اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، روحانی اور معاشرتی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔ انسان ایک معاشرتی مخلوق ہے اور سماجی تعلقات اس کی فطرت کا لازمی جزو ہیں ۔ انہی تعلقات میں سے ایک اہم تعلق ”مصاحبت“ یعنی ساتھ بیٹھنے، ملنے جلنے اور ہم نشینی کا ہے۔ انسان جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، ان کی باتیں سنتا اور ان کے ساتھ معاملات کرتا ہے، وہ تعلقات اس کی شخصیت اور کردار پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ لہٰذا اسلام نے نہ صرف اچھے ساتھی کے انتخاب پر زور دیا ہے بلکہ ہم نشینی کے آداب اور حقوق بھی واضح طور پر بیان کیے ہیں۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی کے ساتھ بیٹھنے، دوستی کرنے یا وقت گزارنے کے کچھ بنیادی حقوق ہوتے ہیں جن کی پاسداری ہر مسلمان پر لازم ہے۔

(1) احترام اور عزت دینا: ہم نشین کو عزت دینا، اسے نظر انداز نہ کرنا، اس کی بات کو توجہ سے سننا اور اس کی رائے کا احترام کرنا بنیادی اخلاقی تقاضے ہیں۔ اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ عَرَبی ﷺ نے اِرشاد فرمایا: اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَيَدِہٖ ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔ (بخاری ، 1 / 15 ، حدیث: 10)

(2) خیر خواہی: مصاحبت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے ساتھی کے لیے خیر کا طلبگار ہو۔ اگر وہ کسی مشکل میں ہے تو اس کی مدد کرے، اگر وہ غلطی پر ہے تو نرمی سے اصلاح کرے۔

(3) عیب پوشی: ہم نشینی کے دوران انسان دوسرے کے راز اور کمزوریاں جان لیتا ہے۔ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ان باتوں کو چھپایا جائے، ان کا مذاق نہ اڑایا جائے اور نہ ہی انہیں دوسروں میں بیان کیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًاسَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ یعنی جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے ،تو خُدائے ستّار عَزَّ وَجَلَّ قِیامت کے رو ز اُس کی عیب پوشی فرمائے گا۔(بخاری،،کتاب المظالم والغصب، ۲/۱۲۶، حدیث: ۲۴۴۲)

(4) خوش اخلاقی اور نرمی: ہم نشینی میں سخت کلامی، جھگڑا، یا تحقیر کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نرم مزاج اور خوش اخلاق تھے اور صحابہ کرام کو بھی یہی تعلیم دیتے ۔

(5) خدمت اور ایثار: اچھے ساتھی کا حق ہے کہ اگر اسے مدد کی ضرورت ہو تو اس کی مدد کی جائے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے ساتھ ایثار کی بے مثال مثالیں قائم کیا کرتے ۔

(6) معاف کرنا اور درگزر کرنا:انسان خطا کا پتلا ہے، ہم نشین اگر کوئی غلطی کرے تو اسے معاف کر دینا، دل صاف رکھنا اور کینہ نہ پالنا اعلیٰ اخلاقی اقدار میں شمار ہوتا ہے۔

دعا کرنا: اچھے ساتھی کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا کرنا بھی اس کا حق ہے۔ ایک مومن اپنے بھائی کے لیے جو دعا کرتا ہے، اللہ اسے بھی وہی عطا فرماتا ہے۔

مصاحبت اور ہم نشینی کا اثر انسان کی شخصیت، سوچ اور کردار پر نمایاں ہوتا ہے۔ اسلام نے ان تعلقات کو محض وقتی یا رسمی نہیں سمجھا بلکہ ان کے لیے واضح اخلاقی دائرہ متعین کیا ہے۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود اچھی صحبت اختیار کرے بلکہ دوسروں کے لیے بھی بہتر ہم نشین بنے، ان کے حقوق ادا کرے اور ان کے لیے خیرخواہ ہو۔ یہی وہ معاشرتی حسن ہے جو ایک مضبوط، بااخلاق اور پرامن معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے دوست عطا فرمائے کہ جو صراط مستقیم پر چلنے والے اور چلانے والے ہوں ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ