عبد الرحمن مدنی عطاری (تخصص فی اللغۃ العربیہ جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو، لاہور)
قرآن کریم
وہ عظیم کتاب ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی
کی طرف ہدایت عطا کی ۔ یہ صرف تلاوت کے لیے
نازل نہیں ہوا، بلکہ سمجھ کر عمل کرنے کے لیے اتارا گیا ہے ۔ جب تک مسلمان قرآن کے معنی اور اس کا پیغام نہیں
سمجھیں گے، اُن کے دلوں میں اس کی حقیقی تاثیر اور نور پیدا نہیں ہوسکتا ۔ قرآن کریم خود اپنے مطالعہ کرنے والوں کو صرف
تلاوت تک محدود رہنے کا نہیں کہتا، بلکہ گہرے غور و فکر، تدبر اور تفکر کی دعوت دیتا
ہے ۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕترجمہ کنز
العرفان:تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ۔
(پ 5،
النساء: 82)
تفسیر صراط
الجنان میں ہے: اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت
ہے ۔ امام غزالیرحمۃ اللہ علیہ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں: کہ ایک
آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے
بہتر ہے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب التفکر، بیان مجاری الفکر، 5/170)
تفسیر وہ
علم ہے جو قرآن کا معنی، مقصد، شانِ نزول، احکام، حکمتیں اور عملی پیغام ہمارے
سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے ۔ بغیر تفسیر
کے قرآن کو پڑھنا ویسے ہی ہے جیسے کوئی شخص نقشہ دیکھے لیکن اس کے نشانات کا مطلب
نہ سمجھے ۔
قرآن کو
سمجھ کر پڑھنے کا حکم:
ارشاد باری
تعالیٰ ہے : كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا
اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)
ترجمہ کنز
العرفان:(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ
لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔ (ص:29)
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ تدبر کرنا مقصدِ نزول ہے اور تدبر تفسیر کے بغیر ممکن نہیں ۔
تفسیر قرطبی میں ہے :حضرت اِیاس بن معاویہ رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآن مجید پڑھتے ہیں اور وہ تفسیر نہیں جانتے
ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جن
کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں
وہ اس خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا
لکھا ہے؟ اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی تفسیر جانتاہے اس کی مثال اس
قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط میں
لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھاہے ۔
مطالعہ تفسیر
کی ضرورت کیوں ہے؟تفسیر دل میں ایمان کی تازگی، خشوع اور اللہ سے قرب پیدا کرتی ہے ۔ قرآن کے پیغام کو سمجھ کر پڑھنے سے دل نرم
ہوتا ہے اور عبادت میں لذت بڑھ جاتی ہے ۔ تفسیر انسان کی سوچ کو درست کرتی ہے
۔ احکام، حکمتیں اور معانی واضح ہوتے ہیں،
جس سے قرآن کی آیات نئے دروازے کھولتی ہیں اور بصیرت بڑھتی ہے ۔ قرآن کے احکام
اور اخلاقی اصول سمجھ آتے ہیں ۔ تفسیر
پڑھنے والا حلال و حرام کی پہچان حاصل کرتا ہے، اپنے معاملات، اخلاق اور عبادات
کو بہتر بناتا ہے ۔ تفسیر قرآن کے گہرے مفہوم تک رسائی کا دروازہ ہے ۔ اس کے بغیر آیت کا اصل پیغام ادھورا رہتا ہے ۔ تفسیر
انسان کو قرآن سے عملی ربط سکھاتی ہے،آیات صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ زندگی میں
اترتی ہیں ۔ تفسیر کے ذریعے انسان گمراہی، غلط فہمی اور من گھڑت تاویلات سے محفوظ
رہتا ہے ۔ تفسیر دل میں یقین پیدا کرتی ہے کہ قرآن ہر دور کی ضرورت اور ہر مسئلے
کا حل رکھتا ہے ۔ مطالعۂ تفسیر انسان کو اخلاق، معاملات، عبادات اور کردار میں
مضبوط اور باشعور بناتا ہے ۔ تفسیر پڑھنے سے قرآن کے معجزاتی اسلوب، اس کی حکمتوں
اور روحانی اثرات کی گہرائی سمجھ آتی ہے ۔ قرآن کے مسلسل مطالعہ اور تفسیر کے ذریعے
اللہ کی معرفت بڑھتی ہے اور بندے میں عاجزی اور شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ تفسیر
کا مطالعہ دراصل قرآن کی اصل روح کو پانے کا ذریعہ ہے ۔ تلاوت نور ہے، مگر تفسیر اُس نور کو سمجھنے کا
راستہ ہے ۔ جو مسلمان قرآن کو سمجھ کر
پڑھتا ہے، اُس کی زندگی میں فکر کی پختگی، دل کی نرمی، اعمال میں مضبوطی اور اللہ
سے قرب پیدا ہوتا ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم قرآن کو صرف پڑھنے کی نہیں، بلکہ
سمجھ کر عمل کرنے کی نیت سے اس کی تفاسیر کا باقاعدہ مطالعہ کریں ۔ یہی حقیقی کامیابی اور دنیا و آخرت کی بھلائی
کا راستہ ہے ۔
Dawateislami