حضرت محمد  ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں اور ہمارے ہادی و رہنما ہیں۔ آپ ﷺ نے زندگی کے ہر معاملے میں ہماری تربیت ورہنمائی فرمائی ہے ۔ کبھی قول سے کبھی فعل سے کبھی اشاروں سے اور کبھی تشبیہات سے یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دے کر سمجھایا ہے ۔ذیل میں چند احادیث پیش کی جارہی ہیں جن میں تشبیہات سے تربیت فرمائی ہے :

(1) عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلاَ فِی غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَہَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِیْنِہِ ترجمہ: حضرت کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ (فیضان ریاض الصالحین، جلد4، حدیث:485، باب55 زہدوفقر کی فضیلت، صفحہ721، مکتبۃ المدینہ)

اس حدیث مبارکہ میں دو بھوکے بھیڑیوں کے بکریوں کو نقصان پہنچانے کو مال و دولت کی حرص اور حب جاہ (یعنی اپنی تعریف کو پسند) کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مال کی لالچ اور حب جاہ ایک مسلمان کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے ۔

(2) عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْاَنْصَارِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اللہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ اَرْضٍ فَلاَۃٍ ( بخاری شریف، جلد 2،حدیث :6309، صفحہ 460، باب التوبۃ، کتاب الدعوات) خادِمِ رسول حضرتِ انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے نَبِیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے بعد اچانک مل جائے ۔

اس حدیث پاک میں توبہ کی اہمیت واضح ہوئی کہ اللہ پاک توبہ کرنے والے سے کتنا زیادہ خوش ہوتا ہے اور توبہ کرنے والا گویا کہ ایسا ہے جسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔

(3) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ ‏كَالبَيْتِ الْخَرِبِ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000 مکتبۃ المدینہ) حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“

یہاں قرآن کریم کی تلاوت سے غافل انسان کی سینے کو ویران گھر سے تشبیہ دی ہے ۔اللہ پاک ہمیں قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(4) عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163 )

اس حدیث پاک میں انسان کو ٹڈیاں اور پروانوں سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح کوئی شخص ٹڈیاں اور پروانوں کو آگ میں گرنے سے بچاتا ہے اس طرح آقا ﷺ مسلمانوں کو جہنم سے بچاتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین