اسلام محض عبادات اور ظاہری
اعمال کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ہر قدم پر رہنمائی
دیتا ہے۔ انسان چونکہ ایک معاشرتی مخلوق ہے، اس لیے روز مرہ کی زندگی میں وہ کئی
لوگوں سے ملاقات کرتا ہے، دوستی کرتا ہے، مجلسوں میں شریک ہوتا ہے۔ ان ملاقاتوں
اور صحبتوں کو پاکیزہ، بامقصد بنانے کے لیے اسلام نے چند اصول اور حقوق بیان
فرمائے ہیں۔ نیک صحبت انسان کو جنت تک پہنچا سکتی ہے، اور بری صحبت جہنم کی طرف کھینچ
سکتی ہے۔ اسی لیے ہمیں اپنی ہم نشینی کے انداز اور دوستوں کے انتخاب پر غور کرنا
چاہیے اور ان کے حقوق کو جاننا اور ادا کرنا چاہیے۔
(1) خلوص و خیر خواہی: ہم نشین کا پہلا حق یہ ہے کہ اس
سے مخلصی کی جائے، اس کی بہتری چاہی جائے، اور ہر حال میں اس کے ساتھ خیر کا برتاؤ
کیا جائے۔
(2) عیب پوشی: اگر کسی مجلس یا ملاقات میں
ساتھی سے کوئی لغزش ہو جائے تو اس پر پردہ ڈالنا اور لوگوں کے سامنے اسے رسوا نہ
کرنا ہم نشینی کا اہم تقاضا ہے۔
(3) حسنِ اخلاق: نرمی، خوش اخلاقی اور مسکرا کر بات
کرنا ہم نشینی کو دلکش بناتا ہے۔ سخت مزاجی اور تند کلامی سے پرہیز کیا جائے۔
(4) مشکل وقت میں ساتھ دینا: سچا ہم نشین وہی ہے جو مشکل وقت
میں ساتھ دے، نہ کہ صرف خوشی کے لمحات کا ساتھی ہو۔
(5) مشورہ دینا اور دل جوئی
کرنا: اگر دوست کسی مشکل میں ہو تو اس
کو نیک مشورہ دینا اور اس کے دل کو تسلی دینا ہم نشینی کا اعلیٰ وصف ہے۔
صحبت اور ہم نشینی کے یہ آداب
اور حقوق دراصل ایک صالح معاشرہ تشکیل دینے کی بنیاد ہیں۔ اگر ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھنے
والے کا حق پہچانے، اس سے محبت اور خیر خواہی کا سلوک کرے تو معاشرہ امن و محبت کا
گہوارہ بن سکتا ہے۔
اچھی صحبت ایمان کو مضبوط اور
اخلاق کو اچھا بناتی ہے، جب کہ بری صحبت ایمان کو کمزور اور اعمال کو برباد کر دیتی
ہے۔ لہٰذا ہمیں نیک صحبت اختیار کرنے اور دوسروں کے لیے نیک ہم نشین بننے کی کوشش
کرنی چاہیے۔ یہی اسلامی تعلیمات ہیں۔
Dawateislami