محمد
نواز ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
نبی کریم ﷺ ہر موقع پر اپنے اصحاب کی مختلف طریقوں سے
تربیت فرماتے رہے اور دیگر تشبیہات کے ساتھ تربیت فرمائی، آئیے چند وہ احادیث پڑھتے ہیں
جن میں نبی کریم ﷺ نے
اپنے اصحاب کی تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمائی:
(1) حضرت سیدنا موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے
روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور سلطان بحروبر نے ارشاد فرمایا: اچھے اور برے دوست کے مثال
مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے مشک اٹھانے والا یا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو
گے یا اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا وہ تمہارے کپڑے جلائے گا
یا اس سے بدبو آئے گی ۔ (صحیح بخاری کتاب الزبائح ولصید و تسمۃ علی الصید
ج2، حدیث 5534ص345 مکتبہ رحمانیہ)
(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : بخیل اور خرچ کرنے
والے کی مثال دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو خرچ
کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ ذرا کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آ جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے
نشان مٹا دیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی شے خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا
ہر حلقہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن کشادہ نہیں ہوتا۔ ( صحیح
بخاری ج1کتاب الزکاۃ ص276 حدیث نمبر 1443 )
(3) حضرتِ سَیِّدُنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’ ا گرتم اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایسا توکل کرو جس طرح اُس پر توکل
کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ضرور رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے پیٹ
نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس آتے ہیں ۔ ‘‘( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:79 )
(4) حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ (نیک) اَعمال میں جلدی کرو، اُن فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے۔آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے
گااور شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر ہوجائے گا ، وہ اپنے دین کو مال ِ دنیا کے
بدلے بیچے گا۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:87 )
(5) روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی ﷺ سے راوی فرماتے ہیں کہ جو اپنی قوم کی ناحق
پر مددکرے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہے جو گڑھے میں گر گیا تو اسے اس کی دم سے اوپر کھینچا
جاوے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6)
Dawateislami