لوگ دنیوی تربیت کا حصول
چاہتے اور کچھ لوگ دینی تربیت کا حصول چاہتے ہیں
اور دنیا میں 50٪ سے زائد لوگ دنیا کے
حصول میں لگے ہوئے ہیں مگر دنیوی تربیت کے ساتھ ساتھ دینی تربیت زیادہ اہم ہے اور
دینی تربیت کا بہترین ادارہ در مصطفیٰ ﷺ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے
اپنی امت کی دینی تربیت کے لیے بہت سے طریقے اور انداز اختیار فرمائے ہیں۔ تاکہ آپ کی امت امتحان آخرت میں کامیابی حاصل کر
سکے۔آج ہم اپنے آخری نبی ﷺ کے
اس انداز بابرکت کا مطالعہ کریں گے جس میں رسول اللہ ﷺ نے
انداز تشبیہات اختیار فرمایا۔چنانچہ
(1) کتے کا قے چاٹنے سے بھی بدتر شخص:وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ
فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ یعنی روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ
ﷺ نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے
پاس کوئی مثال نہیں۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، تجارتوں کا بیان، باب:
پچھلے باب کا تتمہ، جلد 4، حدیث نمبر 3018)
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ
اگر ہم نے کسی کو کوئی تحفہ دیا ہے تو اس کو واپس نہیں لینا چاہیے کہ ایسا شخص اس
کتے سے بھی بدتر ہے جو اپنی قے (یعنی vomit) کر کے چاٹ لے۔
(2) یعنی حرص و حب جاہ کی مذمت: عَنِْ
کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ
غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ
لِدِيْنِهِ
یعنی: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن
مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں
پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے
ہیں ۔ “ ( فیضان ریاض الصالحین، زھد و فقر
کی فضیلت، جلد 4، حدیث نمبر 485)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے
کہ مال و دولت اور عزت و شہرت کی خواہش انسان کے دِین کے لئے بہت زیادہ خطر ناک ہے
نیز مال و دولت سے ناجائز محبت کرنے والا حلال و حرام میں امتیاز نہیں کرتا۔
(3) عالم اور عابد کے متعلق دلچسپ تشبیہ: وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ
لِرَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا
عَابِدٌ وَالآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَضْلُ الْعَالِمِ
عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلٰی أَدْنَاكُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ
وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى الْنَّمْلَةَ فِي
جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ"
یعنی روایت ہے ابو امامہ باہلی
سے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک
عابد دوسرا عالم ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے
میری فضیلت تمہارے ادنی پر پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین
والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوارخوں میں اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں
لوگوں کو علم دینی سکھانے والے پر۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، علم کی
کتاب، باب علم کا بیان، جلد 1 حدیث نمبر 213)
(4) جنت جوتوں کے تسموں سے زیادہ قریب ہے: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ
اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ یعنی حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے
ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے
اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘ ( فیضانِ ریاض الصاحین، باب مجاہدہ کا بیان، جلد 2، حدیث
نمبر 105)
(5) ویران گھر:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ
الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ
مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ یعنی حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن
عباسر َضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے
ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“( فیضانِ ریاض
الصالحین، کتاب الفضائل باب قرآن پاک پڑھنے کی فضیلت، جلد 7، حدیث نمبر 1000)
اس حدیثِ پاک کے تحت
مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ
رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی
قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد
تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران
ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔
ان تمام احادیث مبارکہ کا
مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی امت کی تربیت کے لیے کس
قدر تشبیہات بیان فرمائی ہیں تاکہ آپ ﷺ کی
امت امتحان آخرت میں کامیابی حاصل کر سکے۔ ان احادیث مبارکہ کے علاوہ اور بہت سی
احادیث مبارکہ ہیں جن میں خاتم الانبیاء ﷺ نے تشبیہات سے امت مسلمہ کی تربیت
فرمائی مگر اس چھوٹے سے مضمون میں انہیں سمیٹنا ممکن نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں مذکورہ احادیث پاک کے مطابق
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami