محمد ریان عطّاری ( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان عطار ڈیفنس لاہور ، پاکستان)
قرآنِ مجید میں اللہ
تعالیٰ نے جگہ جگہ تشبیہات کے ذریعے حقیقت کو واضح فرمایا ہے اور نبی کریم ﷺ
نے اسی طریقے کو اپنی تعلیم و تربیت میں
جاری رکھا۔رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئ تشبیحات عام فہم مثالوں کے ذریعہ
گہرے معانی کو واضح کرتی ہیں جو کہ نہ صرف علمی ہیں بلکہ دل پر اثر کرنے والی بھی
ہیں ، ذیل میں چند احادیث مبارکہ بطور نمونہ پیش کی جاتی ہیں:
قرآن پڑھنے والوں کی تشبیہ: عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ
كَالْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ حضرت موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کے وہ لوگ جو
قرآن پڑھتے ہیں ان کی مثال سنگترے کی سی ہے اس کا مزہ بھی لذیز ہوتا ہے اور اس کی
خوشبو بھی لذیز ہوتی ہے۔ ( صحیح بخاری،باب
فضل القرآن علی سائر السلام ،حدیث نمبر 5020)
اس حدیث میں قرآن پڑھنے والوں کی
فضیلت مذکور ہے جو کے قرآن ہی کی وجہ سے ہے تو اس سے قرآن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔
دل کی تشبیہ: وَعَنْ
أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ فَلَاةٍ
يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِترجمہ: روایت ہے حضرت ابو
موسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله ﷺ نے:
دل کی مثال اس پَرْ کی سی ہے جو میدانی زمین
میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں ۔ ( مرآۃالمناجیح شرح مشکاۃ ج،1 ،ایمان کا بیان
،باب،تقدیر پر ایمان لانا،حدیث نمبر،103)
دل گویا کے پتّہ ہے اور دنیا
بڑا میدان اور صحبتیں تیز ہوائیں اگر پتّہ کسی بھاری پتھر کے نیچے آ جائے اور ہواؤں
سے محفوظ رہتا ہے اور اگر ہم کسی صالح کی صحبت میں آ جائیں تو ان شاءاللہ ہم بھی
محفوظ رہیں گے۔ ( مرآۃالمناجیح شرح مشکاۃ ج،1 ،ایمان کا بیان ،باب،تقدیر پر ایمان
لانا،حدیث نمبر،103)
انسانوں اور پروانوں کے درمیان
وجہ تشبیہ: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ
عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي
وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ
يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ
النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ
يَدَيَّ حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص
کی طرح ہے جس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں
آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو۔
(ریاض الصالحین ج،2،باب،سنت اور اسکے آداب ،حدیث نمبر،163)
رسول اللہ ﷺ نے
مخالفین اور جاہلین جو گناہوں کے سبب آگ میں گرتے ہیں نیز انسانوں کو پروانوں کے ساتھ اس وجہ سے تشبیہ دی گئی ہے کے یہ
دونوں خود کو ہلاک کرنے پر حریص ہوتے ہیں
اور اس جہالت میں دونوں برابر ہیں ۔ (ریاض الصالحین ج،2،باب،سنت اور اسکے آداب)
دیکھا آپ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے
قرآن پڑھنے والوں کی فضیلت ، دل کی اور انسانوں اور پروانوں کی تشبیحات عام فہم انداز میں سمجھائی۔
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami