محمد
اویس عطّاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فیضان جمال مصطفی واڑہ گجراں لاہور
،پاکستان)
رسول الله ﷺ کی
تعلیم و تربیت کا اسلوب جو اسلوب جامع ، مؤثر اور فطری اصولوں پر مبنی تھا۔ آپ نے انسانی ذہن کی ساخت اور نفسیات کو مدنظر
رکھتے ہوئے مختلف طریقے اختیار فرمائے
تاکہ تعلیم کا اثر دیر پا ہو۔ ان میں سے ایک نہایت مؤثر طریقہ تشبیہات (مثالوں) کا
استعمال تھا۔ تشبیہ کے ذریعے نا صرف مشکل مفاہیم کو آسان بنایا جاتا ہے بلکہ سامع
کے دل ودماغ پر اس کا گہرا اثر بھی ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی
چند مشہور تشبیہات:
(1) صحابہ کی مثال روشنی پھیلانے
والوں جیسی حدیث پاک میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی مثال
اس بارش کی طرح ہے، جس کے پہلے حصے یا آخری حصے میں خیر ہو۔ (سنن ترمذی ،کتاب
المثال ۔باب مثل امتی مثل المطر ،حدیث: 2869)
امت کو
بارش سے تشبیہ دی کہ جیسے بارش سے زمین زرخیز ہوتی ہے ویسے ہی امت سے خیرو بھلائی
پھیلتی ہے۔
(2) منافق کی کیفیت کو تشبیہ سے
بیان فرمایا: حدیث پاک میں
آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : منافق کی مثال اس بکری کی مانند ہے
جو دو ریوڑوں کے درمیان حیران ہو نہ ادھر کی نہ ہی اُدھر کی ۔ (صحیح مسلم ، کتاب
الایمان فصل: قول النبی: مثل المنافق ،حدیث: 2770)
(3) نماز قائم کرنے والا اور
اُس سے غافل:حضور ﷺ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال اس نہر کی طرح
ہے جو تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر جاری ہو اور وہ اس سے ہر دن پانچ مرتبہ نہائے تو
کیا اس کے جسم پر کوئی شئ (میل) رہے گئی ۔صحابہ نے عرض کیا نہیں ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازیں بھی اس کی طرح ہی ہے اللہ تعالٰی ان نمازوں کی
وجہ سے اس کی خطائیں مٹا دیتا ہے۔(صحیح مسلم،کتاب الصلاۃ،فصل: الترغیب فی الصلوات
الخمس ،حدیث نمبر (339/4)
(4) مومنوں کا باہمی تعلق:نبی
کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن مومن کے لیے اس عمارت کی طرح ہے جس کا بعض بعض کو مضبوط
کرتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو جوڑ
کر دکھایا ۔(صحیح بخاری ،کتاب المظالم ،باب نصر المظلوم ، حدیث:2446)
(5) نیک اور بد ساتھی کی مثال:حضور ﷺ نے
فرمایا کہ نیک ساتھی کی مثال عطر فروش کی مانند ہے، وہ یا تو تمہیں کچھ دے گا یا
تم اس سے کچھ خرید لوگے، یا تمہیں خوشبو ملے گی اور بد ساتھی کی مثال لوہار کی بھٹی کی طرح ہے وہ یا تو تمہارے کپڑے
جلا دے گی یا تم اس سے بد بو پاؤ گے ۔ (صحیح مسلم ،کتاب البر و الصلۃ ،باب فصل فی
رجل صالح أو شر ، حدیث: 2628 )
تشبیہات کے مقاصد:
(1) فہم میں آسانی پیدا کرنا ۔
(2) توجہ اور دلچسپی قائم رکھنا
۔
(3) موثر یاد داشت پیدا کرنا ۔
(4) عملی پہلو کو اجاگر کرنا ۔
اللہ پاک ہمیں احادیث طیبات پڑھ
کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami