محمد
رضوان عطاری ( دورہ حدیث مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
نبی اکرم ﷺ کی سیرت
کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپ نے ایسی روحانی اور اخلاقی تربیت
فرمائی جو دلوں میں عشق الٰہی اور محبت رسول ﷺ پیدا کرتی ہے آپ کا ہر کلمہ حکمت کا خزانہ تھا اور آپ کی زبان سے نکلنے والی ہر تشبیہ انسان کی
روح کو جھنجھوڑ دیتی تھی آپ نے محسوسات
اور خیالات کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایسی تشبیہات اور امثال پیش کیں جو نہ صرف سننے
والے کو ایک گہرا سبق دیتی تھیں بلکہ اسے عملی زندگی میں بھی نافذ کرنے کی ترغیب دیتی
تھیں۔ آپ ﷺ کی یہ بلاغت ایسی تھی کہ آپ نے چند الفاظ میں بڑے سے بڑا اخلاقی فلسفہ بیان
کر دیا آپ کا مقصد صرف علم دینا نہیں تھا بلکہ دلوں میں وہ علم راسخ کرنا تھا۔
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ
النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ
وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا
أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ
رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا
أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نیک دوست اور برے دوست کی مثال ایسی
ہے جیسے کستوری بیچنے والا اور بھٹی جھونکنے والا، کستوری بیچنے والا یا تو تمہیں کوئی تحفہ دے گا یا
تم اس سے خرید لو گے یا تمہیں اس کی اچھی خوشبو ہی پہنچے گی اور بھٹی جھونکنے والا
یا تو تمہارے کپڑوں کو جلا دے گا یا تمہیں اس کی ناگوار بدبو محسوس ہو گی۔(صحیح
بخاری باب الذَبَائِحُ وَالصَّيْدُ حدیث نمبر: 5534)
نیک اور برے دوست کی مثال دوستی
ایک ایسا رشتہ ہے جو انسانی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے اسی لیے نبی ﷺ نے
ہمیں دوستوں کا انتخاب کرنے کی اہمیت کو ایک جامع اور موثر تشبیہ کے ذریعے سمجھایا، آپ ﷺ نے فرمایا: نیک اور برے ساتھی کی
مثال ایسی ہے جیسے کستوری بیچنے والا اور بھٹی جھونکنے والا ہو اس تشبیہ کو آگے بیان
کرتے ہوئے آپ ﷺ نے
فرمایا: کستوری بیچنے والے کے پاس سے تم
جاؤ گے تو یا تو اس میں سے کچھ خرید لو گے یا پھر اس کی خوشبو سے لطف اندوز ہو گے
اور بھٹی جھونکنے والے کے پاس سے جب تم جاؤ گے تو یا تو وہ تمہارے کپڑے جلا دے گا یا
پھر اس کی بدبو تمہیں ضرور محسوس ہو گی ۔
اس تشبیہ کی تفصیلی وضاحت:
Dawateislami