زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں کسی نہ کسی کے ساتھ بیٹھنا، ملنا یا وقت گزارنا ہوتا ہے۔ کبھی مجلس میں، کبھی سفر میں، کبھی کام کے دوران اور کبھی دوستوں کے ساتھ۔ اسلام نے ان ملاقاتوں اور میل جول کو محض دنیاوی ضرورت نہیں سمجھا بلکہ ان کے بھی مخصوص حقوق مقرر فرمائے جنہیں ادا کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ قرآن مجید کی روشنی میں مصاحبت کے آداب:

(1) نرمی سے گفتگو: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ترجمۂ کنزالایمان: اور لوگوں سے اچھی بات کہو ۔(پ1، البقرۃ: 83)

تفسیر صراط الجنان:اچھی بات سے مراد نیکی کی دعوت اور برائیوں سے روکنا ہے۔ نیکی کی دعوت میں اس کے تمام طریقے داخل ہیں ، جیسے بیان کرنا، درس دینا، وعظ و نصیحت کرناوغیرہ ۔ نیز اچھی بات کہنے میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، حضور پرنور ﷺ کی شان، اولیاء رحمۃ اللہ علیہم کے مقام ومرتبہ کا بیان اور نیکیوں اور برائیوں کے متعلق سمجھانا سب شامل ہیں۔

(2) جگہ دینا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ- وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گااور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(پ28، المجادلۃ: 11)

تفسیرِ صراط الجنان : شانِ نزول: نبی کریم ﷺ غزوہِ بدر میں حاضر ہونے والے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عزت کرتے تھے، ایک روز چند بدری صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ،اُنہوں نے حضورِ اقدس ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ حضورپُر نور ﷺ نے جواب دیا، پھر اُنہوں نے حاضرین کو سلام کیا تواُنہوں نے جواب دیا، پھروہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ اُن کیلئے مجلس شریف میں جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ،سرکارِ دو عالَم ﷺ کو یہ چیزگراں گزری توآپ نے اپنے قریب والوں کو اُٹھا کر اُن کیلئے جگہ بنا دی، اُٹھنے والوں کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایاگیا: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت میں جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کاکہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہو جائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب ﷺ کی اطاعت کے باعث تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴ / ۲۴۰-۲۴۱)

(3) تمسخر سے پرہیز: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دُور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوںاور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے بُرے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔ (پ26،الحجرات: 11)

تفسیرِ صراط الجنان : حضر ت ضحاک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت عمار،حضرت خباب ،حضرت بلا ل ،حضرت صہیب،حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی غُربَت دیکھ کر ان کا مذاق اُڑایاکرتے تھے ۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مَردوں سے نہ ہنسیں ،یعنی مال دار، غریبوں کا ، بلند نسب والے، دوسرے نسب والوں کا،تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس کا مذاق نہ اُڑائیں جس کی آنکھ میں عیب ہو،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے صدق اور اخلاص میں بہتر ہوں ۔( خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴ )

(4) سلام کا فروغ:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ
قَالَ:تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کون سا اسلام سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم کھانا کھلاؤ، اور سلام کہو اُن کو جنہیں تم جانتے ہو اور جنہیں نہیں جانتے۔(صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث نمبر: 54)

یہ حدیث اسلامی معاشرتی آداب کا نچوڑ ہے۔

(5) خندہ پیشانی: تبسُّمُك في وجهِ أخيكَ صدقةٌ (ترمذی، حدیث 1956) تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے۔

مسکراہٹ سے ماحول خوشگوار ہوتا ہے۔

(6) ادبِ عمر و سِن:ليس منا من لم يوقر كبيرنا، ويرحم صغيرنا (ترمذی، حدیث 1920) وہ ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔

مجلس میں عمر اور رتبے کا لحاظ رکھا جائے۔

مصاحبت کے خلاصہ حقوق: سلام میں پہل۔کھانا کھلانا ۔ نرمی اور خوش اخلاقی۔ جگہ کشادہ کرنا۔ تمسخر سے پرہیز۔ دو اشخاص کی خفیہ بات سے اجتناب۔ کسی کی بات نہ کاٹنا۔ مجلس سے اجازت لے کر اٹھنا۔ کسی کا راز فاش نہ کرنا۔ چہرے پر خوشی لانا۔ سب کو شامل رکھنا

اسلام صرف عبادات نہیں، بلکہ انسانوں سے سلوک اور مجلس کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ہم نشینی اور مصاحبت میں حسنِ اخلاق، نرمی، تحمل، کشادگی، ادب اور عزت ۔ یہ سب وہ صفات ہیں جو ایمان کی علامت ہیں اور معاشرتی حسن کی بنیاد۔

مصاحبت کے یہ آداب ہمارے تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں اور معاشرہ باہمی محبت، عزت اور سکون کا گہوارہ بنتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین