قرآن
کریم رب تعالیٰ کا کلام ہے جو کہ اس نے اپنے بندے خاص حضور آخری نبی محمد عربی ﷺ پر نازل کیا قرآن کریم کا ہر ہر حرف علم و حکمت رہنمائی اور سر
چشمہ ہدایت ہی ہدایت ہے لیکن قرآن سے اسی وقت ہدایت لی جا سکتی ہے کہ جب اسے
پڑھا جائے اور اس کی آیات میں غور و فکر کیا جائے جس طرح رب تعالیٰ ارشاد فرماتا
ہے:
كِتٰبٌ
اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ
اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)
ترجمہ
کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت
والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)
اس آیت
کے تحت مفتی محمد قاسم صاحب لکھتے ہیں: قرآنِ پاک کی آیات سے دینی اَحکام نکالنا ہر ایک کاکام نہیں : قرآنِ پاک
کی آیات سے نصیحت تو ہر ایک حاصل کرسکتا ہے لیکن اس سے دینی اَحکام نکالنااور اس
کی باریکیوں تک رسائی حاصل کرنا ہر ایک کاکام نہیں بلکہ صرف ان کا کام ہے جو اعلیٰ
درجے کی دینی عقل رکھتے ہیں یعنی ماہرعلماء اور خاص طور پر مُجتہدین ا س منصب کے
اہل ہیں ، عوام کو چاہیے کہ قرآنِ پاک سے دینی مسائل نکالنے کی بجائے علماء سے
مسائل سیکھیں تاکہ غلطیوں سے بچ سکیں۔
بہترین
شخص کون ہے :
قرآن پاک پڑھنے کی ترغیب تو ہمیں خود رسول اللہ ﷺ
نے دلائی ہے جس طرح حدیث مبارکہ میں ہے: عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ
الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ‘‘۔
حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ تم میں بہترین
شخص وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔(انوار الحديث، حدیث نمبر :
48 )
قرآن
پڑھنے سے کیا ملتا ہے :
1:
قرآن پڑھنا اعمال میں اضافے کا سبب ہے کہ
ہر ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں اعمال نامے میں لکھی جاتی ہیں۔
2:
قرآن پڑھنے سے اللہ رسول عزوجل و ﷺ کا قرب ملتا ہے ۔ قرآن کلام ہے رب تعالیٰ کا اور جب بندہ قرآن
پڑھتا ہے تو گویا کہ وہ رب تعالیٰ سے ہم کلام ہوتا ہے ۔
3:
قرآن پڑھنے سے روح کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے : اَلَا
بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ترجمہ
کنزالایمان؛ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (سورۃ الرعد: 28)
تو جتنا قرآن پڑھا جائے گا اتنا ہی دل نرم ہوتا
جائے گا۔
مطالعہ
قرآن نہ کرنے کے نقصانات
1: دین
کی تعلیمات سے دوری پیدا کرتا ہے جس وجہ سے
2: آخرت میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑ
سکتا ہے
3: بے
سکونی و بے قراری پیدا کرتا ہے
4: دل
کی سختی اور راہ حق سے دوری کا سبب بنتا ہے
5:
اخلاقی زوال کی بوچھاڑ کا باعث بنتا ہے
6: نیکیوں
میں کمی، اور برکت کے اٹھ جانے کا باعث بنتا ہے
8: موت
میں تنگی اور ایمان کے کمزور ہونے کا سبب بنتا ہے
9: سب سے بڑھ کر یہ کے بندے کے لیے رب کی رحمت
سے دوری ہو جاتی ہے اور پھر آفات اور اندھیرے اسے گھیر لیتے ہیں۔
ہمیں چاہیے
کہ اللہ سے لو لگائے رکھیں جس کا ایک طریقہ بکثرت قرآن پاک کی تلاوت بھی ہے، اللہ تعالی ہمیں قرآن پڑھنے اور کی تعلیمات کو سیکھ
کر عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین
بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami