محمد
مدثر رضوی عطاری ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
آیئے
مطالعہ قرآن کی اہمیت و ضرورت کے متعلق چند آیات مبارکہ اور چند احادیث مبارکہ پڑھتے ہیں:
(1)
قرآن پاک الله عَزَّ وَ جَل کی مضبوط رسی ہے:
الله
عز و جل ارشاد فرماتا ہے : وَ
اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪- ترجمہ
کنزالایمان: اور اللہ کی رسّی مضبوط تھام لو سب مل
کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں بٹ نہ جانا)۔ (پ 4 ، آل عمران : 103)
الله
عَزَّ وَ جَل کی رسی سے کیا مراد ہے؟ مذکورہ آیت مبارکہ میں ''حبل اللہ'' یعنی
الله عَزَّ وَ جَل کی رسی سے مراد یا تو دین اسلام ہے یا قرآن مجید جیسا کہ سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صلی اللہ علی علیہ وآلہ وسلم کا
فرمان عالیشان ہے کہ الْقُرْآنُ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ یعنی قرآن پاک الله عَزَّ وَ جَل کی مضبوط رسی ہے۔“ (ما خوذ من جامع الترمذى ابواب فضائل القرآن،
باب ماجاء في فضل القرآن الحديث : 2906 ، ص 1943)
(2)
قرآن مجید ہر بھلائی اور اصلاح کی طرف
بلاتا ہے:
الله
عزو جل ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ
کنزالایمان: اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت
اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے۔(پ11
يونس : 57)
وعظ کی
تعریف و مفہوم :
حضرت سیدنا
امام خازن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (متوفی 741ھ) اس حصہ آیت مَوْعِظَةٌ مِنْ رَّبِّكُمُ یعنی
تمہارے رب کی طرف سے نصیحت کے تحت فرماتے ہیں کہ مَوْعِظَةٌ سے مراد قرآن مجید ہے اور وعظ کہتے ہیں ایسی ڈانٹ ڈ پٹ کو جس میں ڈرانا پایا جائے۔ چنانچہ
امام خلیل نحوی کہتے ہیں : ” وعظ ، خیر کی ایسی باتیں یاد دلانے کو کہتے ہیں جن سے
دل نرم پڑ جائے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” وعظ ایسی بات کی طرف رہنمائی کرنے کو
کہتے ہیں جو بطریقہ رغبت و ڈر اصلاح کی طرف بلائے اور قرآن مجید اسی طریقہ سے ہر بھلائی اور اصلاح کی طرف بلاتا ہے۔(تفسیر الخازن پ11 یونس آیت نمبر 57 جلد 2 صفحہ نمبر 320)
(3)
قرآن پاک کے احکام و اعمال کو بجالانا ہے:
الله
عز و جل ارشاد فرماتا ہے: وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ
فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ(۱۵۵) اور یہ برکت
والی کتاب ہم نے اتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری
کرو کہ تم پر رحم ہو۔ (سورۃ
الانعام: 155)
اتباع
قرآن کریم کا فائدہ:
حضرت سیدنا
امام بیضاوی علیہ رحمۃ اللہ القوی (متوفی685ھ ) لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ “ کی
تفسیر میں فرماتے ہیں : قرآن مجید کی پیروی کے واسطے سے تم پر رحم کیا جائے گا
اور اس کی پیروی سے مراد قرآن پاک میں
موجود احکام و اعمال کو بجالابا ہے۔“ (اصلاح اعمال جلد اول صفحہ نمبر 243)
(4)تم
کبھی گمراہ اور ہلاک نہ ہو گے :
حضرت سید
نا ابو شریح رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار تاجدار مدینہ، قرار قلب وسینہ
ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:
کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ عز و جل کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں الله
عَزَّ وَ جَل کا رسول ( ﷺ ) ہوں؟ صحابہ
کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے عرض کی : " کیوں نہیں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” بے شک اس قرآن پاک کی ایک طرف اللہ عز و جل کے بے مثل
ہاتھ میں ہے اور دوسری طرف تمہارے ہاتھوں میں ہے، بس اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو تم
کبھی گمراہ اور ہلاک نہ ہو گے ۔“ (المعجم
الكبير ، الحديث : 491 ، ج 22 ، ص 188)
(5)
قرآن مجید شفاعت کرے گا:
حضرت سیدنا
جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤوف رحیم ﷺ کا
فرمان عالی شان ہے: " قرآن مجید شفاعت کرے گا اور اس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور وہ باعمل قاری ( کی
شفاعت ) کے لئے جھگڑا کرے گا اور اس کی تصدیق کی جائے گی تو جس نے اس کو اپنا امام
بنالیا (یعنی اس کی اتباع کی ) یہ اُسے جنت لے جائے
گا اور جس نے اسے پس پشت ڈال دیا یہ اسے
جہنم میں لے جائے گا۔ (الإحسان بترتيب صحيح ابن حبان كتاب العلم ، باب الزجر عن كتبۃ
المر الخ، الحديث : 124 ، ج 1 ، ص 167، بدون شافع)
اللہ
پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں قرآن پاک
پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami