اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انسان کو عقل و شعور عطا فرمایا اور اسے حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت دی۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی ذہن پر وہی بات زیادہ اثر انداز ہوتی ہے جو سادہ اور مثال کے ذریعے بیان کی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ  قرآن کریم نے کئی مقامات پر مثالیں بیان فرمائیں تاکہ حقیقتیں اور احکام عوام الناس کے لیے قابلِ فہم بن جائیں۔ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے بھی اپنی دعوت و تربیت کے انداز میں کئی اسالیب اختیار فرمائے۔ ان میں سے ایک نہایت مؤثر اسلوب تشبیہات و تمثیلات کا استعمال فرمایا ہے ۔ آپ ﷺ کسی حقیقت کو محض بیان کرنے پر اکتفا نہ فرماتے بلکہ اس کے ساتھ ایسی مثال دیتے جو سننے والے کے ذہن و دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ۔ یہی حکمت ہے کہ آج بھی وہ تشبیہات ہم تک حدیث کی صورت میں محفوظ ہیں اور قیامت تک انسانوں کو سبق دیتی رہیں گی۔ آیئے ذیل میں ہم کچھ مثالیں ملاحظہ کرتے ہیں :

(1)نیک اور بُرے دوست کی مثال: وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رَيْحًا خَبِيْثَةً

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے مشک بردار یا تمہیں کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5010)

(2)اپنی اور امت کی مثال: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163)

(3) قرآن پڑھنے والے کی مثال: وَعَنْ أَبِيْ مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِيْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ،وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِيْ لَا يقْرَأ الْقُرْآن مَثَلُ التَّمْرِةِ لَا رِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلُوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ يقْرَأ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِيْ رِوَايَةٍ: الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهٖ كَالْأُتْرُجَّةِ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِيْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهٖ كَالتَّمْرَةِ

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: اس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھا کرتا ہے ترنج کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور لذت بھی اعلیٰ اور اس مؤمن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا چھوارے کی سی ہے جس میں خوشبو کوئی نہیں مزا میٹھا ہے اور اس منافق کی مثال جو قر آن نہیں پڑھتا،اندرائن(تمہ)کی سی ہے جس میں خوشبو کوئی نہیں اور مزا کڑوا اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان گھاس کی سی ہے جس کی خوشبو اچھی اور مزہ کڑوا (مسلم،بخاری) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ وہ مؤمن جو قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے ترنج کی طرح ہے اور وہ مؤمن جو قرآ ن پڑھے تو نہیں اس پر عمل کرے چھوارے کی طرح ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2114)

(4) دنیا کی حقیقت کو چراگاہ سے تشبیہ: عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِنَّ الدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ وَإِنَّ اللہَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیْہَا فَیَنْظُرُ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ فَاتَّقُواالدُّنْیَا وَاتَّقُواالنساء فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَۃِ بَنِی إِسْرَائِیلَ کَانَتْ فِیْ النساء (مسلم ،کتاب الرقاق، باب اکثر اھل الجنۃ الفقرائ…الخ ص۱۴۶۵،حدیث:۲۷۴۲) ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ نے تمہیں اس میں اپنا نائب بنایا ہے ، وہ تمہارے اعمال کودیکھتا ہے، لہٰذا دنیا اور عورتوں سے بچو، بے شک !بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں ہی کے باعث ہوا۔

یہ چند مثالیں ہیں جو ہمیں رسولُ اللہ ﷺ کے حکیمانہ اسلوبِ تربیت سے ملی ہیں۔ آپ ﷺ کی تشبیہات نے صحابۂ کرام کے دلوں میں دین کی حقیقتوں کو ایسے بٹھا دیا کہ وہ ایمان و عمل کے پیکر بن گئے۔

آج ہمیں بھی چاہیے کہ ہم حضور ﷺ کی اس سنت کو زندہ کریں۔ جب ہم نصیحت کریں تو مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے بات سمجھائیں۔ اس سے بات جلدی دل میں اُترتی ہے اور دیرپا اثر ڈالتی ہے۔

اللہ پاک ہمیں نبیِّ پاک ﷺکی تعلیمات پر عمل کرنے اور دوسرے مسلمانوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم