تربیت کے بے شمار نت نئے انداز ہیں تربیت کسی بھی چیز سے کی جا سکتی ہے مثلاً قول کے ذریعے اور فعل کے ذریعے تاکہ سمجھنے والے اچھے سے سمجھ سکیں تمام کائنات کے تربیت کرنے والے ایک جانب محبوب خدا آقا  کریم خاتم النبیین ﷺ کا مبارک انداز ایک جانب، جن کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ ان کی زندگی ایک کامل نمونہ ہے جن کی ہر بات وحی خدا ہے آپ ﷺ نے اپنی امت کو تشبیہات کی صورت میں بھی تربیت فرمائی، آئیے ہم انہیں جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کس طرح ہماری تربیت فرمائی:

( 1)دے کر واپس لینے والا: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ رَوَاهُ البُخَارِيُّ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں (بخاری) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،تجارتوں کا بیان باب: پچھلے باب کا تتمہ، جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)

) 2)کنجوس اور سچی کی کہاوت: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے (مسلم،بخاری)( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، زکوٰۃ کا بیان/باب خرچ کرنا اور بخل کی برائی ،جلد:3 ، حدیث نمبر:1864)

( 3)قرآن کی مثال: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِترجمہ: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین کتاب الفضاءل جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

( 4)جنت بھی قریب ہے اور جہنم بھی: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ (فیضان ریاض الصالحین باب مجاھد کا بیان ، جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ