اللہ
تعالی نے اپنی عبادت کے لیے انسانوں کو پیدا فرمایا پھر انسانوں کی ہدایت کے لیے
انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا پھر کچھ انبیاء کرام پر صحیفے اور آسمانی
کتابیں نازل فرمائیں ۔ چار آسمانی کتابیں نازل فرمائیں جن میں قرآن مجید چوتھی آسمانی اور آخری
کتاب ہے اس کے بعد کوئی آسمانی کتاب نازل نہ ہوئی قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ہر چیز
کا ذکر فرمایا ، اللہ تعالی نے قرآن
مجید کو انسانوں کی رہنمائی ہدایت کے لیے
نازل فرمایا، قرآن مجید مسلمان کے ایمان کا لازمی جزو ہے جو اس کا
انکار کرے وہ کافر ہے کیونکہ قرآن
مجید ہی واحد ایسی کتاب ہے جس سے ہمیں
اللہ تعالی کا قرب اور معرفت حاصل ہو سکتی ہے آج ہم مطالعہ قرآن کی اہمیت ضرورت کے بارے میں پڑھتے ہیں:
قرآن پاک غور و فکر کے لیے نازل ہوا: كِتٰبٌ
اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ
اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) ترجمہ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے
تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل
مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)
قران کا
مطالعہ انسانوں کے لیےہدایت کا راستہ: ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ
ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲) ترجمہ
کنزالایمان: وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو ۔ (سورۃ البقرہ: 2)
عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: خَيْرُكُمْ مَنْ
تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ قَالَ: وَأَقْرَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ
حَتَّى كَانَ الْحَجَّاجُ، قَالَ: وَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي
مَقْعَدِي هَذَا
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔ سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ابوعبدالرحمٰن سلمی نے لوگوں
کو عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے حجاج بن یوسف کے عراق کے
گورنر ہونے تک قرآن مجید کی تعلیم دی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہی حدیث ہے
جس نے مجھے اس جگہ ( قرآن مجید پڑھانے کے
لیے) بٹھا رکھا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب:
فضائل قرآن، باب: اس شخص کا سب سے بہتر
ہونے کا بیان جو قرآن کریم سیکھے یا کسی کو سکھائے، حدیث نمبر: 5027،حدیث نمبر:
5027 )
يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ ﷺ : مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ
كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ
أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ
وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ
ترجمہ:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کتاب
اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی
جائے گی، میں نہیں کہتا الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک
حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک
حرف ہے ۔ (جامع ترمذی، کتاب: فضائل قرآن کا بیان، باب: قرآن میں سے ایک
حرف پڑھنے کا اجر، حدیث نمبر: 2910،حدیث نمبر: 2910 )
بیان
کردہ قرآنی آیت سے قرآن مطالعہ کی اہمیت واضح ہوئی کہ قرآن مجید میں کوئی شک کی جگہ نہیں اور یہ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے جب کہ حدیث پاک
میں اس کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں کہ بہترین شخص وہ ہے جو قران کا مطالعہ کرے
سمجھے اور دوسروں کو سمجھائے بلکہ قرآنی
مطالعہ ایک جگہ یہاں تک فرمایا گیا کہ جو قرآن مجید کا ایک حرف پڑھے اس کے لیے
دس نیکیاں ہیں ۔
Dawateislami