تشبیہ سے مراد دو چیزوں کو آپس میں مشابہ قرار دینا ہے۔ تشبیہ سے مشابہت ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تشبیہ کو کسی بات میں خوبصورتی پیدا کرنے اور وضاحت بیان کرنے کے لیے ذکر کیا جاتا ہے۔ نبی کریم  ﷺ نے بھی اپنے فرامین میں تشبیہات کو ذکر فرمایا ہے تاکہ معانی و مطالب واضح ہو جائیں ۔جس طرح کسی بات کو مثال کے ذریعے بیان کرنا مستحسن ہے اسی طرح تشبیہ کے ذریعے بیان کرنا بھی مستحسن ہے۔ آپ ﷺ نے امت کو وعظ و نصیحت کے لیے بہت سے موثر طریقے اختیار فرمائے ہیں جس میں سے ایک طریقہ تشبیہ بھی ہے اسی کے متعلق چند احادیث ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:

(1) مومن کا عمارت کے مشابہ ہونا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے جو ہر مشکل اور تکلیف میں دوسرے مسلمان بھائی کا ساتھ دیتا ہے، نبی کریم ﷺ نے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے لیے عمارت سے تشبیہ فرمائی ہے چنانچہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: عن ابي موسى ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: المومن للمومن كالبنيان يشد بعضه بعضا ، ثم شبك بين اصابعه (صحیح البخاری کتاب الادب باب تعاون المومنین بعضھم بعضا ،رقم الحدیث 6026 صفحہ نمبر 1109 دارالکتب العلمیہ بیروت)حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تھامے رکھتا ہے پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو(دوسری انگلیوں میں ڈال کر)قینچی کی طرح کر لیا۔

(2) عالم کا عابد سے افضل ہونا: ایک عالم عابد سے افضل ہے کیونکہ عابد عبادت سے صرف اپنی اصلاح کرتا ہے جبکہ عالم اپنے وعظ سے اپنی اور دوسروں کی بھی اصلاح کرتا ہے، نبی کریم ﷺ نے اس فضیلت کو تشبیہ کے ذریعے اس طرح بیان فرمایا : عن ابي امامة الباهلي، قال: ذكر لرسول الله صلى الله عليه وسلم رجلان احدهما: عابد والاخر عالم ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فضل العالم على العابد كفضلي على ادناكم ا حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ان میں سے ایک عابد تھا دوسرا عالم تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ۔ (سنن ترمذی ابواب العلم باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادة رقم الحدیث 2685 صفحہ نمبر 632 دار الکتب العلمیہ بیروت)

(3) قرآن سے دوری کا باعث وبال ہونا : جس طرح قرآن کریم کو حفظ کرنے کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے اسی طرح قرآن کے کسی بھی حصے کو یاد نہ کرنے کی بھی وعید کو بیان کیا گیا ہے رسول اکرم ﷺ نے اس شخص کو ویران گھر سے تشبیہ دی ہے۔

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان الذي ليس في جوفه شيء من القران كالبيت الخرب حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ بھی (یاد) نہ ہو وہ شخص ویران گھر کی طرح ہے ۔ (سنن ترمذی کتاب فضائل القرآن رقم الحدیث 2913 صفحہ نمبر 677 دار الکتب العلمیہ بیروت)

اگر ہم حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ان فرامین کے مطابق عمل کریں گے تو ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ آمین