انسان اپنی زندگی میں روز ہی نئے سے نئے لوگوں سے ملاقات کرتا ہے ۔ شب و روز لوگوں کے ساتھ گزرتے ہیں ۔ بعض لوگ ہماری زندگی میں ایک پل کے لیے آتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں دوبارہ ان سے ملنا نہیں ہوتا ۔ بعض کچھ عرصہ رہتے ہیں پھر چلے جاتے ہیں ۔ بعضوں کے ساتھ ہمارا اٹھنا بیٹھنا کچھ زیادہ ہوتا ہے ۔ اور کچھ لوگ ہمارے بڑے ہی قریبی ساتھی اور ہم نشین بن جاتے ہیں ۔ اب یہ ہمارے دین اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں تربیت فرماتا ہے اور ہمیں ہمنشینی کے حقوق بیان فرماتا ہے ۔ تاکہ ہمارے رشتے مضبوط رہیں آپس میں پیار محبت اور اتفاق رہے ۔ حقیقت میں انسان اگر شرعی اصولوں کے مطابق ہی ہر قدم اٹھائے تو اس کی زندگی میں سکون آسکتا ہے ۔ لہذا ہم نشینی کے حقوق جاننا بھی نہایت اہم ہے ۔

اول تو یہ کہ انسان یہ غور کرے کہ وہ کس طرح کہ مجلس میں بیٹھتا ہے کیونکہ مجلسیں تین طرح کی ہیں ۔ (۱) غانم (۲) سالم (۳) شاجب ۔غانم وہ مجلس ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو اور سالم وہ مجلس ہے جس میں خاموشی ہو۔ (یعنی بے ہودہ اور خلاف شرع بات نہ ہو) اور شاجب وہ مجلس ہے جس میں باطل بحثیں ہوں۔ (كنز العمال، كتاب الصحبۃ، قسم الاقوال، حق المجالس والجلوس، الحديث ٢٥٤٤٦ ، ج ۹، ص ٦٣)

درست تو یہی کہ انسان ایسے ہم نشین بنائے ایسے ساتھی رکھے کہ جو اس کو اللہ کی یاد دلاتے ہوں اور اس کا اٹھنا بیٹھنا بھی ایسی مجلس میں ہو کہ جہاں ذکر اللہ ہوتا ہو ۔اس کے علاوہ بھی ہمیں ہمنشینی کے حقوق کا دیہان رکھنا چاہیے مثلا:

(1) اللہ کی رضا: کوئی بھی کام جتنا مرضی اچھا ہو اگر اس سے رب تعالیٰ کی رضا مقصود نہیں تو وہ کسی کام کا نہیں اسی طرح اگر کوئی شخص ہم نشینی اختیار کر رہا ہے کسی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کر رہا ہے تو اس میں سب سے اول اللہ تبارک و تعالی کی رضا مقصود ہو۔

(2) ہم نشینوں کی تعظیم کرنا: ایک مسلمان کی تعظیم ویسی ہی لازم ہے اور ہم نشینوں کی تعظیم کے بارے میں آتا ہے کہ ” بہترین نیکی ہمنشینوں کی تعظیم کرنا ہے۔“ (فردوس الاخبار، ذكر فصول اخر فی عبارات شتى الحديث ١٤٣٨، ج ١ ، ص ٢٠٧)

(3) جگہ کشادہ کرنا: اگر کوئی شخص مجلس میں حاضر ہو تو اس مجلس میں پہلے سے موجود شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے آنے والے بھائی کے لیے جگہ کشادہ کرے اور سرک جائے اور اس کو بیٹھنے کی جگہ دے۔ مسلمان کا مسلمان پر ( یہ ) حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لئے سرک جائے ۔ (یعنی مجلس میں آنے والے اسلامی بھائی کے لئے ادھر اُدھر کچھ سرک کر جگہ بنادے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے ۔) (شعب الایمان، باب فی مقاربۃ ... الخ، فصل فی قيام المرء لصاحبہ، الحديث ٨٩٣٣، ج ۶، ص ٤٦٨)

(4) کان میں بات نہ کرنا: جب کچھ لوگ آپس میں بیٹھے ہوں تو دو لوگوں کا آپس میں کان میں بات کرنا درست نہیں۔حدیث میں ہے : ”اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اس کو رنج پہنچائے گی“ (سنن ابی داود کتاب الادب، باب فی التناجی، الحديث: ٤٨٥١ ، ج ٤ ، ص ٣٤٦)

اس کے علاؤہ بھی ایسی کثیر باتیں ہیں جن مصاحبت و ہمنشینی کے وقت خیال رکھنا بے حد ضروری ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر قدم پر شریعت کے سنہری اصولوں کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ