نبی کریم حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے   معلم کائنات بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے وہ حکیمانہ طریقے اپنائے جو نہ صرف عقل کو قائل کرتے تھے بلکہ دل کو بھی متاثر کرتے تھے۔ ان میں سے ایک مؤثر اور دلنشین طریقہ تشبیہات کے ذریعے تربیت ہے۔ تشبیہات یعنی کسی بات کو سمجھانے کے لیے اسے کسی معروف چیز سے تشبیہ دینا یہ ایسا انداز ہے جو بات کو نہایت سادہ، واضح اور یادگار بنا دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایمان، اخلاق، عبادات اور اجتماعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ایسی تشبیہات بیان فرمائیں جو سننے والوں کے ذہن و دل پر گہرا اثر چھوڑتیں۔ آپ ﷺ کی دی گئی تشبیہات صرف الفاظ نہیں ہوتیں، بلکہ ان میں حکمت، مثال، اور عملی سبق چھپا ہوتا تھا، جو تربیت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔

احادیث کریمہ:

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ رَوَاهُ البُخَارِيُّ ترجمہ حدیث: روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۔(بخاری)( مراۃ المناجیح شرح مشکوت المصابیح جلد 4 حدیث نمبر 3018)

حدیث:وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ترجمہ حدیث:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے (مسلم،بخاری)( مراۃ المناجیح شرح مشکوت المصابیح جلد 3 حدیث 1864)

حدیث: وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلٰی أَدْنَاكُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى الْنَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ترجمہ حدیث:روایت ہے ابو امامہ باہلی سے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوارخوں میں اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں لوگوں کو علم دینی سکھانے والے پر ۔ اسے ترمذی نے روایت کیا۔ ( مراۃ المناجیح شرح مشکوت المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 213)

نبی کریم ﷺ کا تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانا نہایت مؤثر، حکیمانہ اور فطری انداز تھا، جو آج بھی تعلیم و تبلیغ کے میدان میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے عام فہم اور دل سے قریب مثالوں سے لوگوں کو نہ صرف قائل کیا بلکہ ان کے دلوں میں بات کو راسخ کر دیا۔ آپ کی تشبیہات علم و حکمت سے بھرپور ہوتی تھیں، جو ہر طبقے کے لیے یکساں مؤثر ثابت ہوتیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ تعلیم و تربیت کے عمل میں اس نبوی اسلوب کو اپنائیں، تاکہ بات صرف زبان سے نہ نکلے بلکہ دل تک پہنچے اور عمل کا ذریعہ بنے۔

اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ