محمد
اسامہ عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی لاہور
،پاکستان)
قرآن
مجید اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جو
انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی۔ یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک ضابطۂ حیات
ہے، بلکہ پوری انسانیت کے لیے روشنی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ مطالعۂ قرآن کا مقصد
صرف اس کی تلاوت کرنا نہیں، بلکہ اسے سمجھنا، اس پر غور کرنا اور اپنی زندگی میں
اس کے احکامات کو نافذ کرنا بھی ہے۔
آئیے
مطالعہ قران کے بارے اہمیت کے بارے میں پڑھتے ہیں:
(1)قرآن
ہدایت ہے : قرآن
مجید ہدایت کا سرچشمہ ہے، اور اس کا
مطالعہ انسان کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے ۔ قرآن کی تعلیمات زندگی کے ہر پہلو کو
روشن کرتی ہیں، خواہ وہ عقائد ہوں، عبادات، اخلاقیات، معاشرت یا معاملات۔
هُدًى
لِّلْمُتَّقِیْنَۙ ترجمہ
کنزالایمان : ہدایت ہے ڈر والوں کو ۔ (سورة بقرہ آیت نمبر 2)
(2)قرآن
میں غورفکر کرنا: قرآن
صرف عربی زبان میں پڑھنے کے لیے نہیں نازل ہوا، بلکہ اسے سمجھنے اور اس پر عمل
کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:كِتٰبٌ
اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ
اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)ترجمہ
کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت
والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)
(3)ايک
حرف دس نیکیوں کے برابر:
قرآن مجید فرقان حمید اللہ ربُّ الا نام عَزَّوَجَلَّ کا
مُبارَک کلام ہے، اس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔ قرآن پاک کا ایک حرف پڑھنے پر 10 نیکیوں کا
ثواب ملتا ہے، چنانچہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، شفیع الْمُذْنِبين ، رَحمَۃ لِلعالمین
ﷺ کا فرمان دلنشین ہے: ” جو شخص کتاب اللہ
کا ایک حرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہو گی ۔ میں یہ نہیں
کہتا اللہ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حروف ، لام حرف اور میم ایک حرف ہے۔“ ( سُنَن
الترمذى ج 4 ص 418 حديث (2919)
(4)قرآن
شفاعت کر کے جنت میں لے جائے گا:
حضرت سیدنا
انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، رحمت عالَم ، نُورِ مُجَسَّم ،
شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتشم ﷺ کا فرمان معظم ہے: جس شخص نے قرآن پاک سیکھا اور سکھایا اور جو کچھ قرآن پاک میں ہے اُس پر عمل کیا، قرآن شریف اس کی
شفاعت کریگا اور جنت میں لے جائے گا ۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر ج 41 ص 3 ،
المُعْجَمُ الكبير للطبراني10 ص 198 حديث 10450)
(5)ایک
آیت سکھانے والے کیلئے قیامت تک ثواب:
ذوالنورین
، جامع القرآن حضرت سید نا عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ
تاجدار مدینہ منورہ ، سلطان مکہ مکرمہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے قرآنِ مبین
کی ایک آیت سکھائی اس کے لیے سیکھنے والے سے دُگنا ثواب ہے۔ ایک اور حدیث پاک میں
حضرت سید نا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، شفیع
الْمُذْنِبين ، رَحمۃ لِلعالمین ﷺ فرماتے ہیں: جس نے قرآن عظیم کی ایک آیت سکھائی جب تک اس آیت کی تلاوت ہوتی
رہے گی اس کے لیے ثواب جاری رہے گا ۔ (جمع الجوامع ج 7 ص 282 حديث 22455 - 22456)
پیارے
اسلامی بھائیو! تلاوت قرآن کرنے کے ساتھ
ساتھ اس کے معانی، پیغام اور مقصد کو بھی
سمجھنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کو
ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں، تاکہ ہم اس کی تعلیمات کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگیوں
میں نافذ کر سکیں۔اگر ہم دنیا اور آخرت میں کامیابی چاہتے ہیں، تو ہمیں
قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا۔ قرآن کو وقت دیں، اسے سمجھیں، اور اس پر عمل
کریں، یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔
اللہ
عزوجل ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami