نبی کریم ﷺ   تشبیہات (مثالوں) کے ذریعے دین کی باتیں لوگوں کو سمجھاتے تھے، تاکہ عام فہم انداز میں پیچیدہ باتیں بھی لوگوں کے دل میں اُتر جائیں۔

قرآن مجید میں تشبیہ کی مثال: اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ- مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌؕ- اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍؕ-اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ ترجمہ کنزالایمان: اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے۔ (پ18، النور: 35)

اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے نور کو ایک چراغ کے ذریعے سمجھایا۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ کی ہدایت دلوں کو روشنی بخشتی ہے، جیسے چراغ اندھیرے میں روشنی دیتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں تشبیہات:

(1) علم اور ہدایت کی مثال: مثلی و مثل ما بعثني الله به كمثل رجل أتى قومًا، فقال: يا قوم، إني رأيت الجيش بعيني، وإني أنا النذير العريان (صحیح بخاری، حدیث 6091) ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: میری اور اس ہدایت کی مثال جو اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، اس آدمی کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے: ’’اے میری قوم! میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، میں تمہیں واضح خبردار کرنے والا ہوں، لہٰذا بھاگ نکلو۔‘‘

یہ مثال واضح کرتی ہے کہ نبی ﷺ انسانیت کو خطرے (آخرت کے عذاب) سے خبردار کرنے والے ہیں، جیسے ایک شخص خطرے کی صورت میں اپنی قوم کو خبردار کرتا ہے۔

(2) نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال: مثل الجليس الصالح والسوء كحامل المسك ونافخ الكير (صحیح بخاری، حدیث 5534 / صحیح مسلم) ترجمہ: نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال مشک بیچنے والے اور لوہار کی ہے۔ مشک بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو دے گا، یا تم خرید لو گے، یا کم از کم خوشبو پاؤ گے۔ جبکہ لوہار یا تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس کی بدبو محسوس کرو گے۔

یہ حدیث انسان کے ساتھی کے اثر کو بیان کرتی ہے۔ نیک دوست فائدہ دیتا ہے، جبکہ بُرا دوست نقصان۔