محمد امیر
عمر (درجہ ثالثہ ضیاء العلوم جامعہ شمسیہ رضویہ تحصیل سلانوالی ضلع سرگودھا ، پاکستان)
آپ ﷺ جو
تعلیمات لے کر آئے اب قیامت تک صرف انہی تعلیمات پر عمل کیا جائے گا ، آپ ﷺ نے ہر طریقے سے اپنی امت کو تعلیمات
فراہم کی ہیں، آپ ﷺ کے
موثر اور فصیح طریقوں میں سے ایک طریقہ تشبیہ بھی ہے، تشبیہ میں ایک چیز کو دوسری چیز کے مشابہ قرار دیا
جاتا ہے، تشبیہ عموماً تمثیل جیسی ہوتی ہے جس طرح تمثیل سے بات کو
سمجھنا آسان ہوتا ہے اسی طرح تشبیہ سے بھی بات کو سمجھنا آسان ہوتا ہے، آپ ﷺ نے متعدد مقامات پر تشبیہات کو
ذکر فرمایا ہے تاکہ لوگوں کے لیے معاملات اور مسائل کو سمجھنا آسان ہو جائے اسی کے متعلق چند احادیث ذیل میں پیش کی
جاتی ہیں:
آہستہ تلاوت کا چھپا کر صدقہ کرنے کے مشابہ ہونا: قرآن کریم دنیا میں سب سے زیادہ
پڑھی جانے والی کتاب ہے اس کی تلاوت کرنے پر بہت زیادہ اجر ملتا ہے، اس کے اجر کے مختلف درجے ہیں جس طرح چھپا کر
صدقہ کرنا یہ ظاہری صدقہ کرنے سے افضل ہے اسی طرح آہستہ آواز میں تلاوت کرنا بلند
آواز سے افضل ہے ، جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: عن عُقبة بن عامر الجُهني رضي الله عنه قال: قال رسولُ الله صلَّى
الله عليه وسلم: الجاهِرُ بالقرآن كالجاهِرِ بالصَّدَقَةِ، والمُسِرُّ بالقرآن
كالمُسِرّ بالصَّدَقَة (سنن
ترمذی کتاب فضائل القران باب ما جا فی من قرا حرفا من القران ، رقم الحدیث2919
صفحہ نمبر678، دارالکتب العلمیہ بیروت )
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا بلند آواز سے قرآن پڑھنے
والا کھلے عام صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور آہستگی سے قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے۔
دنیا کا اجنبی شخص یا مسافر کے
مشابہ ہونا: دنیا آخرت کی کھیتی ہے انسان اس دنیا میں جو بھی
عمل کرتا ہے اسے آخرت میں اس کا حساب دینا ہے اگر ہمارے اعمال برے ہوئے تو ہمیں
سزا بھی ملے گی، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے
دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح زندگی بسر کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهُمَا قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
بِمَنْكِبِي، فَقَالَ:كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ(صحیح البخاری کتاب الرقاق،باب
قول النبی ﷺکن فی الدنیا کانک غریب اوعابر سبیل رقم الحدیث 6416، صفحہ نمبر 1172 ،
دارالکتب العلمیہ بیروت) حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا دنیا میں اس طرح
رہو جیسے تم اجنبی یا مسافر ہو۔
گناہوں کے جھڑنے کا پتے جھڑنے کے مشابہ ہونا: زندگی کے نشیب و فراز میں انسان پر مشکلات اور
تکالیف آتی رہتی ہیں جو ان مشکلات کو برداشت کرتا ہے اور صبر کا دامن نہیں چھوڑتا
تو یہ مشکلات انسان پر نفع بخش ثابت ہوتی ہیں اور انسان کے گناہوں کا کفارہ بنتی
ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ
فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے مرض سے یا
اس کے علاوہ، الله تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح
خزاں رسیدہ درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے۔(صحيح البخاري كتاب المرضى والطب باب اشد
الناس بلاء الانبياء ثم الاول فالاول رقم الحديث5648، صفحہ نمبر 1053، دارالکتب
العلمیہ بیروت)
آپ ﷺ نے جو تشبیہات ذکر فرمائی ہیں ان
میں گہرے معنی اور مفہوم پوشیدہ ہیں اگر ہم حضور کے فرامین میں غور و فکر کریں اور
ان پر عمل پیرا ہوں تو ہم ایک اچھے انسان
بن سکتے ہیں ۔ اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
Dawateislami