محمد
فیضان علی عطاری (درجہ سادسہ مرکزی
جامعۃُ المدينہ فیضان مدینہ فیصل آباد ، پاکستان)
حضور اکرم ﷺ کی ذات پاک کامل و
اکمل ہے، آپ ﷺ معلم اعظم اور مربی ہیں۔ آپ
ﷺ نے زندگی کے ہر پہلو کے متعلق ہماری تربیت
فرمائی جس کے لیے آپ نے کئی موثر اور سہل
طرق اختیار فرمائے مثلاً کبھی اشاروں سے،کبھی مثالوں سے اسی طرح ایک اسلوب تشبیہ
کے ذریعے تربیت فرمانا بھی اختیار فرمایا کہ ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دے کر
سمجھایا تاکہ بات آسانی سے سمجھ آ سکے۔ اسی
مناسبت سے پانچ فرامینِ مصطفیٰ ﷺ ملاحظہ فرمائیں:
(1) مدینہ کو مکہ سے تشبیہ دی : أَنَّ رَسُولَ اللّٰه ﷺ قَالَ: إِنِّی حَرَّمْتُ
المَدِیْنَةَ کَمَا حَرَّمَ إِبرَاھِیمُ مَکَّةَ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں مدینہ منورہ کو حرم بناتا ہوں جیسے حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرم بنایا۔ (بخاری،کتاب البیوع،رقم الحدیث
2129،ص 554)
(2) سفید بال کو کالے بیل سے تشبیہ دی: عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنہ
قَالَ قاَلَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: إِنَّ الجَنَّةَ لَا یَدْخُلُهَا اِلاَّ نَفْسٌ
مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي الشِّركِ اِلاَّ كَالشَعْرَةِ البَيْضَاءِ فِي
جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے
فرمایا: بے شک جنت میں صرف مسلمان داخل ہوگا اور وہ مسلمان شرک کرنے والوں میں سے
اس طرح نمایاں ہوگا جیسے ایک سفید بال کالے بیل کی کھال میں۔(بخاری،کتاب
الرقاق،رقم الحدیث 6528،ص 1602)
(3) فتنوں کو بارش کے قطروں سے تشبیہ دی: عَنْ أُسَامَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْہُ قَالَ رَسُولُ
اللّٰهِ ﷺ: اِنِّی لأَرَی مَوَاقِعَ الفِتَنِ خِلاَلَ بُیُوتِکُمْ کَمَوَاقِعِ
الْمَطَرِ حضرت اسامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سرکار ﷺ نے فرمایا:
میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں کی جگہوں میں فتنے ایسے گر رہے ہیں جیسے بارش کے
قطرے۔ (بخاری،کتاب فضائل المدینہ،باب آطام المدینہ،رقم الحدیث 1878،ص 498)
(4) جنتی بالا خانوں کی مثال : عَنْ سَھْلٍ عَنِ النَبِیِّ صلی الله علیہ وآلہ وسلم
قَالَ: إِنَّ أَھْلَ الجَنَّةِ لَيَتَراءَوْنَ الغُرْفَ فِي الجَنَّةِ كَمَا
تَتَرَاءَوْنَ الكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ
سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جنت میں بالا خانے اس طرح نظر آئیں گے جیسے
تم آسمانی ستاروں کو دیکھتے ہو۔(بخاری،کتاب الرقاق،باب الصفۃ الجنۃ والنار،رقم
الحدیث 6555،ص 1607)
(5) جنت و دوزخ کے قرب کی مثال : عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنہ قَالَ
رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: الجَنَّةُ أَقْرَبُ اِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ
وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ حضرت عبد الله بن مسعود رضی
الله عنہ سے روایت ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ
قریب ہے اور اسی طرح سے دوزخ بھی۔(بخاری،کتاب الرقاق،باب الجَنَّةُ أَقْرَبُ
اِلَى۔۔۔،رقم الحدیث 6488،ص 1594)
پیارے اسلامی بھائیو! حضور ﷺ کا
تشبیہات سے تربیت فرمانا نہ صرف ایک بہترین طریقہ ہے بلکہ یہ ہماری عقلوں کے مطابق
بھی ہے ۔
الله پاک عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami