انسانی عقل و شعور کو کسی بات کی
گہرائی تک پہنچانے کے لیے مثالوں اور تشبیہات کا استعمال ہمیشہ سے ایک مؤثر ذریعہ
رہا ہے۔ قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے حقائق کو واضح کرنے کے لیے جگہ جگہ مثالیں
بیان فرمائیں، کیونکہ مثالیں پیچیدہ تصورات کو سادہ بنا دیتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ، جو سید المعلمین (تمام معلموں کے سردار) ہیں،
اپنی دعوت، تعلیم اور تربیت میں حکمت، اور نرمی کا بہترین نمونہ تھے۔ آپ ﷺ نے انسانی فطرت اور ذہن کی کیفیت
کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بات کو مؤثر بنانے کے لیے تشبیہات کا کثرت سے استعمال فرمایا۔ آپ ﷺ کی تشبیہات نہ صرف زبان و بیان کے لحاظ سے اعلیٰ
تھیں بلکہ ان میں گہری معنویت، فکرانگیزی اور تربیتی پہلو بھی موجود ہوتے
تھے۔ آپ ﷺ کی دی ہوئی مثالیں آج بھی دلوں
پر اثر کرتی ہیں اور رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
آئیے اس
کے متعلق چند احادیث پڑھیے:
ہبہ دے کر واپس لینے کی مذمت: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي
هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِترجمہ حدیث: "روایت ہے
حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے
بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔"( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)
اس حدیثِ مبارکہ میں رسول
اللہ ﷺ نے ایک انتہائی سخت اور عبرت انگیز تشبیہ کے ذریعے معاشرتی برائی کو واضح
فرمایا ہے کہ جو شخص کسی کو کوئی چیز دے کر، بعد میں اسے واپس مانگتا ہے وہ
انتہائی ذلیل حرکت کرتا ہے، حتیٰ کہ اس کی مثال اس کتے جیسی ہے جو قے کر کے پھر
اسے چاٹ لیتا ہے۔
یہ تشبیہ نہ صرف دلوں کو جھنجھوڑ
دینے والی ہے بلکہ اخلاقی گراوٹ کی انتہائی شکل کو ظاہر کرتی ہے۔ انسان جب کسی پر
احسان کرتا ہے، تو درحقیقت وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر
وہ احسان جتاتا ہے یا واپس مانگتا ہے تو یہ درست نہیں۔
لہٰذا اس حدیث سے ہمیں یہ سبق
ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اخلاق کو پاک رکھنا چاہیے، اور اپنے دیے ہوئے مال یا چیز کو
واپس لینے کا کبھی نہ سوچنا چاہیے۔
سخی اور کنجوس کی کہاوت: وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ
رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا
إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ
بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ
قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا" مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ترجمہ حدیث: "روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے۔ جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں
نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں۔ سخی جب خیرات کرنے
لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے
اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)
رسول اللہ ﷺ کی یہ
بلیغ تشبیہ ہمیں نہایت اہم اخلاقی اور روحانی سبق دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے بخیل اور سخی کی حالت کو زرہ
پہنے ہوئے دو آدمیوں کی مثال سے واضح فرمایا۔ یہ تشبیہ صرف ایک لفظی تصویر نہیں
بلکہ ایک عملی پیغام ہے کہ انسان کا دل اور باطن کس طرح بخل اور سخاوت سے متاثر
ہوتا ہے۔
یہ تشبیہات نہ صرف تربیتی حکمت
کا خزانہ ہیں، بلکہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے علم و عمل کی روشنی بھی ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ان احادیث سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنا کردار ایسا بنائیں جو اللہ کو
بھی پسند ہو اور مخلوق کو بھی فائدہ دے۔
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami