پیارے اسلامی بھائیو!  انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے ؟یقیناً یہی کہ اللہ پاک نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ، تو عبادت سے ناواقف انسان کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا پھر سب سے آخر میں تمام انسانیت کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنے پیارے حبیب سب سے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو معلِّم کائنات بنا کر بھیجا۔ رسول کریم ﷺ کا انداز تربیت کیسا کمال کا تھا کہ کبھی کوئی عمل کر کے دیکھاتے ہیں اور صحابہ کرام سے فرماتے ہیں یوں کرو ۔ کبھی آپ چند الفاظ میں اس طرح تربیت فرماتے گویا کے سمندر کوزے میں بند فرما دیتے۔ اور کبھی انسانی فطرت کے مطابق تشبیہات (ایک چیز کو دوسری چیز کے مشابہ کرنے) سے تربیت فرماتے کہ انسان اس چیز کو جلدی قبول کرتا ہے جس کا انسان مشاہدہ کر چکا ہو۔

آئیں ہم ان احادیث کریمہ کو پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں جن میں حضور ﷺ نے پیاری پیاری تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمائی ہے ۔

(1) عَنْ اَبِیۡ مُوسٰی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم قَالَ:الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ اَصَابِعِهِ حضرت سیدنا ابو موسٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حُضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا:ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیےعمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصّہ دوسرے حصّے کو تقویت دیتاہے ۔ ‘‘ پھر آپ ﷺ نےاپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرکے اشارہ فرمایا۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:222)

مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مرآۃ المناجیح میں مذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’یعنی مؤمنوں کے دنیاوی اور دینی کام ایک دوسرے سے مل جل کر مکمل ہوتے ہیں جیسے مکان کی دیوار ایک دوسرے سے مل کر مکان مکمل کرتی ہے۔ (آپ ﷺ نے)ایک ہاتھ شریف کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں داخل کردیں یعنی گتھا دیں یہ سمجھانے کے لیے کہ جیسے یہ انگلیاں ایک دوسرے میں داخل ہوگئیں ، ایسے ہی مسلمان ایک دوسرے میں گتھے ہوئے ہیں کہ یہ کبھی بے تعلق نہیں ہو سکتے۔ گتھانے والے یا تو راوی حدیث حضرت سیدنا ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ ہیں یا حضور ﷺ خود ہیں۔ یہ مثال یہ بتانے کے لیے ہے کہ مسلمانوں کے بعض کے بعض پر حقوق ہیں۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:222)

(2) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الَّذِيْ لَيْسَ فِيْ جَوْفهٖ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طر ح ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

ویران گھر سے تشبیہ دینے سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر

آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یادہے

جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہےعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی فرماتے ہیں:قرآن کا سینے میں جمع کرنا گویا اسے آباد کرنا اور قلت وکثرت کے لحاظ سے مزین کرنا ہے۔ جب دل قرآن کی ضروری تصدیق،اسے حق سمجھنے،اس کے ذریعے اﷲ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں غوروفکر کرنے اور اس کی محبت وصفات میں نظر کرنے سے خالی ہوگاتو وہ دل ویران گھر کی طرح ہوگا جو خوبصورتی اور سامان سے خالی ہوتا ہے۔ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِی فرماتے ہیں:ظاہراً اس حدیث سے مراد یہ ہے جسے اتنا بھی قرآن یاد نہ ہو جس سے نماز درست ہوسکے اس کا سینہ ویران گھر کی طرح ہے۔بعض علما نے اس کو عام رکھا ہے اور کہا ہے کہ ناظرہ یا حفظ کسی طرح قرآن نہ پڑھتا ہو اس کا سینہ ویران گھر کی طرح ہے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)