مصاحبت اور ہم نشینی انسانی
زندگی کا ایک اہم پہلو ہے، کیونکہ انسان فطری طور پر سماجی مخلوق ہے اور دوسروں کے
ساتھ تعلقات قائم کر کے ہی اپنی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ اچھی صحبت انسان کے کردار،
اخلاق اور فکر کو سنوارتی ہے، جبکہ بری صحبت بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے دینِ
اسلام نے دوستوں، ساتھیوں اور ہم نشینوں کے ساتھ حسنِ سلوک، خیرخواہی اور احترام
کے اصول واضح فرمائے ہیں۔ مصاحبت اور ہم نشینی کے حقوق میں ایک دوسرے کی عزت کرنا،
دکھ سکھ میں ساتھ دینا، عیب پوشی کرنا اور نیک مشورہ دینا شامل ہے۔ یہ تعلقات صرف
وقتی میل جول پر نہیں بلکہ اخلاص، اعتماد اور خیرخواہی کی بنیاد پر قائم ہونے چاہئیں
تاکہ فرد اور معاشرہ دونوں فلاح پا سکیں۔ آئیے اس کے متعلق چند باتیں ملاحظہ کرتے
ہیں:
(1) حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ
تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو
آتا وہ آخر میں بیٹھ جاتا۔(سنن ابی داود، كتاب الادب، باب فی التحلق، الحديث: 4825،
ج 4، ص339)
(2) مسلمان کا مسلمان پر ( یہ ) حق
ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لئے سرکا جائے ۔ (یعنی مجلس میں آنے والے اسلامی بھائی
کے لئے ادھر ادھر کچھ سرک کر جگہ بنا دے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے۔) (شعب الايمان
باب فی مقاربۃ، الفصل قيام المرء لصاحبہ الحديث: ٨٩٣٣ - ٦- ص ٤٦٨)
حضرت ابن عمر رضی لله تعالی
عنہا نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے (اس بات سے منع فرمایا کہ
کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا دیا جائے ۔ اور اس جگہ میں دوسرا بیٹھ جائے البتہ تم
سرک جایا کرو اور جگہ کشادہ کر دیا کرو یعنی بیٹھنے والوں کو چاہیے کہ آنے والے
اسلامی بھائی کے لئے سرک جائیں اور اسےبھی جگہ دے دیں تاکہ وہ بھی بیٹھ جائے ) اور
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا ( اس بات کو ) مکر وہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی
جگہ سے اٹھ جائے اور یہ اس کی جگہ پر بیٹھیں ۔ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا
کا یہ فعل کمال درجہ کی پر ہیز گاری سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا دل تو
اٹھنے کو نہیں چاہتا تھا مگر محض ان کی خاطر جگہ چھوڑ دی ہو ) ۔(صحيح البخاری،
كتاب الاستئذان، باب اذا قيل لكم.... الخ، الحديث ٠٦٢٧٠ ج 4، ص ١٧٩)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے
فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ میں دس سال خدمت کی جب کہ میں لڑکا تھا، مگر
میرا ہر کام آپ ﷺ کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا تھا لیکن جو میں نے کیا اس پر کبھی
آپ ﷺ نے اُف تک نہ کیا اور نہ یہ فرمایا کہ یہ تم نے کیوں کیا یا ایسے کیوں نہ کیا۔
(سنن ابی داود، كتاب الادب، باب فی الحلم واخلاق النبی الحديث ٤٧٤، ج 4، ص ٣٢٤)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ جو کچھ سیکھا
اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ الخاتم النبیین ﷺ
Dawateislami