محمد انس (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،پاکستان)
(2) عزت اور ادب: ہم نشین خواہ چھوٹا ہو یا بڑا،
اس کا ادب ضروری ہے۔ دوستوں، استادوں، بزرگوں اور ساتھیوں کے ساتھ بیٹھنے کا مطلب یہ
نہیں کہ ان کی بات کاٹ دی جائے یا ان سے بحث کی جائے بلکہ ان سے ادب سے بات کی
جائے۔
(3) اخلاص اور خیر خواہی: ہم نشینی کا ایک بڑا حق یہ ہے
کہ ہم ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوں۔ اگر کسی دوست کی کوئی کمزوری ہو، تو اسے تنہائی
میں محبت سے سمجھائیں، نہ کہ محفل میں اس کا مذاق بنائیں۔ صحبت کا حق یہ نہیں کہ صرف خوشی
کے وقت ساتھ ہوں، بلکہ دکھ، بیماری اور مشکل میں بھی ساتھ کھڑے ہوں۔
(4) صبر اور برداشت: انسان خطا کا پتلا ہے، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں۔ لیکن جو
انسان دوسروں کی باتوں کو برداشت نہیں کرتا، وہ کبھی اچھی ہم نشینی قائم نہیں رکھ
سکتا۔ اگر کوئی ساتھی غصہ کرے یا کوئی ناپسند بات کہہ دے، تو صبر اور نرمی سے جواب
دینا ہی اصل حسنِ اخلاق ہے۔ یہی رویہ تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔
(5) راز داری اور اعتماد: ہر دوست اپنی کچھ باتیں صرف اپنے قریبی ساتھی سے کرتا
ہے۔ ایسی باتوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا بدگمانی، جھگڑے اور اعتماد کے ٹوٹنے
کا سبب بنتا ہے۔
ہم نشینی کا ایک اہم حق یہ ہے کہ راز والی بات کو راز ہی
رکھا جائے۔ راز فاش کرنے والا دوست کہلانے کے قابل نہیں رہتا۔
ان ساری باتوں سے ہمیں یہ معلوم
ہوتا ہے کہ انسان اپنی صحبت کا انتخاب درست کرے پھر اس کے ساتھ ادب کے دائرے میں
رہتے ہوئے گفتگو کریں، ہنسی مذاق کرے اور اس کے ساتھ خیر خواہی کرے۔ایک ساتھی کا
اچھا ہونا یہ بہت بڑی نعمت ہے اگر ساتھ ہی اچھا ملے تو اس کے لیے شکر ادا کرنا چاہیے
اور خود بھی ایک اچھے ہم نشین بننے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ایک اچھا ہم نشین اور ساتھی
بنائے اور ہمیں اچھے دوست کے ساتھ رہنا نصیب کرے۔ آمین
Dawateislami