رسول اکرم ﷺ بہترین
معلم، مربی، رہنما ہیں ۔ آپ نے جس طریقے سے انسانوں کی تربیت فرمائی، وہ
نہایت حکمت، شفقت، فہم اور فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ تھا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نہ صرف
واضح اور بامعنی تھیں بلکہ آپ ان تعلیمات کو مؤثر اور دلنشین بنانے کے لیے تشبیہات
کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔
تشبیہ (مثال) ایک ایسا فصیح اور
بلاغت سے بھرپور اسلوب ہے جو پیچیدہ مفاہیم کو آسان بنا دیتا ہے۔ یہ طریقہ تفہیم
کو گہرا اور مؤثر بناتا ہے، اور سننے والے کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
تشبیہ کا مفہوم: تشبیہ سے مراد کسی نادیدہ، غیر محسوس یا پیچیدہ حقیقت کو کسی معروف
اور محسوس شے سے اس انداز میں بیان کرنا ہے کہ سامع یا قاری فوراً مفہوم کو سمجھ
جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی فطری انسانی رجحان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تشبیہات کو ذریعۂ
تعلیم بنایا۔
رسول اللہ ﷺ کے تشبیہی اسلوب کی حکمتیں:
1 افہام و تفہیم میں آسانی
2 دل پر اثر پیدا کرنا
3 یادداشت کو مضبوط بنانا
4 عبرت و نصیحت کو گہرائی دینا
5 جذبہ بیدار کرنا
تشبیہات کی چند نمایاں مثالیں:
نیک اور بُرے ساتھی کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھےاور بُرے ہم نشیں کی مثال مُشک کے
اُٹھانے اور بھٹّی سُلگانے والے کی سی ہے مُشک والا تمہیں مُشک ویسے ہی دے گا یاتم اس سے خریدو گے ، اور
کچھ نہ سہی تو خوشبو تو آئے گی اور بھٹّی
دھونکنے والا تمہارے کپڑے جلادے گا یاتم اس سے بدبوپاؤ گے۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب فی
العطار وبیع المسک، ۲/۲۰، الحدیث: ۲۱۰۱)
یہ تشبیہ معاشرتی اثرات کو
سمجھانے کے لیے نہایت مؤثر ہے کہ صحبت انسان کے اخلاق و کردار پر کس قدر اثر ڈالتی
ہے۔
نماز کی اہمیت کی تشبیہ: آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کے صِحْن میں نہر ہو ، ہر روز وہ 5
بار اُس میں غُسْل کرے تو کیا اُس پر کچھ مَیْل رہ جائے گا ؟ لوگوں نے عَرْض کی: جی
نہیں ۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: نَماز
گُناہوں کو ایسے ہی دھو دیتی ہے جیسا کہ پانی مَیل کو دھوتا ہے۔ ( ابن ماجہ ، ۲ / ۱۶۵ ، حدیث: ۱۳۹۷)
یہ ایک انتہائی سادہ مگر گہری
تشبیہ ہے جس سے نماز کی روحانی صفائی کو ذہن نشین کروایا گیا۔
دنیا کی حقیقت کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عُمَررَضِیَ اللہُ
عَنْہُمَا بیان کرتےہیں کہ اللہ پاک کےآخری نبی ﷺ نے میرا کاندھا پکڑکرارشادفرمایا:کُنْ فِی الدُّنْیَاکَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْکَعَابِرِ
سَبِیْلٍ یعنی دنیا میں اس طرح رہو گویا
کہ تم پردیسی یامسافرہو۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبی کن فی الدنیا…الخ، 4/
223، حدیث:6416)
یہ تشبیہ دنیا کی ناپائیداری
اور عارضی حیثیت کو واضح کرتی ہے اور انسان کو آخرت کی تیاری کی طرف راغب کرتی ہے۔
تربیت کا جامع انداز: آپ ﷺ کی تربیت کا انداز صرف تشبیہات
تک محدود نہ تھا بلکہ آپ موقع، مزاج اور ماحول کے مطابق مختلف اسالیب اختیار
فرماتے۔ تشبیہات میں وہ نفسیات، حکمت، زبان کی فصاحت اور ذہن پر گہرے اثرات کو
بروئے کار لاتے۔ آپ نہ صرف حقائق بیان کرتے بلکہ سامع کے قلب و دماغ میں اُتر جانے
والی مثالوں سے اس کی اصلاح کرتے۔
تشبیہات کی اثر پذیری: تشبیہات چونکہ محسوسات کے ذریعے
نامحسوسات کو سمجھاتی ہیں، اس لیے یہ
انسان کی یادداشت پر گہرا نقش چھوڑتی ہیں۔ آج بھی ماہرینِ تعلیم اس بات کو تسلیم
کرتے ہیں کہ مثالوں کے ذریعے تعلیم دینا سیکھنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے اور رسول
اللہ ﷺ نے اس کو 1400 سال قبل ہی عملًا ثابت کر دیا۔
رسول اللہ ﷺ کا اسلوبِ تربیت
فطرت انسانی سے ہم آہنگ، اثرانگیز، اور لازوال حکمتوں سے بھرپور تھا۔ تشبیہات کا
استعمال آپ کی تعلیمات کا نہایت اہم پہلو
تھا، جس کے ذریعے آپ ﷺ نے گہرے مفاہیم کو عام فہم انداز میں پیش کیا۔ یہ انداز نہ
صرف تعلیم کے لیے مؤثر تھا بلکہ تربیت، نصیحت، دعوت اور تزکیہ نفس کے لیے بھی نہایت
کارگر ثابت ہوا۔
اللہ عزوجل ہمیں حضور کی احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں قرآن و حدیث
کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami