محمد
مبشر عبدالرزاق ( درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
اللہ پاک نے حضور اکرم ﷺ کو
ہدایت انسانی کے لیے ہادی برحق اور معلم کائنات بنا کر مبعوث فرمایا ، حضور
اکرم ﷺ نے مختلف مواقع پر اپنی امت کی تعلیم و تربیت فرمائی، آپ ﷺ کا اندازِ تربیت انتہائی دلنشین
اور نرالا ہوا کرتا تھا جس پر عمل دنیاوی واخروی کامیابی کا ذریعہ ہے انہی میں سے
ایک پہلو تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانا بھی ہے، آئیے ہم بھی رسول اللہ ﷺ اس
اندازِ تربیت کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔
(1) علم کی فضیلت: علم ایک نور ہے جو اللہ پاک کی خوشنودی دنیا و آخرت میں
کامیابی اور کثیر فضائل و برکات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ، رسول اکرم ﷺ نے
علم دین کی فضیلت کو ایک اعلی تشبیہ کے ساتھ واضح فرمایا چنانچہ :وَعَنْ
أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ
عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي
عَلٰی أَدْنَاكُمْ ترجمہ
: روایت ہے ابو امامہ باہلی سے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی
خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے تو حضور ﷺ نے
فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر ۔( سنن ترمذی ،کتاب العلم، ج 4، ص
314 ، حدیث 2694 ، دار البیروت العلمیہ )
(2) قرآن کریم اللہ پاک کی عظیم
اور لاریب کتاب ہے جس کا پڑھنا ،پڑھانا، سمجھنا یاد کرنا سب رضا الہی اجر عظیم اور
دل کی آباد کاری کا ذریعہ ہے جبکہ قرآن
کریم سے خالی سینہ دل کی ویرانی کا سبب ہے جیسا کہ رسول اکرم ﷺ کا
فرمان ہے: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ
فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ یعنی جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح
ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)
(3) مال ودولت کی حرص: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا
ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ
المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ ترجمہ: رسولُ
اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے اگر
بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت
کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔(ترمذی ،کتاب الزھد ،باب 43 ،ج4 ،ص 162 ،حدیث
2383)
حکیم الاُمَّت مُفتِی احمد یار
خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: ” ( حدیث مذکور میں ) نہایت نفیس تشبیہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ مؤمن کا دِین گویا
بکری ہے اور اس کی حرصِ مال ، حرصِ عزت گویا دو بھوکے بھیڑیے ہیں مگر یہ دونوں بھیڑیے
مؤمن کے دِین کو اس سے زیادہ برباد کرتے ہیں جیسے ظاہری بھوکے بھیڑیے بکریوں کو
تباہ کرتے ہیں کہ انسان مال کی حرص میں حرام و حلال کی تمیز نہیں کرتا ، اپنے عزیز
اوقات کو مال حاصل کرنے میں ہی خرچ کرتا ہے ، پھر عزت حاصل کرنے کے لیے ایسےجتن
کرتے ہیں جو بالکل خلافِ اسلام ہیں۔ ( مراۃ المناجیح، ج 7، ص 19)
(4) ہدایت کے ستارے: صحابہ کرام وہ شخصیات ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دیدار
سے اپنی آنکھوں کو روشن کیا جن کا ذکر خیر آنکھوں سکون ،دل کو جِلا بخشتا ہے ،دنیا و آخرت میں کامیابی اور ہدایت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے جیسا کہ رسول
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اَصْحَابِي
كَالنُّجُومِ فَبِاَ يِّہِمْ اِقْتَدَيْتُمْ اِهْتَدَيْتُمْ یعنی میرے صحابہ سِتاروں کی مانند ہیں، تم اِن میں سے جس کی بھی اِقْتدا کروگے ہدایت
پاجاؤ گے۔ (مشکاۃ المصابیح، کتاب المناقب، باب مناقب الصحابۃ، 2 / 212، حدیث: 6018)
(5) اللہ پاک کی خوشنودی: ایک عظیم نعمت
ہے جو گناہوں کی بخشش، دخول جنت اور رب
تعالی کی خوشنودی کا ذریعہ ہے جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:اللہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی
بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ اَرْضٍ فَلاَۃٍ ترجمہ : اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی توبہ پر
اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے
بعد اچانک مل جائے ۔ ( بخاری، کتاب
الدعوات، باب التوبۃ، ج4 ص191 ، حدیث6309)
پیارے اسلامی بھائیو! اس کے علاوہ متعدد احادیث کریمہ میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی امت کی تربیت فرمائی جو دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا عظیم سرمایہ ہے مگر افسوس
ہم ان احادیث کریمہ کا مطالعہ کرنے سے نا
آشنا اور ان پر عمل کرنے سے دور ہیں۔
اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے
کہ وہ ہمیں ذوق و شوق کے ساتھ احادیث کریمہ کا مطالعہ کرنے اور ان پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami