قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اندھیروں ‏سے نکال کر روشنی کی طرف ہدایت عطا کی ۔  یہ صرف تلاوت کے لیے نازل نہیں ‏ہوا، بلکہ سمجھ کر عمل کرنے کے لیے اتارا گیا ہے ۔ جب تک مسلمان قرآن کے ‏معنی اور اس کا پیغام نہیں سمجھیں گے، اُن کے دلوں میں اس کی حقیقی تاثیر اور نور ‏پیدا نہیں ہوسکتا ۔ قرآن کریم خود اپنے مطالعہ کرنے والوں کو صرف تلاوت تک ‏محدود رہنے کا نہیں کہتا، بلکہ گہرے غور و فکر، تدبر اور تفکر کی دعوت دیتا ہے ۔ ‏

ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕترجمہ کنز العرفان:تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ۔

(پ 5، النساء: 82)‏

تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر ‏کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے ۔ امام غزالیرحمۃ اللہ علیہ احیاء العُلوم‎ ‎میں فرماتے ‏ہیں: کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن ‏پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب التفکر، بیان مجاری الفکر، 5/170)‏

تفسیر وہ علم ہے جو قرآن کا معنی، مقصد، شانِ نزول، احکام، حکمتیں اور عملی پیغام ‏ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے ۔ بغیر تفسیر کے قرآن کو پڑھنا ویسے ہی ہے ‏جیسے کوئی شخص نقشہ دیکھے لیکن اس کے نشانات کا مطلب نہ سمجھے ۔ ‏

قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا حکم:

ارشاد باری تعالیٰ ہے : كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)

ترجمہ کنز العرفان:(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔ (ص:29)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ تدبر کرنا مقصدِ نزول ہے اور تدبر تفسیر کے بغیر ‏ممکن نہیں ۔

تفسیر قرطبی میں ہے :‏حضرت اِیاس بن معاویہ‎ ‎رحمۃ اللہ علیہ ‏فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید‎ ‎پڑھتے ہیں اور وہ تفسیر‎ ‎نہیں جانتے ان ‏کی مثال‎ ‎ان لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے ‏بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس خط کو ‏پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ‏ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتاہے اس کی مثال ‏اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے ‏چراغ کی روشنی سے خط میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں ‏کیا لکھاہے ۔ ‎ ‎

مطالعہ تفسیر کی ضرورت کیوں ہے؟تفسیر دل میں ایمان کی تازگی، خشوع اور اللہ سے قرب پیدا کرتی ہے ۔ قرآن ‏کے پیغام کو سمجھ کر پڑھنے سے دل نرم ہوتا ہے اور عبادت میں لذت بڑھ ‏جاتی ہے ۔ تفسیر انسان کی سوچ کو درست کرتی ہے ۔ احکام، حکمتیں اور معانی واضح ہوتے ‏ہیں، جس سے قرآن کی آیات نئے دروازے کھولتی ہیں اور بصیرت ‏بڑھتی ہے ۔ قرآن کے احکام اور اخلاقی اصول سمجھ آتے ہیں ۔ تفسیر پڑھنے والا حلال و حرام ‏کی پہچان حاصل کرتا ہے، اپنے معاملات، اخلاق اور عبادات کو بہتر بناتا ‏ہے ۔ تفسیر قرآن کے گہرے مفہوم تک رسائی کا دروازہ ہے ۔ اس کے بغیر آیت کا ‏اصل پیغام ادھورا رہتا ہے ۔ تفسیر انسان کو قرآن سے عملی ربط سکھاتی ہے،آیات صرف پڑھی نہیں ‏جاتیں بلکہ زندگی میں اترتی ہیں ۔ تفسیر کے ذریعے انسان گمراہی، غلط فہمی اور من گھڑت تاویلات سے محفوظ رہتا ‏ہے ۔ تفسیر دل میں یقین پیدا کرتی ہے کہ قرآن ہر دور کی ضرورت اور ہر مسئلے کا حل ‏رکھتا ہے ۔ مطالعۂ تفسیر انسان کو اخلاق، معاملات، عبادات اور کردار میں مضبوط اور باشعور ‏بناتا ہے ۔ تفسیر پڑھنے سے قرآن کے معجزاتی اسلوب، اس کی حکمتوں اور روحانی اثرات ‏کی گہرائی سمجھ آتی ہے ۔ قرآن کے مسلسل مطالعہ اور تفسیر کے ذریعے اللہ کی معرفت بڑھتی ہے اور ‏بندے میں عاجزی اور شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ تفسیر کا مطالعہ دراصل قرآن کی اصل روح کو پانے کا ذریعہ ہے ۔ تلاوت نور ہے، ‏مگر تفسیر اُس نور کو سمجھنے کا راستہ ہے ۔ جو مسلمان قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اُس کی ‏زندگی میں فکر کی پختگی، دل کی نرمی، اعمال میں مضبوطی اور اللہ سے قرب پیدا ہوتا ‏ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم قرآن کو صرف پڑھنے کی نہیں، بلکہ سمجھ کر عمل ‏کرنے کی نیت سے اس کی تفاسیر کا باقاعدہ مطالعہ کریں ۔ یہی حقیقی ‏کامیابی اور دنیا و آخرت کی بھلائی کا راستہ ہے ۔