اللہ رب العزت انسان کو فہم و ادارک کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ اور تعلیم و تربیت کے عمل میں مؤثر انداز بیان نہایت اہمیت کا حاصل ہے ۔  آپ ﷺ نے مختلف طریقوں سے انسانیت کی رہنمائی فرمائی جن میں تشبیہات یعنی کسی بات کو کسی مثال یا چیز سے تشبیہ دینا ایک نہایت موثر اور دل نشین اسلوب ہے ۔ آئیے ہم اس مضمون کے متعلق چند احادیث پڑھتےہیں:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نیک اور برے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے عطر بیچنے والا اور لوہار کی بھٹی والا عطر بیچنے والا یا تو تمہیں کچھ دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا کم از کم خوشبو پاؤ گے اور لوہار کی بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا بدبو محسوس کرو گے۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 5534)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ وقت کی نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو تم میں سے کسی دروازہ کے سامنے ہو اور وہ ہر دن پانچ مرتبہ اس میں غسل کرے یا اس کے جسم پر کچھ میل باقی رہ جائے گا صحابہ نے عرض کیا: "نہیں"تو آپ ﷺ نے فرمایا یہی مثال پانچ وقت کی نمازوں کی ہے اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 528)

تشبیہات کے ذریعے رسول اللہ ﷺ نے دین کی باریکیوں کو عام فہم انداز میں لوگوں تک پہنچایا آپ کی تشبیہات نہ صرف ذہن نشین ہونے والی ہوتی بلکہ ان میں حکمت فصاحت اور مقصدیت بھی نمایاں ہوتی۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبیین ﷺ