اللہ پاک نے حضور نبی اکرم  ﷺ کو ہدایت انسانی کے لیے مبعوث فرمایا، آپ ﷺ نے اپنے اعلی کردار عمدہ انداز سے اپنی امت کی تربیت فرمائی انہی میں سے ایک انداز تشبیہات سے تربیت فرمانا بھی ہے آئیے ! ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے اس انداز کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

(1)قرآن پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کی مشابہت : حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:995)

(2)ویران گھر سے مشابہت : ترجمہ:حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

(3)سخی اور کنجوس کی مشابہت : روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:1864)

(4) تحفہ دے کر واپس لینے والوں کی مشابہت : روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے صدقہ دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)