اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف
عبادات ہی نہیں سکھاتا بلکہ اعلیٰ اخلاق، معاشرت اور تعلقات کا بھی مکمل درس دیتا
ہے۔ انہی تعلقات میں سے ایک اہم تعلق مصاحبت اور ہم نشینی کا ہے۔ انسان کی فطرت میں
ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے، دوستیاں قائم کرتا ہے اور مختلف لوگوں
کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ قرآن و سنت میں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ ہم نشین (ساتھ بیٹھنے
والا) اس کے بھی کچھ حقوق ہیں جن کا لحاظ رکھنا ایمان کا حصہ ہے۔ اسلام ہمیں نہ
صرف اچھا ساتھی بننے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ اچھے ہم نشین کے حقوق ادا کرنے کا شعور
بھی دیتا ہے۔
(2) ہم نشین سے حسنِ سلوک: نرمی، خوش اخلاقی اور ادب کے
ساتھ پیش آنا چاہیے، تاکہ مجلس خوشگوار بنے۔
(3) عزت و احترام دینا: ہر ہم نشین، چاہے چھوٹا ہو یا
بڑا، اس کی عزت کرنا اسلام کی تعلیم ہے۔
(4) کسی کی دل آزاری نہ کرنا: ہم نشینی میں ایسی بات یا رویہ
اختیار نہ کیا جائے جو کسی کو تکلیف دے یا شرمندہ کرے۔
(5) راز داری: مجلس کی باتوں کو باہر ظاہر نہ
کرنا، بلکہ ان کی حفاظت کرنا۔
(6) اپنے ہم نشین کی بات غور سے
سننا: دوسروں کی بات کو توجہ سے سننا اور درمیان میں نہ بولنا ادب کا تقاضا ہے۔
(7) خیرخواہی: ہم نشین کے لیے دل میں خیر،
بھلائی اور اخلاص رکھنا۔
(8) برائی سے روکنا، نیکی کی
دعوت دینا: صحبت کا اصل مقصد اصلاح ہونا
چاہیے، اس لیے نرمی سے اچھی بات کی نصیحت کرنا بھی ہم نشینی کا حق ہے۔
(9) سلام میں پہل کرنا: مجلس میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا اور خوش دلی سے بیٹھنا۔
(10) مجلس میں برابر کا مقام دینا:
کسی کو حقیر نہ سمجھنا اور نہ ہی
اپنی برتری جتانا۔
ان پر عمل کر کے ہم اپنی مجلسوں کو باعثِ خیر
بنا سکتے ہیں۔
چند اہم نکات
ادب کا خیال: مجلس میں بیٹھتے وقت ادب و احترام کا خیال رکھنا ضروری
ہے، بے ہودہ باتیں اور شوخی مناسب نہیں۔
نیک مجلس کا احترام: جو مجلس اللہ کے ذکر اور نیک باتوں کے لیے ہو اس کا ادب
کرنا چاہیے۔
غلط باتوں سے بچنا: ایسی مجلس میں بیٹھنا جہاں غیبت،
جھوٹ یا دین کے خلاف باتیں ہوں، گناہ کا سبب بنتا ہے۔
برکت والی مجلس: وہ مجلس جس میں اللہ اور رسول ﷺ کا ذکر ہو، وہ باعثِ
برکت اور باعثِ نجات ہوتی ہے۔
علم و ادب: علما و نیک لوگوں کی مجلس میں
ادب کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تاکہ علم و فیض حاصل ہو۔
یہ تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ
صحبت اور ہم نشینی میں کن آداب و حقوق کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ ہم دنیا و آخرت میں
فائدہ حاصل کریں۔
ہمیں چاہیے کہ نیک لوگوں کی
صحبت اختیار کریں، مجلس کے آداب کا خیال رکھیں، اور ہم نشین کے حقوق (جیسے ادب،
جگہ کا احترام، بات نہ کاٹنا، سلام کرنا) ادا کریں، کیونکہ یہی اسلامی معاشرت کی
بنیاد ہے۔ اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami