"میانہ روی" طرفین کے بیچ مُعتدل موقف سے عبارت ہے،    جس میں افراط و تفریط نہ ہو ، غلو و زیادتی اورکمی و زیادتی، اور کمی و کوتاہی نہ ہو، یہ روحانیت و مادیّت، واقعیت و مقالیّت اور اِنفرادیت و اجتماعیت کے درمیان ایک دُرُست پیمانہ ہے اور جیسا کہ کہا گیا ہے :

" الوسط فضیلۃ بین رذیلتین " یعنی "دو کمتریوں کے بیچ ایک فضیلت و برتری اعتدال اور میانہ روی کہلاتا ہے ۔

اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے :وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ-

ترجمہ کنز الایمان :" اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ "۔(پارہ 2، البقرہ ،آیت 143)

پھرمزیدفرمایا: كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ-

ترجمہ کنزالایمان:"تُم بہتر ہو، ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو" ۔(پارہ 3، آل عمران ، آیت 110)


"میانہ روی" طرفین کے بیچ مُعتدل موقف سے عبارت ہے،    جس میں افراط و تفریط نہ ہو ، غلو و زیادتی اورکمی و زیادتی، اور کمی و کوتاہی نہ ہو، یہ روحانیت و مادیّت، واقعیت و مقالیّت اور اِنفرادیت و اجتماعیت کے درمیان ایک دُرُست پیمانہ ہے اور جیسا کہ کہا گیا ہے :

" الوسط فضیلۃ بین رذیلتین " یعنی "دو کمتریوں کے بیچ ایک فضیلت و برتری اعتدال اور میانہ روی کہلاتا ہے ۔

اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے :وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ-

ترجمہ کنز الایمان :" اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ "۔(پارہ 2، البقرہ ،آیت 143)

پھرمزیدفرمایا: كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ-

ترجمہ کنزالایمان:"تُم بہتر ہو، ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو" ۔(پارہ 3، آل عمران ، آیت 110)


میانہ روی کے معنی ہیں" درمیانی راستہ"،  اس سے مراد ہے زندگی گزارتے ہوئے تمام مُعاملات میں درمیانہ راستہ ہی اختیار کیا جائے، میانہ روی اعتدال پسندی ہےاور یہ زندگی گزارنے کا بہترین اُصول ہے، اللہ ربُّ العزت نے اپنے پاک کلام میں ارشاد فرمایا ہے: "اور میانہ چال چل"۔ ( پارہ 21 ، سورۃ لقمان، آیت نمبر19)

قرآن مجید کی روشنی میں میانہ روی:

اللہ ربُّ العزت اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے: یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا(۲۸) ترجمہ کنزالایمان:" اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف(آسانی)کرے اور آدمی کمزور بنایا گیا۔ (پارہ 5، سورۃ النساء، آیت نمبر28)

حدیث مبارکہ کی روشنی میں میانہ روی:

عبادت میں میانہ روی کا حکم:

حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار مسجد ِنبوی میں داخل ہوئے تو سُتُونوں کے درمیان ایک رسی کو بندھے ہوئے دیکھا تو اِستفسار فرمایا:"یہ رسی کیسی ہے؟" لوگوں نے عرض کی، " یہ اُمّ المؤمنین حضرت سیّدنا زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا کی رسّی ہے، جب (رات کی نماز میں) تھک جاتی ہیں تو اسے تھام لیتی ہیں، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"نہیں!(اور)اس رسّی کو کھول دو، تم میں سے ہر شخص اپنی نشاط بھر( یعنی خوشی، تازگی اور مُسْتَعِدی کی مقدار رات کی)نماز پڑھے، جب تھک جائے تو (اس وقت) عبادت (نماز) سے بیٹھ جائے۔( اصلاح اعمال، جلد ا ول، صفحہ669)

بول چال میں میانہ روی کی تعلیم:

بول چال میں میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم بھی حدیثِ مبارکہ سے ملتی ہے، بِلا ضرورت گفتگو سے اِجتناب کرنے اور خاموشی اختیار کرنے کے بارے میں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:" جس کی شاھد بخاری شریف کی یہ حدیثِ مبارکہ ہے۔ " جو اللہ اور قیامت پر یقین رکھتا ہے، اُسے چاہئے کہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش ر ہے ۔

( بخاری، جلد4، ص105، حدیث6018)

روزی کی تلاش میں میانہ روی:

آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے روزی کی تلاش میں میانہ روی کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:"دنیا کی طلب میں اِعتدال سے کام لو، اس لیے کہ ہر ایک کو وہ کچھ ضرور ملے گا، جو اس کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔"( صحیح مسلم، جلد1 ، حدیث1097)

مختلف اقوال:

اِمام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" ہمیشہ گوشت نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمانِ نصیحت ہے:"جو چالیس دن تک گوشت نہیں کھاتا، اُس کے اَخلاق بگڑ جاتے ہیں اور جو چالیس دن تک لگاتار گوشت کھاتا ہے اس کا دل سخت ہو جاتا ہے ۔"

( اصلاح اعمال، ج 1 ، صفحہ نمبر659)

امیر ِاہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:"ہر کام میں اعتدال یعنی( میانہ روی) ہونا چاہیے۔"( 12 شوال، 1435ھ، مدنی مذاکرہ)



وسط   کا لفظ افراط و تفریط سے پاک، بالکل "درمیان" کے معنٰی میں استعمال ہوتا ہے ، یعنی میانہ روی اور اعتدال۔

اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے، جس کا سارا نظام مُعتدل ہے اور اس کے تمام امور اعتدال پر قائم ہیں، اس کے اعتقادات میں اعتدال، اعمال و عبادات میں اعتدال، معاشرت و تمدن میں اعتدال، اقتصادیات وسیاسیات میں اعتدال، معاملات و تعلیمات میں اعتدال ، غرض کہ حیاتِ انسانی کے تمام شعبوں اور ادوار میں اسلام نے میانہ روی اور اعتدال کا درس دیا ہے، اور یہ اسلام کا طُرہ امتیاز ہے۔

قرآن پاک میں اعتدال کا حکم :

قَالَ اللہُ تَعٰالٰی فیِ الْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ ! وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷)ترجمہ کنزالایمان:"اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں، نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔" (پارہ 19، سورةالفرقان ، آیت نمبر 67)

تفسیر خزائن العرفان:"اسراف معصیت میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں اور تنگی کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالٰیکے مقرر کیے ہوئے حقوق ادا کرنے میں کمی کرے۔"

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی حق کو منع کیا اس نے اقتار کیا یعنی تنگی کی اور جس نے ناحق میں خرچ کیا، اس نے اسراف کیا اور اس آیت میں ان بندوں کے خرچ کرنے کا حال ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ جو اسراف و اِقتار کے دونوں مذمُوم طریقوں سے بچتے ہیں۔

حدیث مبارکہ کی روشنی میں اعتدال کی اہمیت:

سید السّادات، فخر ِموجودات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"دولت مندی میں میانہ روی کتنی اچھی ہے اور تنگدستی میں میانہ روی کتنی اچھی ہےاور عبادت میں میانہ روی کتنی اچھی ہے۔"

آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مُشکبار ہے:"جو میانہ روی اختیار کرے گا، وہ تنگ دست نہیں ہو گا۔

اعتدال پر قولِ بزرگان دین رَحِمَھُمُ اللہُ الْمُبِیْن :

"ہر کام میں میانہ روی بہت سی تکالیف سے بچاؤ کا ڈھال ہے۔" ( حضرتِ شیخ سعدی)

اللہ کریم ہمیں اعتدال کی راہ اپناتے ہوئے، زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم



افراط و تفریط ،انتہا پسندی ،شدت اور بے اعتدالی اُن خصوصیات میں شامل ہیں،  جن کو کبھی مفید اور پسندیدہ قرار نہیں دیا گیا ہے، اس کے برعکس میانہ روی اور اعتدال کو ہمیشہ قابلِ تعریف قرار دیا گیا ہے اور ہمیشہ دیا جاتا رہے گا، اِسلام دینِ فطرت ہےاور اسی لیے اس کا دیا ہوا نظامِ حیات نہایت مکمل،متوازن اور معتدل نظام ہے۔

نبی کریم صلی الله عليه وسلم جب منصبِ نبوت پر فائز ہوئےاور آپ صلی الله عليه وسلم کو دعوتِ حق کےاعلان کا حکم دیا گیا، تو آپ صلی الله عليه وسلم نے اس حکم کی تعمیل میں لوگوں کو دینِ حق کی جانب بلانا شروع کیا، لیکن اُس وقت عرب كے لوگ اس قدر بے راہ تھے اور کفروشرک کی اتنی تاریکی میں تھے کہ حق کی روشنی میں ان کے لئے کشش نہ رہی تھی، انکی بے حسی نے ان کو اعلانِ حق پر بھی کان دھرنے نہ دیا ، نبی کریم صلی الله عليه وسلم کو معلوم تھا کہ دینِ حق کی یہ آخری دعوت فیصلہ کُن ہے، جو اس دعوت کو قبول کرے گا وہ رحمتوں اور نعمتوں سے نوازا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو دین اسلام کے لئے اس قدر پریشان دیکھا تو فرمایا:

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ(۲) ترجمہ کنز الایمان: "اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اُتارا کہ تم مشقت میں پڑو"(سورت طہٰ، آیت 2 )

کسی آدمی کو اتنا کنجوس نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی دولت کو کسی چیز میں خرچ ہی نہ کرے اور اپنی اپنے خاندان اور اپنے اعزاء کی جائز ضروریات بھی پوری نہ کرے اور اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو بلا وجہ تکلیف میں مبتلا رکھےاور نہ اتنا فراخ دست اور فضول خرچ ہو کہ بے جا خرچ کرے ،نمودونمائش میں پیسہ ضائع کرے ، یہ دونوں طریقے میانہ روی کے خلاف ہیں اور دونوں کا نتیجہ مایوسی اور تباہی ہے۔

بخل کی عادت انسان کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے لُطف اندوز نہیں ہونے دیتی اور فضول خرچی سے بالآخر انسان تنگ دست ہو کر دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے، اسی لئے اعتدال اور میانہ روی کی تاکید فرمائی گئی ہے ۔

سورۃ فرقان میں ارشاد ہوتا ہے:وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷) ترجمہ کنزالایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں، نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔" (پارہ 19، سورةالفرقان ، آیت نمبر 67)

دیکھئے کتنی صاف ہدایت ہےاور کس قدر وضاحت سے سمجھا دیا گیا ہے کہ میانہ روی مؤمن کی صفت ہے، مؤمن نہ ضرورت سے زیادہ خرچ کرتا ہےاور نہ ضروری خرچ کے موقع پر ہاتھ روکتا ہے، بلکہ معتدل رہتا ہے اور میانہ روی کو اپنا کر زندگی کو حُسن خوبی سے گزارتا ہے ، نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے :

نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے فرمایا :"اے مسلمانو! میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جس کام میں میانہ روی ہوتی ہے وہ کام سنْور جاتا ہےاور جس کام میں میانہ روی نہیں ہوتی وہ بگڑ جاتا ہے ، میانہ روی سب کے لیے ضروری ہے اور ہر کام میں ضروری ہے ۔"(صحیح مسلم)

صرف دنیاوی معاملات اور معاشی مسائل ہی میں میانہ روی مفید نہیں ہے، بلکہ دینی معاملات میں بھی اعتدال مستحسن ہے۔

اسلام دینِ فطرت ہے اور ایک مکمل نظام ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بے اعتدالی سے جو ایک غیر ضروری فطری کیفیت ہے، اس سے بچنا چاہئے اور اس طرح زندگی بسر کرنی چاہیے کہ جس میں حقوق اور فرائض کے درمیان توازن ہو، نہ اپنے فرائض کو فراموش کیا جائے ، نہ ہی ان سے غفلت برتی جائے ، اللہ تعالیٰ سختی پسند نہیں فرماتا، اس نے اپنے دین کوآسان بنایا ہے، تاکہ لوگ سختی اور شدّت سے گھبرا کر ترکِ دین پر مائل نہ ہوں۔


میانہ روی نہایت ہی اَہم اَمر ہے،  میانہ روی کا مطلب ہے "درمیانی راہ"، جب کہ اس راہ پرآ نا ہی نہیں وہ بخل ہے، اور اس راہ سے تجاوز کرنا فضول خرچی( اِسراف) کہلاتا ہے، یقیناً فضول خرچ اسراف ناجائز ہے اور ہم اس کے بارے کافی بار سن چکے ہیں، لیکن فضول خرچی پر اُبھارنے کی ایک وجہ بخل یعنی کنجوسی ہے، جی ہاں! کنجوسی پہ ایک ایسا مرض ہے جو نسلوں کو بے جا خرچ کرنے پر اُبھارتا ہے۔

وہ کیسے؟ جی اس صورت کو ایک مثال سے بیان کرتی ہوں، اگر کوئی آدمی بخل کرے، اپنے بال بچوں کا حق ادا نہ کرے، جہاں خر چ کرنا ضروری ہے وہاں بھی خرچ نہ کرے، تو اس کا یہ رویّہ اس کی اولاد پر دو طرح سے اثر انداز ہوگا۔

(1)یاتو اس کی اولاد اس کے نقشِ قدم پر چل کر بخیل بنے گی۔

(2)یا اس کی اولاد دولت ہاتھ میں پا کر بے جا خرچ میں مبتلا ہوگی، بچپن میں ہونے والی محرومیاں اور جائز خواہش کا پورا نہ ہونا، ضرورت کی اَشیاء بھی اسے نہ ملنا، یہ تمام احساسات وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اندر ایک ایسا سوچ پیدا کریں گے کہ پیسے آئے تو میں یہ کروں، وہ کروں، اس طرح جب حقیقتاً اس کے پاس دولت آئے گی وہ اپنے آپ کو تسکین دینے کی غرض سے جائز و ناجائز خواہشات کی تکمیل کرے گا، یوں وہ فضول خر چی میں مبتلا ہوکر میانہ روی کے راستے پر نہیں چل سکے گا ۔

میانہ روی اہم ہے اور خرچ کرنے والا اگر کنجوسی کا مظاہرہ نہ کرے، عورتوں کو ان کا پورا حق دے، اولاد کے حقوق کو پورا کرے تو آگے چل کر معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابی، فضول خرچی سے بچا جاسکتا ہے ۔

میانہ روی کے ساتھ خرچ کرنا، دولت کا صحیح استعمال کرنا، آگے آنے والی نسل کو بھی میانہ روی کی راہ پر چلائے گا۔


اعتدال اور میانہ روی کی تعریف:

اعتدال اور میانہ روی کا مطلب یہ ہےکہ تمام احکام و اُمور میں ایسی درمیانی راہ اختیار کرنا، جس میں نہ افراط ہو نہ تفریط یعنی نہ رشوت ہو نہ ازخود کوتاہی، اعتدال و میانہ روی دینِ اسلام کی ایک ایسی صفت ہے، جو اسکے ہر معاملے اور ہر حکم میں جلوہ گرنظر آتی ہے، جب دینِ اسلام کی یہ نمایاں خصوصیت ہے، جو اسکو تمام ادیان سے ممتاز بناتی ہے، تو لازمی طور پر امت مسلمہ کی خصوصیت بھی یہی ہوگی کہ وہ عدل و اعتدال سے متصف اور افراط و تفریط سے مبّرا رہے، ارشادِ باری تعالی ہے:

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ-

ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہواور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔(سورۃ البقرہ ، 143)

اِسلام کی امتیازی خصوصیات میں توازن و اعتدال اور میانہ روی شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم کو "الکتاب" کے علاوہ "المیزان" بھی کہاگیا ہےاور مسلمانوں کو اُمّتِ وسط کے خطاب سے بھی نوازا گیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے:"مسلمانو! میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جس کام میں میانہ روی ہوتی ہے، وہ کام سنْورجاتا ہےاور جس کام میں میانہ روی نہیں ہوتی وہ بگڑ جاتا ہے۔"(صحیح مسلم )

میانہ روی اختیارکرو اور خاموش ہوجاؤ:

عبد السّلام بن مطہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا:" کہ ہم کو عمر بن علی نے معین بن محمد غفاری سے خبر دی، وہ سعید بن ابو سعید مقبری سے، وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بے شک دین آسان ہےاور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا، تو دین اس پر غالب آجائے گا(اور اسکی سختی نہ چل سکے گی )، پس اپنے عمل میں پختگی اختیار کرواور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہوجاؤ اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں (نماز) سے مدد حاصل کرو۔(کتاب الایمان ، دین آسان ہے )

حدیث میں ارشاد ہوتا ہے:

"سیدھی راہ اختیار کرو، سیدھی راہ پر چلو، میانہ روی اختیار کرو اور خوشخبری دو(اللہ کی رحمت کی ) خوش رہو۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر7122 )

"میانہ روی سب کیلئے ضروری ہے اور ہر کام میں ضروری ہے، صرف دنیاوی معاملات اور معاشی مسائل ہی میں میانہ روی مفید نہیں، بلکہ دینی معاملات میں بھی اعتدال مستحسن ہے۔" 


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مسلمانو! میانہ روی اختیار کرو، کیوں کہ جس کا م میں میانہ روی ہوتی ہے، وہ کام سنْور جاتا ہے اور جس کام میں میانہ روی نہیں ہوتی، وہ بگڑ جاتا ہے۔"

ایک حدیث شریف میں ہے:

"اعتدال یعنی ہر کام کو افراط و تفریط کے بغیر کرنا نبوت کا پچیسواں حصّہ ہے، اسی طرح سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے:" لوگو! میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ اللہ تعالی نہیں تھکتا ہے، مگر تم تھک جاتے ہو ، ہمارا دن رات کا مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں اور شدت و اِنتہا پسندی کو اختیار کر لیتے ہیں، ان کی زندگی سے اعتدال کے ساتھ ساتھ اَمن و سکون بھی جاتا رہتا ہے اور ان کے معاملات اتنے اُلجھ جاتے ہیں کہ ان کی ساری قوتیں اور وقت کا بیشتر حصّہ ان کے معاملات کو سُلجھانے میں ہی صرف ہو جاتا ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ راحت سے محروم ہو جاتے ہیں، اس کے برعکس جو لوگ اپنے معاملے میں میانہ روی کو ملحوظ رکھتے ہیں، وہ مصائب میں مُبتلا نہیں ہوتے اور ان کے متعلقین اور احباب بھی ان سے شاکی نہیں ہوتے، میانہ رو افراد خود بھی پرسکون زندگی گزارتے ہیں اور دوسروں کے بھی کام آتے ہیں۔

"میانہ روی سب کے لیے ضروری ہے، ہر کام میں ضروری ہے، صرف دنیاوی معاملات اور معاشی مسائل ہی میں میانہ روی مفید نہیں ہے، بلکہ دینی معاملات میں بھی اعتدال مستحسن ہے۔"( مسلم) 


اعتدال و میانہ روی دینِ اسلام کی ایسی عظیم صفت ہے جو اس کے ہر معاملہ اور ہر حکم میں جلوہ گر نظر آتی ہے،اعتدال اور میانہ روی کا مطلب "تمام احکام و امور میں ایسی درمیان راہ اختیار کرنا، جس میں نہ  افراط ہو نہ تفریط"

اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے:

ترجمہ کنز الایمان:اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل کہ تم لوگوں پر گواہ ہواور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔(سورۃ البقرہ ، 143)

اور فرمایا: یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّؕ-

ترجَمۂ کنزُالایمان:اے کتاب والو اپنے دین میں زیادتی نہ کرو اور اللہ پر نہ کہو مگرسچ ۔ (النساء : 171)

اسلام نے نہ صرف یہ کہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں درمیانی راستہ اختیار کرنے کی دعوت دی ہے ،بلکہ غلوو تقصیر میں سے کسی ایک جانب جھک جانے سےڈرایا بھی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ کنزالایمان:" ہم کو سیدھا راستہ چلا، راستہ اُن کا جن پر تُو نے احسان کیا، نہ اُن کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔( الفاتحہ، 5۔7)

خرچ کرنے کے سلسلے میں میانہ روی اس فرمانِ الہی سے واضح ہے:

ترجمہ کنزالایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں، نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔" (پارہ 19، سورةالفرقان ، آیت نمبر 67)

مسئلہ: ایمان کے سلسلے میں اہلِ سنت والجماعت کا مؤقف افراط وتفریط سے پاک ہے، وہ عمل کو ایمان کا ایک جُز قرار دیتے ہیں اور معصیّت کے مُرتکب کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے۔

نبوت و ولایت اور صحابیت: ان درجات میں بھی اعتدال ہے، ان لوگوں کی طرح غلو نہیں، جنہوں نے نبیوں اور ولیوں کو ربّ اور نہ یہو دیوں کی طرح ، جنہوں نے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کی اور انہیں قتل کیا۔

اہلِ اسلام درمیانی راہ اپناتے ہوئے اللہ تعالی کے تمام رسولوں اورپیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی کتابوں پر بھی، اس کے ولیوں سے بھی محبت کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے بھی۔۔۔

ہمارے دین اسلام نےاگرچہ آخرت کومطمعِ نظر اور مقصد حیات بنانے پرسعاد ت وکامرانی کا دارومدا رکھا ہے، لیکن اس طرف بھی توجّہ دلائی ہے کہ دنیاوی زندگی کی اُستواری کے لئے جائز طریقوں سے مال و اسباب کا حصول اور مُباحات میں اس کا خرچ تمہارا فطری حق ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ کنزالایمان:اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیؤ اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔ ( اعراف، 31)

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:" کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو، جب تک اس میں اسراف اور تکبر کی آمیزش نہ ہو۔"( سنن ابن ماجہ )

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"دین آسانی کا نام ہے اور جو شخص دین کے بارے میں سختی کرنے کی کوشش کرے گا، خدا کی قسم! یہ دین اس پر غالب آجائے گا،تم سیدھے رہو اور میانہ روی اختیار کرو۔"(اخرجہ البخاری،39،والنسائی،5049)

عبادات میں میانہ روی:

عبادات میں میانہ روی اختیار کرنے کے بارے میں چندفرا مین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم:

اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل ہے، جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو"

( صحیح بخاری و صحیح مسلم، مشکوٰۃ شریف، جلد اول، حدیث1217)

اللہ کی قسم! میں تم سب کے مقابلے میں اللہ سے زیادہ ڈرتا اور اس کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، نوافل پڑھتا بھی ہوں اور سو بھی جاتا ہوں،اور میں نے خواتین کے ساتھ شادی بھی کی ہوئی ہے اور جوشخص میری سنت سے منہ موڑے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"(اخرجہ البخاری،5063)

" بال کی کھال اُتارنے والے ہلاکت کاشکار ہو جائیں"(اخرجہ مسلم،2670)

"تمہارے اوپر تمہارے نفس کا حق ہے، تمہارے گھر والوں کا بھی تم پرحق ہے اور تمہارے ربّ کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حقدار کا حق ادا کرو۔"(احمد و مسلم)

اللہ پاک ہم سب کو اپنے ہرعمل میں میانہ روی اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم



میانہ روی سے مراد اوسط درجے کی روش، کفایت شعاری اور اعتدال ہے، دینِ اسلام ہمیں زندگی کے تمام معاملات میں اعتدال اور میانہ روی کا حکم دیتا ہے، دین کا ہر حکم فطرت کے عین مطابق اور اعتدال پر قائم ہے، مثلاً عبادات، اخراجات، گفتگو، آواز، چال وغیرہ۔

قدرت کا نظام: اللہ کریم نے ہر جاندار کو زندہ رہنے کے لئے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جیسے پانی کو دیکھ لیں، ہر جاندار کی زندگی کے لئے یہ کتنا ضروری ہے، لیکن اگر کوئی پانی کے اندر نہر میں گر جائے تو وہ پانی کی بہتات کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو سکتاہے اور اگر کوئی صحرا میں بھٹک رہا ہو اور وہاں پانی کی بُوند تک نہ ملے تو بھی زندگی ختم ہو جائے گی، سیلاب کی وجہ سے پانی کی کثرت ہو جائے تو علاقوں کے علاقے اس کی زَدمیں آ کر تباہ ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح ہوا کو دیکھ لیں، اگر اس کی کثرت ہو جائے تو طوفان اور آندھیوں کی صورت میں کتنے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر ہوا بالکل ہی نہ ملے تو بھی دم گھُٹنے سے موت واقع ہو جاتی ہے، اس لئے ہمیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ میانہ روی کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔

عبادات میں میانہ روی:عبادت نہ تو اتنی زیادہ کی جائے کہ آدمی کے کام متأثر ہونے لگیں اور نہ ہی اتنی کم کہ اس اہم فریضے سے غفلت کا گُمان ہونے لگے، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نماز میں بھی اعتدال تھا اور خطبہ بھی معتدل (یعنی نہ بہت طویل اور نہ بہت مختصر) ہوا کرتا تھا۔ (مسلم،ص334،حدیث:2003)

اخراجات میں میانہ روی:کفایت شعاری سے کام لینا اخراجات میں میانہ روی ہے، انسان کو چاہئے کہ مال و دولت کو ضرورت کے مطابق خرچ کرے، کیونکہ اخراجات میں میانہ روی، اِسراف اور بخل کے درمیان کی راہ ہے۔ ہمارے نبیِّ محترم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:میانہ روی اختیار کرنے والاکبھی مفلس نہیں ہوتا۔( مسند احمد،3/157،حدیث: 4269)

اسلام نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا بھی بہت اچھا سلیقہ بتایا ہے کہ صدقہ بھی اتنا نہ دو کہ بعد میں تم خود صدقہ لینے والی حالت میں آ جاؤ، سُورۃُ الفُرقان میں اللہ کریم نے اپنے بندوں کی یہ صفت بھی بیان فرمائی، ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ حد سے بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں۔

(پ19، الفرقان: 67 )

آواز اور گفتگو میں اعتدال:آپس میں گفتگو کے دوران بھی ہماری آواز پست ہونی چاہئے، قراٰنِ پاک میں اللہ کریم نے صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم کو سکھایا کہ وہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے اونچی آواز سے گفتگو نہ کریں، کیونکہ یہ عمل ان کے تمام نیک اعمال کو ضائع کرنے کا سبب بن جائے گا، تیز آواز میں باتیں کرنے سے مریض، پڑھنے والے، سونے والے اور دیگر کاموں میں مصروف لوگ متأثر ہوتے ہیں۔

چال میں میانہ روی:اسلام ہمیں چال میں بھی میانہ روی سکھاتا ہے، غرور و تکبر کے ساتھ نہیں چلنا چاہئے اور نہ ہی اتنا آہستہ چلے کہ بیمار لگے، قراٰنِ پاک میں تکبر کے ساتھ چلنے والے کو ناپسند کیا گیا ہے، ہمارے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہت باوقار انداز میں چلا کرتے تھے، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میانہ روی اور نرمی سے چلتے تھے، روایت ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایسا چلتے تھے کہ گویا زمین آپ کے لئے سمٹتی ہے۔

(تفسير ابن کثیر،6/110، پ19،الفرقان،تحت الآیۃ:63)

ہمیں چاہئے کہ ہم زندگی کے تمام مراحل جیسے تعلیم، کھیل کود، تفریح، کھانے پینے، سونے اور زندگی کے دیگر معاملات میں اعتدال کی روِش اپنائیں اور اللہ کریم کی بتائی ہوئی حُدود سے تجاوز نہ کریں۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


سجدہ سہو کا طریقہ:

التحیّات پڑھ کر بلکہ افضل یہ ہے کہ دُرود شریف بھی پڑھ لیجئے، سیدھی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کیجئے پھر تشہّد، دُرود شریف اور دُعا پڑھ کر سلام پھیر دیجئے۔

(فتاوٰی قاضی خان معہ عالمگیری، ج1، ص 121 ، نماز کے احکام، ص210)

سجدہ سہو کرنا بھول جائیں تو:

سجدہ سَہو کرنا تھا اور بُھول کر سلام پھیرا، تو جب تک مسجد سے باہر نہ ہوا کر لے۔

(دُرِ مختار معہ ردالمختار، ج2 ، ص 556)

میدان میں ہو تو جب تک صفوں سے مُتجاوز نہ ہو یا آگے کو سجدہ کی جگہ سے نہ گزرا کر لے، جو چیز مانِع بنا ہے، مثلاً کلام وغیرہ منافی نماز اگر سلام کے بعد پائی گئی تو اب سجدہ سہو نہیں ہو سکتا۔

( در مختار معہ ردالمختار، ج2، ص556 ،نماز کے احکام، ص281)

وہ اُمور جن کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، وہ دس صورتیں یہاں بیان کی جاتی ہیں ۔

(1 ) واجبات نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو واجب ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد دہنی طرف سلام پھیر کردو سجدے کرے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے ۔

(2 )فرض و نفل دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدہ سہو واجب ہے۔

(3 )فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نوافل و وترکی کسی رکعت میں سورہ الحمد کی آیت بھی رہ گئی یاسورت سے بیشتر دوبارہ الحمد پڑھی یا سورت ملانا بھول گیا یا سورت کو فاتحہ پر مقدم کیا یا الحمد کے بعد ایک یا دو چھوٹی آیتیں پڑھ کر رکوع میں چلا گیا پھر یاد آیا اور لوٹا اور تین آیات پڑھ کر رکوع کیا تو ان سب صورتحال میں سجدہ سہو واجب ہے۔

(4 )الحمد کے بعد سورت پڑھی اسکے بعد پھر الحمد پڑھی تو سجدہ سہو واجب نہیں یونہی فرض کی پچھلی رکعتوں میں فاتحہ کی تکرار سے مطلقا سجدہ سہو واجب نہیں اور اگر پہلی رکعتوں میں الحمد کا زیادہ حصہ پڑھ لیا تھا پھر اعادہ کیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

(5 ) الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت پڑھ لی اب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے تو سجدہ سہو واجب ہے۔

(6 )فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی تو سجدہ سہو نہیں تو قصدا ملائی تو بھی حرج نہیں مگر امام کو نا چاہیے. یونہی اگر پچھلی رکعتوں میں ا لحمد نا پڑھی تو بھی سجدہ سہو نہیں اور رکوع و سجودو قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے۔

(7 ) رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدہ کی جگہ رکوع کیا یا کسی ایسے رکن کو دوبارہ کیا جو نماز میں مکرر مشروع نا تھا یا کسی رکن کو مقدم یا موخر کیا تو ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔

(8 )قرات وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنےکا وقفہ ہوا تو سجدہ سہو واجب ہے ۔

(9)تشهد کے بعد یہ شک ہوا کہ تین ہویں یا چار اور ایک رکن کی قدر خاموش رها اور سوچتا رہا پھر یقین ہوا کہ چار ہو گیں۔تو سجده سهو واجب ہےاور اگر ایک طرف سلام پھیرنے کے بعد ایسا ہوا تو کچھ نهیں اور اگر اسے حدث ہوا اور وضو کرنے گیا تھا کہ شک واقع ہوا اور سوچنے میں وضو سے کچھ دیر تک رک رہا تو سجد سہو واجب ہے۔

(10(قعده اولی میں تشهد کے بعد اتنا پڑھا الھم صلی علی محمد تو سجده سهو واجب هے۔اس وجہ سے نهیں کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوی۔تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیاجب بھی سجده سہو واجب ہے۔جسے قعده و رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجده سهو واجب هے۔حالانکہ وه کلام الہی ہے۔امام اعظم رضی الله تعالی عنہ نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔درود پڑھنے والے پرتم پر کیوں سجده واجب بتایا۔عرض کی اس لیے کہ اس نے بھول کر پڑھاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تحسین فرمائی۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اِسلام ہمارا دینِ فطرت ہے، ہمارے دینِ اِسلام میں دیگر مذاہب کی نسبت بہت آسانی رکھی گئی ہے، جس طرح دیگر عبادات کے اندر آسانی رکھی گئی ہے، اِسی طرح اُمّتِ مسلمہ کی کمزوری کو مدِّنظر رکھتے ہوئے نماز میں کافی حد تک ہم کو آسانی مُیّسر ہے، اِنہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب ہم سے نماز میں سے کوئی واجب بھولے سے ترک ہوجائے، تو آخر میں سجدہ سہو ہے، آئیے اب ہم سجدہ سہو کے واجب ہونے کی دس دس صورتوں کو ذکر کرتے ہیں:

(1) نماز میں جب کوئی واجب بُھولے سے رہ جائے تو اِس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو واجب ہے۔( بہارِشریعت، ج 1، ص708)

(2) سجدہ سہو اس وقت واجب ہے، جب کہ وقت میں گنجائش ہو اور اگر نہ ہو تو سجدہ سہو ساقط ہوگیا۔(ایضاً، ص709)

(3)نفل کی دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں سَہو ہوا (یعنی بھولا)، پھر اِس پہ بنا کر کے( یعنی اس کے ساتھ ملا کر) دو رکعتیں پڑھیں، سجدہ سہو کرے۔(ايضاً، ص 710)

(4) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں یا نفل و وِتر کی کسی رکعت میں الحمد کی ایک آیت بھی رہ گئی تو سجدہ سہو واجب ہے۔(ايضاً)

(5) مذکورہ بالا نمازوں میں اگر سورت سے پہلے دوبارہ الحمد پڑھی یا سورت ملانا بھول گیا، سورت کو فاتحہ یر مُقدّم کیا، پھر بھی سجدہ سہو واجب ہے۔(ايضاً)

(6)آیتِ سجدہ پڑھی اور سجدہ بھول گیا، تو سجدہ تلاوت ادا کرے اور سجدہ سہو کرے۔(ايضاً)

(7) جو فعل نماز میں مُکرر ہیں، ان میں ترتیب واجب ہے، لہذا خلافِ ترتیب واقع ہو تو سجدہ سہو واجب ہے۔(ايضاً)

(8) کسی رکعت کا سجدہ رہ گیا، آخر میں یاد آیا تو سجدہ کرے پھر التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرے۔(ايضاً)

(9)تعدیلِ اَرکان بھول گیا تو سجدہ سہو واجب ہے۔(ايضاً)

(10)مُسافر نے سجدہ سہو کے بعد اِقامت (یعنی مُقیم ہونے)کی نیّت کی، تو چار پڑھنا فرض ہے اور آخر میں سجدہ سہو کا اِعادہ کرے۔

اللہ عزوجل سے دُعا ہے ہمیں فِقہی اَحکام سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم