبودار عطر والے کی سی ہے جبکہ برا ساتھی
لوہار کی بھٹی کی مانند ہے۔(بخاری، کتاب الذبائح و الصید ، باب المسک، رقم الحدیث:
5534)
یہ مثال اس بات کی تاکید ہے کہ
انسان اپنے دوستوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرے۔
(3) ہدایت اور علم کی مثال:حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ اللہ پاک نے جس ہدایت
اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے
اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور زمین کا کچھ حصہ
بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتو اللہ
پاک نےاس سےلوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا، دوسروں کو پلایااور
کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا، اس نے
نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔ (تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ پاک کے دین کو سمجھااور جس چیز کے ساتھ اللہ پاک نے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو اس نے
خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔ (اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ
جس نے اس (علم) کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے) اور اللہ پاک کی وہ ہدایت جس
کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہےاسے قبول نہ کیا۔ ‘‘ (مسلم، کتاب الفضائل، باب بیان مثل مابعث النبی من الھد والعلم، صحیح 1253، حدیث: 2282)
اس سے معلوم ہوا کہ لوگ علم سے
مختلف انداز میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔
(4) قرآن پڑھنے والے کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن پڑھنے والا مؤمن خوشبودار پھل کی مانند
ہے، جس کا ذائقہ اور خوشبو دونوں
اچھے ہیں۔(بخاری، کتاب فضائل القرآن،باب فضل القرآن علی سائر الکلام 5020 )
یہ مثال قرآن پڑھنے کی عظمت اور
اس کے نورانی اثر کو ظاہر کرتی ہے۔
(5) میری اور تمہاری مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری مثال اور میری امت
کی مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے آگ جلائی ہوئی ہو اور سارے کیڑے مکوڑے اور
پتنگے اس میں گرتے چلے جا رہے ہوں اور میں تمہاری کمروں کو پکڑے ہوئے ہوں اور تم
بلا سوچے اندھا دھند اس میں گرتے چلے جا رہے ہو۔ (مسلم، کتاب الفضائل، باب شفقتہ
علی امتہ و مبالغتہ فی تحذیرھم مما یضرھم، رقم الحدیث 5955)
یہ تمثیل اس بات کی دلیل ہے کہ
آپ ﷺ کی تعلیمات ہمیں جہنم سے بچانے کے لیے ہیں۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حضور
اکرم ﷺ نے بات کو سمجھانے کے لیے تمثیل و تشبیہ کا نہایت مؤثر انداز اختیار فرمایا۔
کبھی مؤمن کو خوشبودار پھل سے تشبیہ دی، کبھی برے دوست کو آگ کی بھٹی سے، اور کبھی
امت کو ایک جسم سے۔ یہ اسلوب نہ صرف بات کو واضح کرتا ہے بلکہ دلوں پر گہرا اثر
چھوڑتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان مثالوں کو یاد رکھ کر اپنی زندگی کو سنواریں۔
Dawateislami