محمد
عثمان سعید( دورہ حدیث مرکزی
جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
تشبیہ و تمثیل ایک ایسا جاندار
اسلوبِ بیان ہے جو صرف معانی کو واضح نہیں کرتا بلکہ سننے والے کے دل و دماغ پر دیرپا
اثر بھی چھوڑتا ہے۔ آخری نبی ﷺ نے دعوتِ اسلام،تعلیم و تربیت اور اصلاحِ امت
کے لئے تشبیہات کو بھی استعمال فرمایا۔ آپ ﷺ نے مشکل مضامین کو آسان اور گہرے
مفاہیم کو عام فہم بنانے کے لیے اس اسلوب کو اپنا کر امتِ مسلمہ کے لیے رہنمائی
اور تربیت کی روشن مثالیں قائم کردیں جو نہ صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیم
و تربیت کے لیے مفید ثابت ہوئیں بلکہ قیامت تک آنے والے لوگوں کےلئے بھی کامیابی و
کامرانی کا ذریعہ بنی ۔ آئیے چند ایسی
احادیثِ مبارکہ پڑھیئے جس میں نبی کریم ﷺ نے تشبیہات کو استعمال فرما کر
ہماری اصلاح فرمائی:
(1) مسلمان کو دیوار کی اینٹوں کی ساتھ تشبیہ: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے ایسا ہے جیسے دیوار کی اینٹیں ایک دوسرے کے لیے۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں
ہے:الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ
كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے
ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہے کہ ایک کو دسرے سے قوت پہنچتی ہے۔(صَحِیْحُ
الْبُخَارِیْ،كِتَابُ الْبِیُوعِ ،بَابُ نَصْرِ المَظْلُومِ وَالغَصْبِ،بَابُ
نَصْرِ المَظْلُومِ: حدیث 2446،صفحہ نمبر:529،جلد نمبر:1)
اس حدیث مبارکہ میں مسلمانوں کو
آپس میں اتحاد و اتفاق اور ایک دوسرے کی مدد و نصرت کی ترغیب دی گئی ہے ۔
(2) عورت کی ٹیڑھی پسلی کے ساتھ تشبیہ: حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو
حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیا اس لیے عورت کو پسلی کے
ساتھ تشبیہ دی گئی۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا وَإِنْ
اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ یعنی عورت مثل پسلی کے ہے ، اگر تم اسے سیدھا کرنا
چاہوگے تو توڑ دوگے اور اگر اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہوگے تو اس کے ٹیڑھ پن
کے ساتھ ہی فائدہ حاصل کرو گے۔(صحیح بخای،كِتَابُ
النِّكَاحِ،بَابُ المُدَارَاةِ مَعَ النِّسَاءِ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: إِنَّمَا
المَرْأَةُ كَالضِّلَعِ،حدیث:5184،جلد:2،صفحہ
نمبر:275)
معلوم ہوا کہ ازدواجی زندگی میں
عورت کی نفسیات کو سمجھ کر اس کے ساتھ نرمی و درگزر سے پیش آنا چاہیے ۔
(3) امانت دار شخص کو سو اونٹوں میں سے ایک عمدہ
سواری کے ساتھ تشبیہ: جس طرح سو اونٹوں میں سے سواری
کے قابل ایک اونٹ بڑی مشکل سے ملتا ہے اسی طرح کثیر لوگوں میں سے امانت دار شخص بھی
بڑی مشکل سے ملتا ہے ۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:إِنَّمَا النَّاسُ كَالإِبِلِ المِائَةِ لاَ تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا
رَاحِلَةً یعنی لوگوں کی مثال اونٹوں کی سی
ہے، سومیں بھی ایک تیز سواری کے قابل نہیں ملتا۔(صحیح بخاری،كِتَابُ الرِّقَاقِ،بَابُ رَفْعِ الأَمَانَةِ،حدیث:6498،جلد:2،صفحہ نمبر 489)
اس فرمان عالیشان میں اعلی کردار ،معتبراور کمال صفات والے فرد
بننے کی تعلیم دی گئی ہے ۔
(4) صدقہ کو پانی سے تشبیہ: انسان بعض اوقات نادانستہ طور پر گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے، جن کی
معافی کے لیے شریعت نے مختلف ذرائع بیان کیے ہیں۔ انہی میں سے ایک بہترین عمل صدقہ
دینا ہے۔جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:وَالصَّدَقَةُ
تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ یعنی اور صدقہ گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ
کو بجھا دیتا ہے۔ (سنن ترمذی،أَبْوَابُ الْإِيمَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ،بَاب مَا جَاءَ فِی حُرْمَۃ الصَّلاَةِ حدیث:2616،جلد
نمبر: 1صفحہ نمبر:652)
اس حدیث پاک سے ہمیں یہ سبق
ملتا ہے کہ صدقہ صرف معاشرتی فلاح کے لیے نہیں بلکہ ہمارے گناہوں کی معافی کا مؤثر
ذریعہ بھی ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نبی کریم ﷺ کے
اسلوبِ بیان کو اپنانے اور اس پر عمل پیرا ہوکر لوگوں کو دین کی دعوت دینے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami