قرآن کریم اللہ عزوجل کا ایک ایسا لاریب کلام ہے جس میں اس نےمختلف امور سے متعلق لوگوں کی راہنمائی فرمائی چنانچہ نیکی کی دعوت کس طرح دی جائے اسکے بارےمیں ارشاد فرمایا: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ
الْحَسَنَةِ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت
کے ساتھ بلاؤ ۔(پ14، النحل: 125 )
حضور ﷺ کی مبارک حیات ِطیبّہ قرآن کے احکامات پر عمل کرنے کا ایک بہترین نمونہ ہے ، جیسا کہ
اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ
رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔(پ21، الاحزاب:21)
لہذا آپ ﷺ کا اندازِتعلیم و تبلیغ ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے اور آپ
ﷺ کے اندازتعلیم و تربیت میں ہمیں تشبیہات
کا استعمال بھی نظر آتا ہے اور کسی چیز کی
حقیقت بیان کرنے یا کوئی بات ذہن نشین کرنے کے لیے تربیت کا ایک اصول تشبیہ دے کر سمجھانا
بھی ہے۔ ذیل میں تشبیہات سے تربیت کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
(1) ختم نبوت کو محل کی آخری اینٹ سے تشبیہ دی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے
فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیاءعلیھم السلا م کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا تو اس کو اچھا اور خوبصورت بنایامگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ
باقی چھوڑ دی تو لوگ اس کے اردگرد گھومتے اور تعجب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ اینٹ
کیوں نہیں لگائی گئی حضور ﷺ نے فرمایا:وہ اینٹ میں ہو ں اور میں خاتم النبیین ہوں
۔(صحیح بخاری ،کتاب المناقب،بَابُ
خَاتِمِ النَّبِيِّينَ صلى الله عليه وسلم،ج2،ص422 حدیث:3535،دارالکتب العلمیہ بیروت)
(2)مسلمان کی کھجور کے درخت کے ساتھ تشبیہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:درختوں میں ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں
جھڑتے یہ مومن کی مثال ہے تو مجھے بتاؤ وہ کون سادرخت ہے ؟عبداللہ کہتے ہیں: لوگ
اسے جنگلوں کے درختوں میں ڈھونڈنے لگے ،اور میرے دل میں آیا کہ یہ کھجور کا درخت
ہے ،مجھے شرم آگئی پھر صحابہ کرام علیھم
الرضوان نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ
ہی ہمیں بتائیں اس کے بارے میں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے ۔ (صحیح
البخاری،کتاب العلم ،بَابُ
قَولِ الْمُحَدِّثِ: حَدَّثَنَا أَوْ أَخْبَرَنَا وَأَنْبَأَنَا،ج1،ص24،حدیث:61 دارالکتب
العلمیہ بیروت)
(3)مسلمانوں کو ایک جسم سے تشبیہ:
رسول الله ﷺ نے حکمت و دانائی
کی اہمیت سمجھانے کے لیے اسے گمشدہ خزانے سے تشبیہ دی اور فرمایا: حکمت مؤمن کا گم
شدہ خزانہ ہے لہذا مؤمن اسے جہاں پائے وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (سنن ترمذی
،ج4،ص 620-621،حدیث نمبر:2882 المكتب الإسلامي بيروت)
(4)صحابہ کرام علیہم الرضوان
کو ستاروں سے تشبیہ:صحابہ
کرام علیہم الرضوان کی شان و عظمت کے بارے میں تربیت
فرماتے ہوئے انہیں تاروں سے تشبیہ دی فرمایا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ میرے صحابہ تاروں کی مانند ہیں
تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ۔ (سنن ترمذی ،ج3،ص
1696،حدیث نمبر:6018 المكتب الإسلامي بيروت)
(5)ظلم کی اندھیرے سے تشبیہ: حضور رحمت عالمﷺ نے ارشاد فرمایا: ظلم قیامت کے دن اندھیرا ہو گا۔ (سنن ترمذی ،ج
4،ص121، حدیث نمبر:2149 دار الرسالۃ
العالمیۃ)
Dawateislami