محمد
رضوان رضا (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ضیائے مدینہ ، کراچی ، پاکستان)
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه
صلی اللّٰه علیہ وسلم نے کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا اس
بہت سی بارش کی طرح ہے جو کسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی
چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگادیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس
سےالله نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے
حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے ۔ یہ اس کی مثال
ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیزنے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا
اورسکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور الله کی وہ ہدایت قبول
نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب الإیمان،باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ،الفصل
الأول ج:1،حدیث نمبر:142،ص:153، مکتبہ قادری پبلشرز)
مذکورہ حدیثِ پاک میں عالم اور
طالب علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس حدیثِ
پاک میں علم و ہدایت کو بارش سے تشبیہ دے کر یہ مثال بیان کی گئی ہے کہ جیسے بارش
سے مردہ (خشک) زمین کو تروتازگی ملتی ہے اسی طرح علم سے مردہ دلوں کو زندگی (ہدایت)
ملتی ہے۔ اس مثال کی تفصیل یہ ہے:
(1) علم حاصل کرکے اس پر عمل کرنے والا اور
دوسروں تک پہنچانے والا اُس زمین کی طرح ہے جو بارش سے سیراب ہو کر خود بھی سر
سبزوشاداب ہوجائے اور دوسروں کو بھی اپنی پیداوار سے فائدہ پہنچائے۔
(2) جو شخص دین کا علم سیکھ کر خود تو اس پر عمل
نہ کرے مگر دوسروں تک پہنچائے اور اُس کی تعلیم دے تو اُس کی مثال اُس سخت زمین کی
طرح ہے جو خود پانی کا اثر قبول کرکے سر سبزوشاداب نہیں ہوتی مگر اس کے جمع کئے
ہوئے پانی سے لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔
(3) جو شخص علم سیکھنے اور سکھانے کی طرف توجہ ہی
نہ دے تو اُس کی مثال اُس زمین کی طرح ہے جس پر نہ پانی ٹھہرتا ہے اور نہ ہی سبزہ
وغیرہ اُگتا ہے اور نہ ہی اُس سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ (عمدة القاری،111/2 ،
فیوض الباری،313/1 ملخصًا)
Dawateislami