اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہے یہ اپنے ماننے والوں کو اپنی اتباع کرنے والوں کو ہر لحاظ سے رہنمائی فراہم کرتا ہے اسلام ایک انسان کو معاشرے میں رہتے ہوئے کس طرح زندگی گزارنی ہے اور دوسروں کے حقوق کو کیسے ادا کرنا ہے خواہ اپنے حقوق ہوں،والدین کے حقوق ہوں،بہن بھائیوں کے حقوق ہوں، معاشرے میں رہتے ہوئے پڑوسیوں کے ہمسایوں کے حقوق ہوں ،جانوروں کے حقوق ہوں،پرندوں کے حقوق ہوں۔

الغرض اسلام ہماری ہر لحاظ سے رہنمائی کرتا ہے کہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق کا کس طرح خیال رکھنا ہے، اسی طرح اسلام ہمیں اپنے ساتھ رہنے والے مصاحبت اختیار کرنے والے اور جو ہمارے ہم نشین ہوتے ہیں ان کے ساتھ کس طرح سلوک کرنا ہے؟ کس طرح رہنا ہے اور ان کے حقوق کو کیسے ادا کرنا ہے؟ اس کے بارے میں بھی اسلام ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے، ہم نشینی اور مصاحبت کے حقوق کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالی نے بھی ذکر فرمایا اور اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے بھی احادیث مبارکہ میں اس کی تاکید فرمائی اب مصاحبت اورہم نشینی کہ چند حقوق ذکر کیے جاتے ہیں۔ آئیے ملاحظہ کیجیے:

چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸) ترجمہ کنز الایمان: اور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیرلے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (پ7،الانعام:68)

اِس آیتِ مبارکہ میں کافروں ، بے دینوں کی صحبت میں بیٹھنے سے منع کیا گیا اور فرمایا کہ ان کے پاس نہ بیٹھو اور اگر بھول کر بیٹھ جاؤ تو یاد آنے پر اٹھ جاؤ۔(تفسیر صراط الجنان پ7،الانعام 68)

مصاحبت اور ہم نشینی کے 5 حقوق

(1) سرک جانا: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق ہے کہ جب مجلس میں وہ آئے تو دوسرا اس کے لیے سرک جائے جیسا کہ اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان کا مسلمان پر یہ حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے۔ (شعب الایمان باب فی مقاربة...الخ فصل فی قیام المرء صاحب حدیث نمبر 8933جلد نمبر 6،ص468)

(2) ہم نشین کی تعظیم: اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے ہم نشین کی تعظیم کو بہترین نیکی قرار دیا ہے چنانچہ حضور ﷺ کا فرمان ہے: بہترین نیکی ہم نشینوں کی تعظیم کرنا ہے۔ (فردوس الاخبار،ذکر فصول عبارات شتی ،حدیث نمبر: 1438جلد نمبر:1،ص207)

(3)جگہ کشادہ کرنا: اگر ہم کسی مجلس میں جائیں اور وہاں کسی مسلمان بھائی کو بیٹھا دیکھیں تو اس کو وہاں سے اٹھایا نہ جائے البتہ یہ ہے کہ جو مسلمان بھائی بیٹھا ہو وہ تھوڑا سرک جائے اور اپنے ہم نشیں کو جگہ دیں چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اللہ کے آخری نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ” آپ نے (اس بات سے) منع فرمایا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا دیا جائے اور اس جگہ میں دوسرا بیٹھ جائے البتہ تم سرک جایا کرو اور جگہ کشادہ کر دیا کرو “اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما (اس بات کو) مکروہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے اور یہ اس کی جگہ پر بیٹھے( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کا یہ فعل کمال درجے کی پرہیزگاری سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا دل تو اٹھنے کو نہیں چاہتا تھا مگر محض ان کی خاطر جگہ چھوڑ دی ہو)(صحیح بخاری کتاب الاستءذان،باب ا قیل لکم......الخ،حدیثِ نمبر: 627جلد: 4ص: 179)

(4)بیٹھنے کی اجازت لینا: اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت سے اور دوسری روایت میں ہے: کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے جدائی کرے (یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔ ) (سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب:فی الرجل یجلس بین الرجلین بغیر اذنھما حدیث نمبر: 4744-4745، جلد:4، ص:344)

(5)زیادہ حقدار: مدینے والے تاجدار مکی مدنی سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر وہ واپس لوٹ کر آئے (یعنی جب کہ جلد ہی لوٹ آئے) تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ مستحق اور حقدار ہے۔ (سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب: اذا قام الرجل من مجلس ثم رجع،حدیث نمبر: 4853،جلد نمبر:4 ص:346)

اللہ پاک ہمیں ہم نشینی کے اور مصاحبت کے حقوق پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ خاتم النبی الکریم ﷺ