حضور
کی خاتون جنت سے محبت از بنت رضا الحق، فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
حضرت فاطمہ
الزہرا رضی اللہ عنہا سے حضور ﷺ کی محبت ایک عظیم الشان مثال ہے جو والدین اور
اولاد کے درمیان مثالی رشتے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس محبت کی بنیاد محض نسبی تعلق نہیں
بلکہ روحانی، اخلاقی اور ایمانی قربت پر مبنی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نہ صرف انہیں اپنی
بیٹی کے طور پر عزیز رکھتے تھے بلکہ ان کے تقویٰ، صبر، عفت و حیا، اور دین کے لیے
قربانیوں کی بھی دل سے قدر فرماتے تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سیدۃ نساء اہل
الجنۃ (جنتی عورتوں کی سردار) کا لقب دینا اور ان کے اٹھنے پر کھڑے ہونا، ان کی پیشانی
چومنا، اور ان سے نرمی و محبت کے ساتھ پیش آنا یہ باتیں اس پاکیزہ محبت کا مظہر
ہیں۔
حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا سے محبت کا ذکر کئی احادیث میں آیا ہے اور یہ محبت صرف ایک والد کی
محبت نہیں بلکہ ایک رسول کی محبت ہے جو اپنے خاندان کے اراکین سے بےحد محبت کرتے
تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مقام حضور ﷺ کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا تھا
اور ان سے محبت کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ
عنہا کے بارے میں متعدد روایتیں آئی ہیں جن میں حضرت رسول اللہ ﷺ کی ان سے محبت کا
ذکر ہے۔
حضور جان عالم
ﷺ کے درج ذیل مبارک فرامین حضور جان عالم ﷺ کی حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے
محبت کا مظہر ہیں:
سیدہ خدیجہ
الکبری کی نور نظر سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی شان والا کےبارے میں حضور
نبی رحمت دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے غضب سے غضبِ الٰہی ہوتا ہے اور تمہاری
رضا سے رضائے الٰہی۔ (مستدرک للحاکم، 4/137، حدیث:4783)
فاطمہ میرے
جسم کا حصّہ(ٹکڑا) ہے جو اسے ناگوار، وہ مجھے ناگوار جو اسے پسند وہ مجھے پسند،
روز قیامت سوائے میرے نسب، میرے سبب اور میرے ازدواجی رشتوں کے تمام نسب منقطع
(یعنی ختم) ہو جائیں گے۔ (مستدرک للحاکم، 4/144، حدیث:4801)
فاطمہ تمام
جہانوں کی عورتوں اور سب جنّتی عورتوں کی سردار ہیں۔ مزید فرمایا: فاطمہ میرا ٹکڑا
ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ اور ایک روایت میں ہے: ان کی
پریشانی میری پریشانی اور ان کی تکلیف میری تکلیف ہے۔ (مشکوۃ المصابیح، 2/436،
حدیث: 6139)
حضور ﷺ نے
اپنی پیاری شہزادی کو پہلے ہی سے باخبر کردیاتھا کہ میرے گھر والوں میں سب سے پہلے
تم (وفات پا کر) مجھ سے ملو گی۔ (حلیۃ الاولیاء، 2/50، حدیث:1443)
حضور ﷺ کے
وصال ظاہری کے بعد خاتون جنت کی مبارک زندگی میں غم کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ
فراق رسول سے لبوں کی مسکراہٹ بھی ختم ہوگئی اور وصال نبی کے چھ ماہ بعد سب سے
پہلے جنت میں حضور سے ملنے کا شوق لئے 3 رمضان المبارک سنّ 11 ہجری منگل کی رات
سیدہ، طیبہ، طاہرہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔
حضور اکرم ﷺ کی
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت ایک بے مثال اور بے لوث محبت تھی جس میں والد
اور بیٹی کے رشتہ سے کہیں بڑھ کر روحانی تعلق تھا۔ حضرت فاطمہ کی عظمت اور مقام پر
مختلف احادیث میں روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ محبت ایک نمونہ ہے جو ہمیں اپنے اہل
خانہ کے ساتھ محبت، عزت اور احترام سکھاتی ہے۔
حضور کی
خاتون جنت سے محبت از بنت اشفاق،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
نبی کریم ﷺ کی
سیرت طیبہ محبت، شفقت، عفو و درگزر اور حسن اخلاق کا مکمل پیکر ہے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف
امت کو محبت کا درس دیا، بلکہ اپنے قول و عمل سے اس کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش
فرمایا۔ ان محبتوں میں سے ایک نمایاں محبت، جو تاریخ اسلام کا روشن باب ہے، وہ آپ ﷺ
کی اپنی شہزادی حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا سے محبت ہے۔
حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں، مگر مرتبے کے لحاظ سے سب سے
بلند مقام پر فائز تھیں۔ آپ کے فضائل و مناقب کثرت سے کتب حدیث و سیرت میں موجود
ہیں۔
احادیث
مبارکہ میں اظہار محبت: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا
ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اور جس نے اسے خوش کیا اس نے
مجھے خوش کیا۔ (مسلم، ص 1021، حدیث: 6307)اس حدیث مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رضا و ناراضگی، دراصل نبی کریم ﷺ کی رضا و ناراضگی ہے اور
یہی ان کے بلند مقام کی دلیل ہے۔
ایک اور روایت
میں ہے: فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔
ایک موقع پر
فرمایا: اے فاطمہ! کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ تو جنتی عورتوں کی سردار ہو؟
حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا صرف رسول اللہ ﷺ کی بیٹی نہیں تھیں بلکہ اہل بیت اطہار کا فخر، اہل
ایمان کی ماں اور خاتون جنت ہیں۔
حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کسی کو بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ
شکل و صورت، چال ڈھال اور انداز و اطوار میں رسول اللہ ﷺ کے مشابہ نہیں دیکھا۔ جب
وہ آتیں تو آپ ان کا استقبال فرماتے، کھڑے ہو کر ان کا ہاتھ پکڑ کر چومتے اور اپنی
جگہ پر بٹھاتے۔ (ابو داود، 4/454، حدیث: 5217)
آپ کی حیات
مبارکہ صبر، حیاء، عبادت، سادگی اور وفاداری کی روشن مثال ہے۔ دنیاوی زینت سے بے
نیاز رہ کر آخرت کی تیاری میں مصروف رہتی تھیں۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عظمت ایسی تھی کہ نبی کریم ﷺ ان کے
احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ (فتاویٰ رضویہ، 30/462)
قاضی عیاض
رحمہ اللہ لکھتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سفر سے روانگی سے پہلے سب سے آخر میں حضرت فاطمہ
کے گھر جاتے، اور واپسی پر سب سے پہلے ان سے ملاقات کرتے۔ (الشفاء للقاضی عیاض، 1/577)
حضرت فاطمہ
الزہراء رضی اللہ عنہا نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی شہزادی تھیں، بلکہ وہ نور نبوت کا
مظہر، طہارت و عفت کا پیکر، زہد و عبادت کی علامت اور قیامت کے دن جنتی عورتوں کی
سردار ہوں گی۔ نبی کریم ﷺ کی ان سے محبت امت کے لیے درس ہے کہ عورت کی عظمت اس کی
دینداری، حیاء، سادگی اور وفا داری میں ہے، نہ کہ دنیاوی زیب و زینت میں۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم ان سے محبت کریں، ان کی سیرت کو اپنائیں، ان کی پیروی کریں اور ان کے ادب و
احترام میں کسی قسم کی کمی نہ آنے دیں۔ یہی محبت رسول کا عملی ثبوت اور ایمان کی
نشانی ہے۔
حضور
کی خاتون جنت سے محبت از بنت عارف، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
حضور ﷺ خاتون
جنت حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا سے بے انتہا محبت کرتے تھے جن کا ذکر احادیث
پاک میں بھی موجود ہے، چنانچہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے
جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ (مسلم، ص 1021، حدیث: 6307)
حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی تمام ازواج جمع تھیں اور
کوئی بھی غیر حاضر نہیں تھی اتنے میں حضرت فاطمۃ الزہرا آئیں جن کی چال حضور ﷺ کے
چلنے کے مشابہ تھی آپ نے فرمایا مرحباً (خوش آمدید) میری بیٹی پھر انہیں اپنی
دائیں یابائیں جانب بٹھا لیا پھر آپ نے ان سے چپکے سے کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہ رونے لگی پھر آپ نے چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگی حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا آپ کس وجہ سے روئیں انہوں نے
کہا: میں حضور ﷺ کا راز افشاں نہیں کروں گی حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا میں نے آج کی
طرح کوئی خوشی غم سے اتنی قریب نہیں دیکھی میں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ہمارے بغیر
آپ کے ساتھ کوئی خاص بات کی ہے پھر بھی آپ رو رہی ہیں اور میں نے حضرت فاطمہ سے
پوچھا حضور ﷺ نے کیا فرمایا تھا تو انہوں نے کہا: میرے بابا جان نے پہلی سرگوشی
میں اپنی وفات ظاہری وفات کی خبر دی تو رونے لگی اور دوسری بار سرگوشی میں یہ خبر
دی کہ آپ کے اہل میں سے سب سے پہلے میں آپ سے ملوں گی، تو میں ہنسنے لگی۔ (شان
خاتون جنت، ص 32)
اس
بتول جگر پارہ مصطفی حجلہ
آرائے عفت پہ لاکھوں سلام
جس
کا آنچل نہ دیکھا مہ و مہر نے اس
ردائے نزاہت پہ لاکھوں سلام
سیدہ
زاہرہ طیبہ طاہرہ جان
احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام
حضور ﷺ نے
فرمایا: قیامت کے دن ایک آواز دینے والا پردے کے پیچھے سے آواز دے گا: اے اہل محشر
اپنی نگاہیں جھکا لو تاکہ فاطمہ بنت محمد گزر جائیں۔ (جامع صغیر، ص 57، حدیث: 822)
حضرت علی رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مجھے براق پر اور
فاطمہ رضی اللہ عنہا کو میری سواری عضباء پر بٹھایا جائے گا۔ (تاریخ دمشق الکبیر 10/353)
حضرت مسور بن
مخر مہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بےشک فاطمہ میری ٹہنی
ہے جس چیز سے اسے خوشی ہوتی ہے اس چیز سے مجھے بھی خوشی ہوتی ہے جس چیز سے اسے
تکلیف پہنچتی ہے اس چیز سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے۔
حضرت علی رضی
اللہ عنہ نے بارگاہ رسول ﷺ میں عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ آپ کو میرے اور حضرت فاطمہ
میں کون زیادہ محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے فاطمہ تم سے زیادہ پیاری ہے اور تم
میرے نزدیک اس سے زیادہ عزیز ہو۔ (مسند حمیدی، 1/22، حدیث: 38)
حضور
کی خاتون جنت سے محبت از بنت سید ابرار،جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا آقا کریم ﷺ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی و محبوب شہزادی محترمہ ہیں، آپ
رضی اللہ عنہا کے بچپن میں ہی والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا تھا تو آقا کریم ﷺ نے
ہی ان کی پرورش فرمائی، آپ رضی اللہ عنہا شریعت کی پابندی کرنے والی خاتون تھیں، ساری
عمر پردہ کیا، نماز و روزہ کی پابند تھیں، آپ رضی اللہ عنہا کی سیرت ہمارے لیے
بہترین نمونہ ہے۔
ظاہری وصال
مبارک کے وقت انکو رازدار بنایا یعنی آقا کریم ﷺ نے اپنے (عنقریب) ظاہری وصال
فرماجانے کی خبر دی اور بتایا کہ تم سب سے پہلے میرے گھر والوں میں سےمجھے ملو گی
انہوں نے یہ راز ظاہری وصال فرمانے تک کسی کو بھی نہ بتایا یہ راز بھی انکی اور
آقا کریم ﷺ کی محبت کی علامت ہے۔
آپ رضی اللہ
عنہا چال ڈھال و صورت و گفتار میں سب سے زیادہ پیارے آقا کریم ﷺ کی مشابہ تھیں۔
آئیے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے کہ جن سے آپ سے آقا کریم ﷺ کی محبت کا
اظہار ہوتا ہے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے
کسی کو نہیں دیکھا جو رسول الله ﷺ سے ہیئت عادت صورت میں (ایک روایت میں ہے) اور
بات و گفتگو میں پورا پورا مشابہ ہو بمقابلہ جناب فاطمہ کے آپ جب حضور ﷺکی خدمت
میں آتیں تو حضورﷺ ان کے لیے کھڑے ہوجاتے ان کا ہاتھ پکڑتے انہیں چومتے انہیں اپنی
مجلس میں بٹھاتے اور جب حضور انور ﷺان کے پاس تشریف لاتے تو ان کے لیے کھڑی
ہوجاتیں حضورﷺ کا ہاتھ پکڑتیں اسے بوسہ دیتیں اور آپﷺ کو اپنی جگہ بیٹھالیتیں۔ (ابو
داود، 4/454، حدیث: 5217)
رسول الله ﷺ نے
فرمایا: فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اور ایک
روایت میں ہے کہ جو چیز انہیں پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اور جو انہیں
تکلیف دے مجھے ستاتا ہے۔ (مسلم، ص 1021، حدیث: 6307)
حضرت جمیع بن
عمیر فرماتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا
میں نے پوچھا کون شخص نبی ﷺ کو بہت پیارا تھا آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا فاطمہ
پھر کہا گیا کہ مردوں میں فرمایا ان کے خاوند۔ (ترمذی، 5/ 468، حدیث: 4900)
اس حدیث پاک
کی شرح میں مراۃ المناجیح میں لکھا ہے کہ اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یہی سوال
پوچھا جاتا تو آپ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ حضرت عائشہ اور انکے والد رضی اللہ عنہما
یہ ان مبارک ہستیوں کے پاک باطن ہونے کی علامت ہے کہ آپس میں بغض وغیرہ نہ رکھتے
تھے۔
آقا کریم ﷺ کو
اولاد میں سب سے زیادہ محبوب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں کہ یہ سب سے چھوٹی اور
لاڈلی تھیں۔ افسوس! ان پر جو ان حضرات کو ایک دوسرے کا دشمن کہتے ہیں۔(اشعہ)خیال
رہے کہ محبت بہت قسم کی ہے اور محبوبیت کی نوعیتیں مختلف ہیں۔اولاد میں سب سے
زیادہ پیاری جناب فاطمہ ہیں،بھائیوں میں سب سے زیادہ پیارے علی مرتضیٰ ہیں،ازواج
پاک میں بہت پیاری جناب عائشہ صدیقہ ہیں۔غرضکہ ایک محبت کے سلسلہ میں جناب فاطمہ
بہت پیاری،دوسرے سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقہ بہت پیاری رضی الله عنہما،مقابلہ ایک
سلسلہ کے افراد میں ہوتا ہے۔
روایت ہے حضرت
ثوبان سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے تو آپ کے گھر والوں میں جس شخص
سے آپ کی آخری ملاقات ہوتی وہ فاطمہ تھیں اور پہلے جن کے پاس تشریف لاتے فاطمہ
ہوتیں۔ (مستدرك للحاكم، 4/141، حدیث: 4792)
ان سب احادیث
مبارکہ سے اللہ پاک کے سب سے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اپنی شہزادی محترمہ حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا اظہار ہوتا ہے اس سے ہمیں بھی درس حاصل کرنا چاہیے
کہ جن کو اللہ پاک نے بیٹیوں سے نوازا ہے وہ انکی اچھی تربیت کریں ان سے پیار و
محبت بھرا شفقت بھراانداز رکھیں اور بیٹیوں کو بھی چاہیے کہ اپنے والدین و اہل
خانہ سے محبت کریں انکے حقوق ادا کریں شریعت کی پابندی ہر حال میں کریں اور ہمیں
ہر وقت اللہ و رسول ﷺ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اللہ پاک ہمیں
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین اللہ پاک ہمیں شہزادی کونین رضی اللہ عنہا کے صدقے
با حیا باپردہ اور ہرحال میں شریعت کا دامن ہاتھ میں تھامے رکھنے اور اس پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو انکے صدقے ہمیں سلامتی
ایمان و بلاحساب مغفرت کا پروانہ عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ
قابل
رشک آپ کی بے شک ہے قسمت فاطمہ آپ ہیں
بنت شہنشاہ رسالت فاطمہ
حضور ﷺ کو
اپنی چاروں شہزادیوں سے محبت تھی لیکن آپﷺ کواپنی سب سے چھوٹی شہزادی سے بہت زیادہ
محبت تھی۔ حضور پاک ﷺ کی سب سے چھوٹی مگر سب سے زیادہ پیاری اور لاڈلی شہزادی حضرت
بی بی فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ کا نام مبارک فاطمہ جبکہ زہرا اور بتول آپ کے القابات ہیں۔ حدیث پاک میں ہے: میری بیٹی کا
نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ اللہ پاک نے اس کو اور اس کے محبّین کو دوزخ
سے آزاد کیا ہے۔ (کنز العمال، جز:6،12 / 50، حدیث: 34222)
اللہ کے پیارے
نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میرا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا
اس نے مجھے ناراض کیا۔ ایک اور روایت میں
ہے: جو چیز انہیں پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اور جو انہیں تکلیف دے وہ
مجھے ستاتا ہے۔ (مسلم، ص 1021، حدیث: 6307)
محبت
بھرا منظر اور محبتوں بھرا جواب: مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کی: یار سول اللہ! آپ کو
وہ (حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا) مجھ سے زیادہ پیاری ہیں یا میں؟ تو نبی کریم ﷺ
نے بڑا ہی خوبصورت جواب ارشاد فرمایا: وہ مجھے تم سے زیادہ اور تم اس سے زیادہ
پیارے ہو۔ (مسند حمیدی، 1/22، حدیث: 38)
اے عاشقان
صحابہ واہلبیت! حضرت بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اور تمام امہات المؤمنین
(یعنی پیارے آقا ﷺ کی پاک بیویاں جو تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں) ایک دوسرے سے
محبت فرماتی تھیں، جیسا کہ ایک واقعہ ہے: حضرت جمیع بن عمیر تیمی رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں: میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی
خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے عرض کی گئی: حضور ﷺ کو کون زیادہ محبوب (یعنی پسندیدہ)
تھا؟ فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا، پھر عرض کی گئی: مردوں میں سے ؟ فرمایا: ان کے
شوہر، جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ بہت روزے رکھنے والے اور کثرت سے قیام کرنے والے
ہیں۔ (ترمذی، 5/468، حديث: 3900)
حضرت مفتی
احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ سچے محبِ اہل بیت اور عاشقِ صحابہ تھے آپ نے
اپنی کئی تحریرات میں حضرت بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی شان و عظمت بیان
کی ہے بلکہ آپ نے سیّدہ رضی اللہ عنہا کی مناقب بھی لکھی ہیں۔ شاید انہی برکتوں کا
نتیجہ تھا کہ حضرت بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی اور مفتی احمد یار خان
نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخ وصال ایک ہی (یعنی 3 رمضان المبارک) ہے۔ حضرت مفتی
احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ ترمذی شریف کی بیان کی گئی حدیث پاک کی شرح
میں لکھتے ہیں: یہ ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حق گوئی کہ آپ رضی اللہ
عنہا نے یہ نہ فرمایا کہ حضور ﷺ کو سب سے زیادہ پیاری میں تھی اور میرے بعد میرے والد بلکہ جو آپ کے علم میں حق تھاوہ صاف صاف کہہ
دیا اگر یہ ہی سوال حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے ہو تا تو آپ فرماتیں کہ
حضور ﷺ کو زیادہ پیاری جناب عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں پھر ان کے والد۔ معلوم ہوا
کہ ان کے دل بالکل پاک و صاف تھے۔ افسوس ان پر جو ان حضرات کو ایک دوسرے کا دشمن
کہتے ہیں۔ خیال رہے کہ محبت بہت قسم کی ہے اور محبوبیت کی نوعیتیں مختلف ہیں،
اولاد میں سب سے زیادہ پیاری جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، بھائیوں میں سب سے
زیادہ پیارے علی المرتضی ہیں اور ازواج پاک میں بہت پیاری جناب عائشہ صدیقہ رضی
اللہ عنہا ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 8 / 469)
خوش
آمدید میری بیٹی: نانائے
حسنین ﷺ اپنی شہزادی حضرت بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے بے حد محبّت
فرماتے تھے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ جب آپ تشریف لاتیں تو حضور ﷺ آپ کا مرحباً
بابنتی یعنی خوش آمدید میری بیٹی! کہہ کر استقبال فرماتے اور اپنے ساتھ بٹھاتے۔
(بخاری، 2/507، حدیث: 3623)
تمام مسلمانوں
کی پیاری امی جان حضرت بی بی عائشہ صدیقہ، طیبہ، طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
میں نے چال ڈھال، شکل و صورت اور بات چیت میں بی بی فاطمہ سے بڑھ کر کسی کو حضور
اکرم ﷺ سے مشابہ(یعنی ملتی جلتی) نہیں
دیکھا اور جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پیارے آقا ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں تو
حضور ﷺ ان کے استقبال کے لئے کھڑے ہو جاتے، ان کے ہاتھ کو پکڑ کر بوسہ دیتے اور
اپنی جگہ پر بٹھاتے اور جب حضور پرنور ﷺ بی بی فاطمہ کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ
(بھی) حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے کھڑی ہو جاتیں اور پیارے آقا ﷺ کے مبارک ہاتھ کو
تھام کر چومتیں اور اپنی جگہ بٹھاتیں۔ (ابو داود، 4/454، حدیث: 5217)
کاش! حضرت بی
بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے محبت و عقیدت کا دم بھرنے والے اور والیاں بھی
سنّتوں کو اپنا لیں اور اپنا اٹھنا بیٹھنا اوڑھنا بچھونا سنت کے مطابق کر لیں۔ اے
کاش! صد کروڑ کاش! ہم سب سنت مصطفٰے ﷺ کی چلتی پھرتی تصویر بن جائیں۔ آمین
پودا
لگانا ہے درخت بنانا ہے از بنت اسرار حسین شاہ،داتا نگر بادامی باغ لاہور
اللہ تعالیٰ
نے زمین کی زینت میں درختوں کو ایک اہم نعمت بنایا۔ ارشاد ربانی ہے: فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ
بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍۘ-لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ
وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ(۱۹) (پ 19، المؤمنون:
19) ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے اس میں کھجور اور انگور کے باغات بنائے جن میں
بہت سے پھل ہیں اور ان میں سے تم کھاتے ہو۔ یعنی درخت صرف زمین کی خوبصورتی نہیں،
بلکہ ہماری بقا، رزق اور راحت کا ذریعہ ہیں۔
امام ابن جوزی
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: درختوں کا سایہ مسافروں کے لیے اللہ کی نعمت ہے اور ہر
نعمت پر شکر واجب ہے۔ (صید الخاطر، ص 142)
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: جو مسلمان کوئی درخت لگائے یا کھیتی کرے، پھر اس میں سے کوئی انسان یا
پرندہ یا جانور کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوگا۔ (بخاری، 2/ 85، حدیث: 2320)
مزید فرمایا:
اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تمہارے ہاتھ میں ایک پودا ہو، اور تم اس کے لگانے پر
قادر ہو، تو ضرور اسے لگا دو۔ (مسند امام احمد، 20/251، حدیث: 12902)
سبحان اللہ! یعنی
درخت لگانے کی اہمیت اتنی ہے کہ قیامت کے لمحے میں بھی اسے لگانے کا حکم ہے۔
شیخ عبد الحق
محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: درخت کا پھل کھانے والا انسان ہو یا پرندہ،
نفع دینے والی ہر چیز باعث اجر ہے۔ (مدارج النبوة، 1/290)
اکابرین
اہل سنت کا انداز فکر: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں: ہر وہ کام جو بندگان خدا کی فلاح کا ذریعہ بنے، وہ باعث قرب خدا ہے،
اور ان میں ایک بہترین عمل درخت لگانا بھی ہے، جو مخلوق کو سایا، پھل اور فائدہ
دیتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/417)
مفتی احمد یار
خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: درختوں کا لگانا نفع عام ہے، اور نفع عام کا
انتظام کرنا عبادت ہے۔ جو درخت سے فائدہ اٹھائے گا، وہ لگانے والے کے لیے نیکی کا
باعث بنے گا۔ (مراۃ المناجیح، 2/410)
صدر الشریعہ
مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پودا لگانا اور ہریالی پیدا کرنا
مسلمانوں کے لیے باعث صدقہ جاریہ ہے، بشرطیکہ نیت نیک ہو اور اللہ کی رضا مقصود
ہو۔ (بہار شریعت، 6/93، حصہ: 16)
شیخ عبدالغنی
نابلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: درخت لگانا مخلوق کے لیے امان، اور قیامت کے دن
اپنے لگانے والے کے لیے گواہی ہے۔ (حواشی شرح عقائد نسفی، ص 118)
ایک
سبق آموز واقعہ: ایک
مرتبہ حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور شکایت کی: حضرت!
بارش نہیں ہو رہی، کھیتیاں مرجھا رہی ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: زمین کو ہرا کرو، درخت
لگاؤ، اللہ کی رحمت برسے گی۔ چنانچہ لوگوں نے درخت لگائے، کھیت سنوارے، تو اللہ
تعالیٰ نے آسمان سے خوب باران رحمت نازل فرمائی۔ (البدایہ والنہایہ، 9/310)
ہم اکثر دعا
کرتے ہیں: یا اللہ ہمیں صدقہ جاریہ نصیب فرما! درخت لگانا بہترین صدقہ جاریہ ہے: جب تک وہ درخت زندہ ہے، جب تک اس سے کوئی سایہ
لیتا ہے، جب تک کوئی جانور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے، ہر لمحہ لگانے والے کے اعمال
نامے میں نیکی لکھی جاتی ہے۔ حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: دنیا میں
جو زمین کو سنوارتا ہے، قیامت میں اللہ اس کے لیے جنت کو سنوار دیتا ہے۔ (احیاء
علوم الدین، 2/367)
آئیے! ہر سال
کم از کم ایک درخت اپنے نام کا لگائیں۔ ہر بچے کے ہاتھ میں قرآن کے ساتھ ایک ننھا
سا پودا بھی دیں۔ مسجدوں، مدرسوں، گھروں اور قبرستانوں کے اردگرد شجرکاری کریں۔ سایہ
دار، پھل دار اور خوشبو دار درخت زیادہ لگائیں۔
یاد رکھیں! درخت
دنیا میں بھی ٹھنڈی چھاؤں ہے اور آخرت میں بھی ٹھنڈی چھاؤں کا ذریعہ!
درخت
لگانے کے 5 عظیم فائدے: درخت لگانا زمین پر زندگی کو فروغ دینا ہے اور اللہ
تعالیٰ زندہ زمین سے راضی ہوتا ہے۔ جب تک درخت سے کوئی فائدہ اٹھائے گا، لگانے
والے کے لیے نیکیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ درخت آکسیجن مہیا کرتے ہیں، فضا کو صاف
کرتے ہیں اور زمین کو خوبصورت بناتے ہیں۔ پرندے، جانور اور انسان سب درختوں سے
فائدہ اٹھاتے ہیں، اور یہ خدمت عند اللہ مقبول ہے۔ احادیث میں ہے، نیک اعمال قیامت
کے دن سایہ فراہم کریں گے، درخت لگانے کا عمل بھی اس میں شامل ہوگا۔
آج ہمارے
معاشرے میں آکسیجن کی کمی اور فضائی آلودگی پچھلے چند سالوں کی بہ نسبت کئی گنا
پھیل چکی ہے اسی کے ساتھ ساتھ نزلہ، کھانسی، گلے کی خرابی، تنگئی تنفس جیسی کئی
بیماریاں بھی پہلے کے مقابلے میں اب بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں اور اس سب کی وجوہات
میں جگہ جگہ کچروں کے ڈھیر، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، گلی محلوں میں صفائی کے
دوران اڑنے والا گرد و غبار ہے ان وجوہات کے ساتھ سب سے بڑی اور اہم وجہ درختوں
اور پودوں کی شدید کمی ہے یہ اسلئے ہوتا ہے کہ فرنیچر بنانے کے لیے لکڑی کار آمد
ہوتی ہے جس کے لیے درختوں کو کاٹ کر ہمارے اردگرد کے ماحول کو خراب کردیا جاتا ہے
درخت کٹنے سے ماحول میں گرد و غبار اور آلودگی پھیلتی ہے اور یہ آلودگی و غبار
کھانے کی اشیاء اور پینے کے پانی میں شامل ہوکر بیماریاں پھیلنے کی وجہ بنتا ہے اب
غور طلب بات یہ ہے کہ اس فضائی آلودگی اور تیزی سے پھیلنے والی ان بیماریوں کا
خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
اس سوال کا
بہترین جواب اور آلودگی اور بیماریوں کا بہترین حل درخت لگانا ہے درختوں کا یہ
فائدہ ہے کہ فضا میں پھیلنے والا گرد و غبار جو کہ انسانوں کو آکسیجن کی وافر
مقدار ملنے میں تنگی کا باعث بنتا ہے اس گرد و غبار کو درخت اپنے اندر جذب کرلیتے
ہیں اور انسانوں کو آلودگی سے پاک ہوا مہیا کرتے ہیں۔
درخت لگانا بے
حد کار ثواب ہے یہ کام اگرچہ چھوٹا سا ہے لیکن اسکا ثواب بہت بڑا ہے ایک شخص پودا
لگاتا ہے وہ پودا بڑا ہو کر تن آور درخت بنتا ہے مخلوق اس سے فائدہ اٹھاتی ہے یہ
مخلوق کے لئے آسانی پیدا کرنا ہے اور جو شخص مخلوق کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے تو
اللہ رب العزت اس کے لیے دنیا و آخرت کے معاملات میں آسانی فرمائے گا۔
الحمدللہ دعوت
اسلامی کے شعبہFGRF
کے تحت چند سالوں سے ہر سال ماہ اگست میں پودا لگانا ہے درخت بنانا ہے مہم کا آغاز
کیا جاتا ہے اور لاکھوں خوش نصیب لوگ اس کار خیر میں اپنا حصہ شامل کرکے دنیا و
آخرت کی آسانیاں سمیٹتے ہیں۔ درخت ہمارے ماحول میں خوبصورتی پیدا کرنے کا بھی
ذریعہ ہیں اور یہ ہمارے معاشرے کو شعور سے آراستہ معاشرہ بنانے میں بھی مدد کرتے
ہیں۔ لہذا ہمیں بھی کوشش کرنی ہے کہ ہم بھی اس نیک کام میں اپنا حصہ شامل کریں اور
دنیا و آخرت کی بھلائیاں سمیٹیں۔
اللہ پاک دعوت
اسلامی اور امیر اہلسنت کو سلامت رکھے اور ہمیں مخلوق کی مدد کی توفیق دے۔
پس منظر
ہند کے صوبے راجستھان کے علاقے
مارواڑ سے حافظ محمد عثمان رحمۃ اللہ علیہ جو اعلیٰ حضرت رحمۃ
اللہ علیہ کے عقیدت مند بھی تھے انہوں نے امامِ اہلسنت کو خط لکھا کہ ہمارے
علاقے سانبھر میں مولانا احمد علی شاہ حنفی نقشبندی اویسی تشریف لائے ہیں آپ کی
کتابوں کے ساتھ ساتھ مولانا احمد علی شاہ صاحب کے بیانات کی وجہ سے بہت سے لوگ
اپنے غلط عقیدے اور نظرئیے سے توبہ کرکے صحیح العقیدہ سنی ہوچکے ہیں، آپ اپنے ہر
بیان میں صلح کلی والوں (ندوہ والوں) کا ایسا رد کرتے ہیں کہ یہاں کے وہ لوگ جو انہیں صحیح
سمجھتے تھے اور ان کے عقیدت مند تھے اب
توبہ کرکے ان سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں، آج کل ان صلح کلی والوں کا ایک
مولوی یہاں آیا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ مولوی احمد علی شاہ صاحب تو خود بد عقیدہ
اور جاہل ہیں اور اس کے کہنے سے کچھ لوگ بہک کر اس کے ساتھ بھی ہوگئے ہیں ان کو
سمجھایا تو کہتے ہیں کہ اگر مولانا احمد رضا خان صاحب ، مولانا احمد علی شاہ صاحب
کے عقائد ونظریات کو درست قرار دے دیں گے تو ہم اپنے نظریات سے توبہ کرکے ان کی
بات سنیں گے، لہٰذا آپ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ آپ ارشاد فرمائیں کہ مولانا احمد
علی شاہ صاحب آپ کے نظرئیے کے مطابق کیسے ہیں، آپ کے جواب سے امت کو بہت فائدہ
ہوگا۔ والسلام
اعلیٰ حضرت رحمۃ
اللہ علیہ نے یہ جواب ارشاد
فرمایا: معزز حافظ محمد عثمان صاحب السلام
علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:آپ کا خط تشریف
لایا، یاد کرنے کا شکریہ۔ ایک دفعہ مولانا
احمد علی شاہ صاحب گھر پر تشریف لائے تھے یہ ان سے پہلی ملاقات تھی پھر عظیم آباد
، پٹنہ، بہار کے جلسے میں ملاقات ہوئی لیکن دونو ں ملاقاتوں میں صرف سلام ومصافحہ
ہوا کسی موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی، کسی انسان کے بارے میں گواہی دینا ایک اہم
اور نازک معاملہ ہے، میں مولانا احمد علی شاہ صاحب کے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں
کررہا بس یہ چاہتا ہوں کہ ان کے جو فضائل آپ کے خط کے ذریعے مختصراًسنے ہیں انہیں تفصیل سے جان لوں ، مولانا صاحب کی حق
پسندی سے امید ہے کہ وہ ناراض ہونے کے بجائے خوش ہونگے کیونکہ صرف غیر مقلدین اور
ندوہ والوں کا فتنہ ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ سینکڑوں فتنے ہندوستان میں موجود ہیں
، میں بیس (20) چیزیں لکھتا ہوں جن
پر مولانا صاحب اپنی تصدیق فرماکر بھیج دیں۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
سنیت کی پہنچان کے اصول
(۱) سید احمد خاں علی گڑھ اور اس کے پیروکارسب کفار ہیں۔
(۲) جو رافضی قرآنِ پاک کو نا مکمل کہے
یا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم یا ان کے علاوہ کسی غیر نبی کو، نبی سےافضل مانے،وہ کافر و مرتد ہے ۔
(۳) رافضی تبرائی فقہائے کرام کے نزدیک کافر ہے اور اس کے گمراہ بدعتی اور
جہنمی ہونے پر علمائے کرام کا اتفاق ہے۔
(۴) جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو اللہ پاک کے قرب کے حوالے سے حضرت سیّدنا صديق اكبر اور عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما سے زیادہ فضیلت والا سمجھے، وہ گمراہ اور سنت کی خلاف ورزی كرنے والا ہے۔
(۵) جنگِ جمل و صفین میں امیر المومنین حضرت
علی کرم اللہ وجہہ الکریم حق پرتھے مگر ان کے سامنے آنے والے صحابۂ کرام علیہم الرضوان کی خطا، اجتہادی تھی جس کی وجہ سے ان کے بارے میں برے
جملے کہنا سخت حرام ہے اور ان کی شان میں گستاخی کرنا بلا شبہ
رافضیت ہےاور ایسا کرنے والااہلسنت سے خارج ہے۔ جو شخص کسی صحابی
کی شان میں (معاذ اللہ ) برے جملے کہے یا انہیں بُرا سمجھے یا ان میں سے کسی سے بغض رکھے
وہ پکاّ رافضی ہے۔
(۶) صدیوں سے مجتہد مطلق کے درجہ کو کوئی نہ پہنچا اور اس درجہ کو پہنچے بغیر تقلید كرنا فرض ہے،لہذا غیر مقلدین گمراہ
اور بددین ہیں۔
(۷) صدیوں سے اہلسنّت
چارگروہ :حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی میں ہی ہیں جو ان سے خارج ہے وه بدعتی، جہنمی ہے۔
(۸) وہابیوں کا پہلا استاد ابنِ عبدالوہاب نجدی اور دوسرا اسماعیل دہلوی ”تقویۃ الایمان“ كا مصنف ہیں اور دونوں سخت
گمراہ بددین تھے۔
(۹) اسماعیل دہلوی کی کتاب ”تقویۃ
الایمان“، ”صراطِ مستقیم“، ”رسالہ یکروزی“ اور ”تنویر العینین“ کھلی گمراہیوں اور
کفریہ باتوں پر مشتمل ہیں۔
(۱۰ )مولوی اسحٰق دہلوی کی کتاب ”مائۃ مسائل“ غلط و مردود مسائل، اہل سنّت اور جمہور كی مخالفت سے بھرپورہے۔
(۱۱) انبیائے کرام اور اولیائے کرام سے مدد
مانگنا ، انہیں حاجت کے وقت مدد کے لئے پکارنا یعنی یارسول اﷲ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم، یا علی کرم اللہ وجہہ الکریم، یا شیخ
عبدالقادر الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ کہنا اور انہیں اللہ پاک کے فیوض وبرکات جاری ہونے کا ذریعہ سمجھنا بلا شبہ درست اور جائز
ہے۔
(۱۲) دنیا کی ظاہری زندگی میں اور اس کے
بعدبھی انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اللہ پاک کی عطا سے تصرف کرتے ہیں اور قیامت تک ان کا یہ فیضان جاری رہے گا۔
(۱۳) مُردوں کا سننا حق ہے ، عام مُردے
زندوں کو دیکھتے ہیں، ان كی باتيں سُنتے
اور سمجھتے ہیں پھر اولیائے کرام کی شان
توبہت بلند ہے۔
(۱۴) پہلے دن سے قیامت تک جو کچھ ہوا
یا ہوگا اﷲ پاک نے ایک ایک ذرّے کا حال اپنے آخری نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو بتادیا، لہٰذا رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا علم ان تمام غیب کی باتوں کو شامل
ہے۔
(۱۵) اسماعیل دہلوی کے رسالہ ”یکروزی“
اور گنگوہی کی کتاب ”براہین قاطعہ“
میں اللہ سبحانہ وتعالی کے جھوٹ بولنے کو جو ممکن مانا گیا ہے،
یہ کھلی گمراہی ہے۔ پوری امت کا اس پر اجماع واتفاق ہے کہ ”اﷲ تعالیٰ کا جھوٹا ہونا“ یقیناً محال بالذات یعنی کسی بھی صورت ممکن ہی نہیں ہے۔ مسئلہ ”خلفِ وعید“
کولےکر جو اللہ سبحانہ وتعالی کے جھوٹ بولنے کو ممکن بتایا جاتا ہے حالانکہ حقیقت میں ان
دونوں کاان کے اس ناپاک خیال سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
(۱۶) شیطان کے علم کو (معاذ اﷲ) رسول اللہ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علم سے بڑھ
کر سمجھنا جیسا کہ گنگوہی کی کتاب”براہین قاطعہ“ میں ہے، یہ کھلی گمراہی اور
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی واضح توہین ہے۔
(۱۷) میلاد شریف کی محفل میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کی خوشی میں تعظیماً کھڑا ہونا جس طرح صدیوں سے حرمین شریفین میں رائج
ہے، جائز ہے۔
(۱۸) شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے گیارھویں
شریف کی نیاز کرنا، اولیائے کرام کا عرس منانا اورمُردوں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب
ہے۔
(۱۹) شریعت اور طریقت دونوں الگ الگ نہیں
ہیں، شریعت کی پیروی کے بغیر اﷲ تعالیٰ تک
رسائی ناممکن ہے، کوئی کتنے ہی بلند مرتبہ تک پہنچ جائے، جب تک عقل
باقی ہے اللہ تعالیٰ کے احکامات اس پر سے معاف نہیں ہوسکتے، بناوٹی صوفی شریعت کی مخالفت کو اپناکمال
سمجھتے ہیں سب گمراہ شیطان کے کھلونے ہیں، ”وحدتِ وجود“ کا نظریہ حق ہے جبکہ ”حلول“ اور ”اتحاد“ کا نظریہ جوآج کل کے بعض بناوٹی صوفی بکتے
ہیں یہ واضح کفر ہے ۔
(۲۰) ندوہ گمراہیوں اور بدعتوں کا گڑھ ہے، گمراہوں سے میل جول حرام ہے، ان کی تعظیم کرنا اللہ عزوجل کے غضب کو دعوت دینا ہے اور ندوہ کے فتنے کا دفاع کرنا
اللہ پاک کی لعنت کی طرف بلانا ہے، انہیں کسی دینی مجلس کارکن بنانا دین کو نقصان
پہنچانا اور گراناہے۔ ندوہ کے لیکچروں میں وہ باتیں بھری ہیں جن سے اﷲ عزوجل اور رسول اللہ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیزار اور بَری ہیں، اﷲ تعالیٰ تمام بدمذہبوں اور گمراہوں سے بچائے اور حقیقی سنّت پر ثابت قدم رکھے۔
پھر امام اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصدیق ومہر لگاتے ہوئے لکھا
کہ آج کل بہت سے لوگ
سنی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور عوام بیچارے دھوکے میں پڑتے ہیں،بعض وقتی مصلحت کے
پیش نظر زبان سے کہتے کچھ ہیں لیکن پھر موقع ملتے ہی مکر جاتے ہیں، کسی کی سنی
ہونے کی جانچ پڑتالی کے لئے یہ بیس پوائنٹس کافی ہیں اگر واقعی سنی ہوگا تو بغیر
کسی شک وشبہ کے انہیں درست سمجھے گا اور
قبول کرے گا ورنہ خود ہی گمراہی میں پڑے گا۔
تلخیص وتسہیل: مولانا
محمد کاشف سلیم عطاری مدنی
تاریخ: 17.06.2025
پودا
لگانا ہے درخت بنانا ہے از بنت محمد اسماعیل قادری،فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
الحمدللہ ہم
مسلمان ہیں اور ایک شخص کا مسلمان ہونا اس سے یہ تقاضہ کرتا ہے کہ اس کا طرز زندگی
سنت نبوی کے مطابق ہو اور ہمارے پیارے آقا ﷺ کی ایک پیاری پیاری سنت درخت لگانا
بھی ہے۔ یہ نہ صرف سنت نبوی ہے بلکہ ثواب جاریہ پانے کا ذریعہ بھی ہے۔ چنانچہ روایت
میں ہے کہ مسلمان جو کچھ اگائے پھر اس میں سے کوئی انسان یا جانور یا پرندہ کھائے
تو وہ اس کے لئے قیامت تک صدقہ ہوگا۔ (بخاری، 2/ 85، حدیث: 2320)
درخت
کی ضرورت و فوائد: درخت لگاناجہاں کار ثواب ہے وہیں یہ ہماری ضرورت
بھی ہیں کہ یہ ہمارے لیے (معاشی، معاشرتی،
طبی،طبعی) ہر لحاظ سے فائدہ مند ہیں، درخت
کے کثیر فوائد میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
درخت آکسیجن
کی فراہمی کا ذریعہ اور خوشبودار ماحول کا سبب ہیں، درخت ایندھن کی فراہمی اور
بجلی کی بچت کا ذریعہ ہیں، غذائی ضروریات کے حصول کا ذریعہ اور زمین کی زرخیزی میں
اضافے کا سبب ہے، ماہرین کے مطابق درختوں کے درمیان رہنے والے انسان کی تخلیقی
صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی بنا پر شہری علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں کے
گرد زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جاتے ہیں تاکہ طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں میں خوب
اضافہ ہو۔
بہر حال
درختوں کے بہت سے فوائد ہیں جنہیں پانے کے لیے خوب خوب درخت لگانے کی حاجت وضرورت
ہے۔
حفاظتی
اقدامات: ہمارا
مقصد صرف پودوں کو لگا کر چھوڑ دینا نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ پودا
لگانا ہے درخت بنانا ہے۔ہمارے یہاں عموماً دیکھا جاتا ہے کہ پودے لگانے کے بعد ان
کے معاملے میں احتیاط نہیں کی جاتی جس کی بناء پر وہ چند ہی دنوں میں مرجھا کر ختم
ہو جاتے ہیں یا پھر کسی جانور کی غذا بن جاتے ہیں۔ یاد رکھیے! پودے کی مثال چھوٹے
بچے کی طرح ہے، جس طرح والدین چھوٹے بچے کی ہر چیز کا خیال رکھتے ہیں اور خوب تن
دہی سے اس کی پرورش کرتے ہیں، اگر تھوڑی سی بے توجہی ہو جائے تو بچہ کئی بیماریوں
کی زد میں آسکتا ہے، اسی طرح پودوں کا بھی معاملہ ہے کہ اگر ان کی درست انداز میں
آبیاری نہ کی گئی اور انہیں ایسے ہی لگا کر چھوڑ دیا گیا تو یہ درخت بننے سے پہلے
ہی مرجھا جائیں گے۔ (درخت لگائیے ثواب کمائیے، ص 7)
پودوں کی
حفاظت کیلئے درج ذیل ہدایات پر عمل مفید ہے:
(1)وقت پر
آبیاری کی جائے،(2) پودے خریدنے میں نرسری والوں کے دھوکوں سے بچیں۔ جب بھی کسی
درخت، بیل یا جھاڑی کے پودے کا انتخاب کریں تو دیکھ بھال کر ایسا پودا خریدیں جو
ذرا سی بھی خراب حالت میں نہ ہو، جس پر کیڑوں یا بیماری کے نشانات نہ ہوں یا جس کی
آہستہ Growth
نہ ہو(3) پودا لینے میں یہ احتیاط لازمی کریں کہ اسکی عمر کم از کم چھ ماہ ضرور ہو
(4) درخت، بیل یا جھاڑی خریدنے سے پہلے اس بات کی مکمل معلومات حاصل کر لیں کہ
مکمل بڑے ہونے پر وہ کتنی اونچائی، چوڑائی اور پھیلاؤ حاصل کریں گے۔ یہ ضروری بات
میں ذہن میں رکھیں کہ زمین کے نیچے درختوں کی جڑوں (Roots)
کا پھیلاؤ ان کے زمین سے اوپر موجود تنے سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ (5)ان پودوں
کیلئے درست جگہ کا انتخاب کیا جائے۔
امید ہے کہ
اگر ان نکات کو مد نظر رکھا جائے تو ایک پودا مضبوط درخت کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
شجر
کاری مہم میں دعوت اسلامی کا کردار: جہاں دعوت اسلامی دیگر دینی و فلاحی
کاموں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے وہیں اس کا ایک شعبہ (FGRF)
شجر کاری مہم میں بھی اپنا کردار نبھا رہا ہے اور الحمد للہ اس شعبے کے تحت دعوت
اسلامی اب تک (2025) کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 30,00,000 (تیس لاکھ) درخت لگا چکی
ہے آپ بھی اس نیک کام میں اپنا حصہ ملائیے اور ثواب جاریہ کے حقدار بن جایئے اور
نیت فرمالیجیے کہ پودا صرف لگانا نہیں ہے بلکہ پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے۔
پودا
لگانا ہے درخت بنانا ہے از بنت محمد فہیم عطاری، جامعۃ المدینہ فیض مدینہ نارتھ
کراچی
موضوع ہے پودا
لگانا ہے درخت بنانا ہے اس کا مطلب شجرکاری کرنی ہے انسان اور درخت کا آپس میں بہت
گہرا تعلق ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہے کہ دونوں کی بقا ایک دوسرے کے لیے ناممکن
ہے انسان کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے یہ آکسیجن پودے فراہم کرتے
ہیں اسی طرح پودوں کو زندہ رہنے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے
کیونکہ یہ گیس پودوں کی خوراک بنانے کا بہترین جزو ہے اور یہ گیس انسان اور دوسرے
جانور ہی مہیا کرتے ہیں درخت نہ صرف ہمیں اکسیجن دیتے ہیں بلکہ خوراک،رہائش کا
سامان، ادویات،فرنیچر اور دوسری بہت سی اشیاء بھی فراہم کرتے ہیں۔
اگر روۓ زمین
پر درخت اور ہریالی نہ ہو تو ہماری زندگی بہت مشکل ہو جائے گی یہ درخت ہی تو ہے جو
انسان کے ہاتھوں پیدا ہونے والی فضائی آلودگی اور زمینی آلودگی کو کنٹرول کرتے ہیں
درخت ہی پرندوں اور جانوروں کا گھر،ان کا مسکن اور خوراک کا ذریعہ ہے زمین پر
پھیلے ہوئے جنگل اور درخت بنی نوع انسان کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہے درخت نہ صرف
سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ آلودگی کو کم کرتے ہیں درختوں کے نہ صرف دنیاوی فائدے
ہیں بلکہ اس کے اخروی فائدے بھی موجود ہیں دینی فائدے نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ
میں درخت لگانے کو صدقہ شمار کیا ہے مرنے کے بعد بھی اگر قبر پر پودے لگائے جائے
تو اس سے مردے کو انسیت حاصل ہوتی ہے۔
احادیث مبارکہ
میں پودے لگانے کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں
اللہ پاک کے
آخری نبی محمد عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کوئی درخت لگایا اور اس کی حفاظت اور
دیکھ بھال پر صبر کیا یہاں تک کہ وہ پھل دینے لگا تو اس میں کھایا جانے والا ہر
پھل اللہ پاک کے نزدیک اس کے لیے صدقہ ہے۔ (مسند امام احمد، 5/574، حدیث: 18586)
حضرت انس رضی
اللہ عنہ سے مروی حدیث پاک میں ہے: سات چیزیں جن کا ثواب انسان کو مرنے کے بعد بھی
ملتا رہتا ہے ان میں سے ایک درخت گانا ہے۔ (مجمع الزوائد، 1/408، حدیث: 769)
شجرکاری
کے فائدے: درختوں
کے بے شمار فائدے ہیں ان میں سے چند فائدے درج ذیل ہیں:
درخت لگانا
صدقہ جاریہ ہے، درخت زمین پر زندگی کو برقرار رکھنے کی بنیاد ہے، درخت ہمیں سایہ
فراہم کرتا ہے، درختوں سے ہمیں مختلف قسم کے پھل حاصل ہوتے ہیں، درختوں سے ہمیں
پھول حاصل ہوتے ہیں جن کو خوشبو اور سجاوٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، درختوں سے
لکڑی حاصل ہوتی ہے جس سے گھر،کاغذ، ربڑ، دروازے وغیرہ بنائے جاتے ہیں، ہم درختوں
سے آکسیجن حاصل کرتے ہیں، درختوں سے آلودگی میں کمی ہوتی ہے، درختوں کے باعث زمینی
سیلابوں سے حفاظت رہتی ہے۔
سائنسی تحقیق
کے مطابق بھی شجرکاری کے بڑے فائدے ہیں درخت اور پودے کاربن ڈائی اکسائیڈ لیتے اور
آکسیجن فراہم کرتے ہیں آکسیجن انسانی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے اس کے بغیر
انسان زندہ نہیں رہ سکتا اللہ پاک نے درختوں اور پودوں کو انسان کی خدمت کے لیے
بنایا ہوا ہے یہ گندی ہوا لے کر اپنی پاکیزہ ہوا دیتے ہیں درجہ حرارت کو بڑھنے
نہیں دیتے درخت اور پودے فضائی آلودگی میں کمی کرتے ہیں درخت اور پودے کی کثرت سے
ماحول ٹھنڈا اور خوشگوار رہتا ہے اس سے بجلی کی بھی بچت ہوتی ہے کیونکہ جو الات
گرمی دور کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں ان کی ضرورت میں کمی ہوجاتی ہے یا بالکل ہی
چھٹکارا مل جاتا ہے۔
پودا
لگانا ہے درخت بنانا ہے از بنت محمد فیاض احمد، جامعۃ المدینہ فیض مدینہ نارتھ
کراچی
پودے زمین پر
نہ صرف انسانی بلکہ ہر جاندار کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ یہ صرف ہمارے ماحول کو
خوبصورت اور خوشگوار ہی نہیں بناتے بلکہ انسانی صحت اور زندگی لیے بھی بےشمار
فوائد فراہم کرتے ہیں۔ اللہ پاک نے پودوں کے اندر ایسے وٹامنز، معدنیات اور دیگر
اہم اجزارکھے ہیں جوجسم کی نشو نما اور صحت کے لیے ضروری ہیں۔
شجر کاری کرنا
یعنی پودا لگانے کا کام کرنا سنت رسول ﷺ بھی ہے۔ تقریبا ہر فرد پودالگاتو لیتا ہے
مگر اس کی دیکھ بھال پر دھیان نہیں دے پاتا جس کی وجہ سے وہ مرجھا جاتا ہےاور اس
کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25 فیصد حصہ
جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے. جب ہم پودا لگا کر اس کی حفاظت ہی نہیں کریں گے تو کس
طرح وہ درخت بن کر ہمیں فائدہ پہنچا سکیں گے. درخت جو کہ ہمیں آکسیجن فراہم کرتا
ہے دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ درخت کی زیادہ سے زیادہ پیداوار بھی بہت
ضروری ہے کیونکہ انسان اکسیجن کو اپنے اندر لیتا ہے۔
پیڑ بنی نوع
انسان کے لیے اللہ پاک کی قدرت کا انمول تحفہ ہے اگر یہ ختم ہو جائیں گے تو آنے
والی نسلوں کے لیے بہت سےمسائل سامنے کھڑے ہونگے
شجر
کاری پر فضائل: نبی
پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کوئی درخت لگایا اور اس کی حفاظت اور دیکھ بھال پر
صبر کیا یہاں تک کہ وہ پھل دینے لگا تو اس میں سے کھایا جانے والا ہر پھل اللہ پاک
کے نزدیک اس کے لئے صدقہ ہے۔ (مسند امام احمد، 5/574، حدیث: 18586)
حضرت انس رضی
اللہ عنہ سے مروی حدیث پاک میں وہ سات چیزیں جن کا ثواب انسان کو مرنے کے بعد بھی
ملتا رہتا ہے ان میں سے ایک درخت لگانا بھی ہے۔
حضرت محمد
مصطفی ﷺ نےارشاد فرمایا: جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں جو پرنده یا
انسان کھائے تو وہ اسکی طرف سے صدقہ شمار ہوگا۔ (مسلم، ص 840، حدیث:1553)
درخت کے فوائد: پودالگا کر اس
کی دیکھ بھال بھی کی جائے یہاں تک وہ ایک مفید درخت بن جائے کیوں کہ درخت کے بہت
سے فوائد ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
پودے آکسیجن
پیدا کرتے ہیں، جو کہ زندگی کے لیے ضروری ہے۔ درخت مختلف قسم کے جانداروں کے لیے
رہائش فراہم کرتے ہیں اور بہت سے پرندے درخت میں اپنا گھونسلہ بنا کر رہتے ہیں، پودوں
سے انسانوں کے لیے خوراک حاصل ہوتی ہے جیسے: پھل، سبزیاں اور اناج وغیره۔ پودے طبی
فوائد کے لیےبھی استعمال ہوتے ہیں جیسے: ہلدی، ادرک اور پودینے۔ درخت کی لکڑی سے
گھروں کی سجاوٹ کے لیے فرنیچر، کرسی، میز اور دوسری بہت سے چیزیں بنائی جاتی ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ
زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر اس عالمی سطح پر ہونے والی خرابیوں (جیسے: درختوں کٹاؤ،
گاڑیوں کا بے تحاشا دھواں، زہریلی گیس وغیرہ) سے اپنے ماحول کو محفوظ رکھیں۔
پودا
لگانا ہے درخت بنانا ہے از بنت طاہر احمد عطاری، جامعۃ المدینہ فیض مدینہ نارتھ
کراچی
ہمارا یہ
مضمون بہت ہی پیارا ہے کہ پودا لگانا ہے درخت بنانا ہے اسکے معانی و مفہوم بہت ہی
وسیع ہیں اگر ہم اس جملے کی تشریح کریں کہ پودا لگانا ہے درخت بنانا ہے یعنی ہم نے
پودا لگا تو دیا لیکن لگانے کے بعد اسکی کیا حالت ہوئی آیا وہ درخت بنا بھی ہوگا
یا نہیں ہمیں صرف پودا لگانا ہی نہیں ہے بلکہ اسے پایہ تکمیل تک بھی پہنچانا ہے
یعنی اسکے درخت بننے تک اسکی حفاظت بھی کرنی ہے اسے پانی دینا اسکی مقدار کے مطابق
دھوپ دینا اگر زیادہ دھوپ ہو تو کوئی سایہ دینے والی چیز جیسے کوئی کپڑا وغیرہ
باندھنا کہ زیادہ دھوپ کی وجہ سے چھوٹے پودے وغیرہ جل جاتے ہیں اگر بچوں کے اکھاڑ
دینے کا اندیشہ ہو تو لکڑی وغیرہ کا جال وغیرہ بنانا اور اسکے علاوہ جانور وغیرہ
جیسے بلی کتا اور ان جیسے دیگر جانور بھی پودے اکھاڑ ڈالتے ہیں تو اسکی بھی ذمہ
داری آپکی ہے کہ آپ انکی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کریں۔
ہو سکتا ہے کہ
آپکو ایک پودے کو درخت بنانے تک کے مراحل میں یا اسکی حفاظت کرنے میں مشکلات،
پریشانی دشواری کا سامنا کرنا پڑے مگر آپ بھی پختہ ارادہ و عظم مصمم کر لیجیے کہ
میں نے اس پودے کو درخت بنا کرہی چھوڑنا ہے آپکی یہ چند مہینوں کی محنت نہ جانے
کتنے انسان پرندوں جانداروں کی اچھی زندگی گزارنے کا سبب بن سکتی ہے آپکو شاید
معلوم بھی نہ ہو آپ کے ارد گرد کتنے لوگ ایسے ہونگے جن کو آکسیجن کی پریشانی ہوگی،
کتنے ہی پرندے ایسے ہونگے جو چھاؤں یا سایہ کی تلاش میں کیسی کے گھر اترے ہونگے
اور بے چارے قیدی بن کر رہ گئے ہونگے ان کو یہ معلوم بھی نہیں ہو گا کہ سایہ ہماری
قید کا سبب بنے گا ہاں اگر ہم تھوڑی سی مشقت اٹھاکر پودے کو درخت بنا دیتے ہیں تو
وہ مریض جو آکسیجن کی پریشانی میں مبتلا ہے یا وہ پرندے جو گرمی کی شدت کی وجہ سے
سائبان چاہتے تو شاید ہماری وجہ سے کتنی زندگی بچ جائے ہماری وجہ سے کسی کو سائبان
مل جائے اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کیا پتا کہ ہمارا یہ عمل ہی ہمارے جنت
میں داخلے کا سب بن جائے۔
درخت لگانا
صرف دنیاوی عمل نہیں ہے بلکہ دینی اور باعث اجر و ثواب بھی ہے حضور اکرم ﷺ نہ صرف
انسانوں کے لیے رحمت بن کر آئے حیوانات و نباتات کے لیے بھی رحمت بنا کر بھیجے گئے
آئیے احادیث مبارکہ کی روشنی میں پودا لگانے کے فضائل جانتے ہیں۔
فرمان مصطفی ﷺ
ہے: جو مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا چوپایا
کھائے تو وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا۔ (بخاری، 2/85، حدیث 3220)
معلوم ہوا کہ
درخت لگانا صرف دنیاوی عمل نہیں بلکہ اسکے ساتھ ساتھ آخرت کے لیے بھی ثواب کا کثیر
خزانہ ہاتھ آتا ہے تو پھر ہم کس بات کا انتظار کر رہے ہیں نہ جانے کب ہم اس فانی
دنیا سے کوچ کر جائیں تو جلدی کیجیے اور اپنے وطن کو سرسبز و شاداب بنانے میں اپنا
حصہ بھی ملا ئیے اگر آپ کے گھر کے ارد گرد پودے یا درخت وغیرہ لگے ہوئے ہیں تو آپ
کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ ایسی جگہ تلاش کریں کہ جہاں واقعی پودے لگانے کی ضرورت
ہو اور اگر آپ کو ایسی جگہ نہ ملے تو پریشانی کسں بات کی ہے بس آپ کا ارادہ پختہ
ہونا چاہیے کہ میرے ذریعے بھی پودا لگے آپکی دعوت اسلامی جو اس کام میں بھی الحمد
اللہ جی جان لگا کر کوشش کر رہی ہے تو اگر آپ پودا لگا کر اسکی ذمہ داری اٹھا نہیں
سکتے یا آپ کے ارد گرد جگہ نہیں ہے تو آپ دعوت اسلامی میں اپنے پودے کی رقم جمع
کروا دیں پھر صرف آپ کے شہر آپکے ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں جہاں بھی ضرورت
محسوس ہوگی وہاں پودا لگادیا جائے گا اور اب تک دعوت اسلامی بےشمار پودے لگا چکی
ہے۔
Dawateislami