عبد الشکور عطاری (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ گلزار حبیب
سبزہ زار لاہور، پاکستان)
قرآن مجید
اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، علم، اخلاق اور زندگی کے
تمام شعبوں میں روشنی کا سرچشمہ ہے ۔ مگر
قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے محض عربی جاننا کافی نہیں، بلکہ اس کے مفاہیم و
معانی میں گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہی ضرورت تفسیر کہلاتی ہے، یعنی قرآن کی وضاحت، تشریح اور مفہوم کو سمجھنا
۔
تفسیر کی تعریف:لفظ "تفسیر" عربی لفظ فسّرَ سے
ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں "کسی بات کو واضح کرنا یا کھول کر بیان کرنا" ۔
اصطلاحی طور پر:"قرآن مجید کے ،معانی، احکام اور مقاصد کو دلائل و قرآن کی
روشنی میں واضح کرنا تفسیر کہلاتا ہے ۔
"
قرآن کی روشنی میں تفسیر کی اہمیت وضرورت :
( 1 ) قرآن پاک سمجھنے کا حکم :اللہ تعالیٰ خود قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ ترجمہ کنز
العرفان:تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ۔ ( سورۃ النساء آیۃ
نمبر ۔ 82)
اللہ تعالیٰ
کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پاک کو سمجھنے اور اس میں غور وفکر کرنے کی
کتنی ضرورت و اہمیت ہے ۔
مطالعۂ
تفسیر کی ضرورت: ( 1 ) قرآن کے درست مفہوم تک رسائی:قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے، لیکن اس
کے بعض مقامات اجمال، تمثیل یا مجاز پر مشتمل ہیں ۔ ان کو سمجھنے کے لیے تفسیر ضروری ہے تاکہ انسان
غلط مفہوم نہ لے ۔
( 2 )،
احکامِ شریعت کا فہم حاصل کرنا:نماز، روزہ، زکوٰۃ، جہاد اور دیگر عبادات کے احکام
کی تفصیل تفسیر کے ذریعے معلوم ہوتی ہے ۔
( 3) زندگی
کے عملی مسائل کا حل:تفسیر ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن کی تعلیمات کو موجودہ زمانے کے مسائل پر کس
طرح منطبق کیا جائے ۔
( 4،) ایمان
و یقین میں اضافہ:جب انسان تفسیر کے ذریعے قرآن کے معجزات، اسلوب اور حکمت کو سمجھتا ہے تو
اس کا ایمان مزید مضبوط ہوتا ہے ۔
( 5) دعوت
و اصلاح کے لیے تیاری:ایک داعی یا مصلح کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن کے پیغام
کو صحیح طور
پر سمجھے
تاکہ وہ دوسروں تک صحیح تعلیم پہنچا سکے ۔
مطالعۂ
تفسیر کی اہمیت:
(1)قرآن
فہمی کا ذریعہ:تفسیر کے بغیر قرآن کا فہم ادھورا رہتا ہے ۔ مفسرین نے سیاق و سباق، لغت، شانِ نزول، اور
احادیث کی روشنی میں معنی واضح کیے ۔
(2) تحریف
اور غلط فہمی سے بچاؤ:جو لوگ بغیر تفسیر کے قرآن کو اپنی مرضی سے سمجھنے
کی کوشش کرتے ہیں، وہ گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ تفسیر ہمیں ایسی غلطیوں سے محفوظ رکھتی ہے ۔
(3)سلفِ
صالحین کی رہنمائی:تفسیر ہمیں صحابہ، تابعین اور ائمہ کی فہمِ قرآن سے جوڑتی ہے ۔ یہی صحیح فہم کا اصل ذریعہ ہے ۔
( 4) علم و
روحانی ترقی:تفسیر کا مطالعہ انسان کے علم میں اضافہ کرتا ہے اور دل کو نور ایمان سے
منور کرتا ہے ۔
مطالعہ تفسیر
محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے کیونکہ قرآن پر عمل اسی وقت ممکن
ہے جب اسے صحیح طور پر سمجھا جائے لہذا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے وہ اہل علم کی
رہنمائی میں قرآن کی تفسیر کا مطالعہ کرے تاکہ اس کی زندگی قرآن کے مطابق بن سکے
اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں مطالعہ تفسیر کا شوق عطا فرمائے ۔ آمین یا
رب العالمین ۔
Dawateislami