قراٰن و سنّت اور امیر اہلِ سنّت کی مختلف تحریروں سے ماخوذ اِسْلَامی بہنوں کے لیے 226 سے زائد نصیحتوں کے مَدَنی پھول

صحابیات اور نصیحتوں کے مَدَنی پھول

اِس رسالے کی چندخصوصیات:

٭دیدہ زیب ودلکش سرورق(Title)وڈیزائننگ(Designing) ٭عصرحاضرکے تقاضوں کے پیش نظرجدید کمپوزنگ وفارمیشن ٭عبارت کے معانی ومفاہیم سمجھنے کیلئے ’’علامات ترقیم ‘‘(Punctuation Marks) کا اہتمام ٭تقریباً ہرآیت مبارکہ میں ترجمہ ٔکنزالایمان کا التزام ٭پڑھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کیلئے عنوانات (Headings) کا قیام ٭فکرِآخرت پرمشتمل اِصلاحی موادکی شمولیت ٭قراٰنی آیات مع ترجمہ ودیگر تمام منقولہ عبارات کے اصل کتب سے تقابل(Tally) کا اہتمام ٭آیات، احادیث ودیگر عبارات کےحوالوں(References) کا خاص اہتمام ٭ایک ہی نظرمیں کتاب کے عنوانات دیکھنے کیلئے کتاب کے شروع میں فہرست(Index) ٭جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے مصنفین، مکتبوں اورشہرطباعت کی ’’ماخذومراجع‘‘میں تفصیل ٭پورے رسالے کی دارالافتاء اَہلِ سنت کے مفتیانِ کرام سے شرعی تفتیش ٭اَغلاط کوکم سے کم کرنے کیلئے پورے رسا لے کی کئی بار پروف ریڈنگ

144صفحات پر مشتمل یہ رسالہ2015ء سے لیکر اب تک 3 مختلف ایڈیشنز میں تقریبا26 ہزارکی تعداد میں پرنٹ ہو چکا ہے۔

اس رسالے کی PDF دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے۔

Download Now



فنانس ڈیپارٹمنٹ  دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام 11 مارچ 2021ء بروز جمعرات لاہور ریجن ، زون گوجرانوالہ، غربی گوجرانوالہ کابینہ، پیپلز کالونی ڈویژن ، حلقہ مندر باوی والہ میں مدنی مشورہ ہوا جس میں شہر کابینہ سطح کے اکاؤنٹنٹ، عطیات بکس و مدنی بستہ ذمہ دران نے شرکت کی۔

رکن زون مالیات محمد شہباز عطاری اور نگران کابینہ یعقوب عطاری نے رمضان عطیات کارکردگی کا جائزہ لیا۔ ڈیجیٹل ای رسید سافٹ وئیر کی ٹریننگ، مدنی عطیات کلیکشن پر بریفنگ ، عطیات کلیکشن پوائنٹ اور ماہانہ آمدن و اخراجات مختلف سافٹ وئیر رپورٹنگ کے حوالے سے گفتگو کی۔ اس کے علاوہ مدنی بستے لگانے لگوانے، ڈونر ریکارڈ بنا کر ذمہ دران کو دینے، رسید بک تقسیم کرنے کے حوالے سے مدنی پھول دیتے ہوئے 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے ، مدنی مذاکرہ دیکھنے، رمضا ن عطیات سیزن میں دعوت اسلامی کے لئے مدنی عطیات جمع کرنے کی ترغیب دلائی۔(رپورٹ: محمد ثاقب رضا عطاری اکاؤنٹ آفیسر گوجرانوالہ کابینہ )


رابطہ برائے ہومیو پیتھک ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام 11 مارچ 2021ء بروز جمعرات ریجن و  زون فیصل آباد ، مدینہ ٹاؤن کابینہ میں مدنی حلقہ ہوا جس میں ہومیو پیتھک ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ڈاکٹرز نے شرکت کی۔

نگران مجلس ہومیو پیتھک ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر آصف رضا عطاری نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے مدرسۃ المدینہ بالغان میں پڑھنے کی ترغیب دلائی اور دعوت اسلامی کی ایپلی کیشن کا تعارف کروایا ۔( عدیل احمد عطاری آفس ذمہ دار ہومیو پیتھک ڈیپارٹمنٹ)

میڈیا ڈیپارٹمنٹ آف دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 11 مارچ 2021 ء بروز جمعرات اراکین مجلس نے کراچی میں  اخبارات و نجی چینلز کے دفاتر میں نیکی کی دعوت دی جن میں صحافی برادری نے شرکت کی۔

مبلغ دعوت اسلامی و رکن مجلس محمودعطاری نے نیکی کی دعوت دیتے ہوئے بدین پریس کلب میں اجتماع میلاد کا انعقاد کرنے اور عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کا وزٹ کرنے کی دعوت دی۔

رکنِ شوریٰ حاجی اطہر عطاری نے بھی بدین میں صحافیوں سے ملاقات کی اور خدمات دعوتِ اسلامی سے مختصر طور پر آگاہ کیا۔

میڈیا ڈیپارٹمنٹ آف دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 11 مارچ 2021 ء بروز جمعرات ملتان میں روزنامہ آفتاب اخبار کے دفتر میں اجتماع ذکرونعت کا انعقاد کیا گیا جس میں میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

مبلغ دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرا بیان کیا۔ صحافیوں سے ملاقات کی اور تحائف بھی تقسیم کئے ۔ اس اجتماع میں رکن مجلس ملتان زون ذمہ دارمحمد ریاض عطاری نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ (رپورٹ:اسرار حسین عطاری :کارکردگی ذمہ دار میڈیا ڈیپارٹمنٹ)

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵) ترجَمۂ کنزُالایمان:بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب ۔

(المائدہ : 15 )

بلاشبہ قرآن پاک میں ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، لیکن اس مکمل ضابطہ حیات کو سمجھنے کے لیے بھی ایک مکمل انسان کی ضرورت ہے، بے شک وہ مکمل ذات ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے ، مفسرین کہتے ہیں مذکورہ آیت میں نور سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور روشن کتاب قرآن پاک ہے، سبحان اللہ! قرآن پاک نور ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نور، تو نورانی قرآن کو سمجھنے کے لئے بھی اس نو رانی بشر کی ضرورت ہے۔

قرآن پاک خود ا تباعِ رسول کا حکم دیتا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں ہے : وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ- ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں، باز ر ہو۔( الحشر : 07 )

ربّ تعالی فرماتا ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ،ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ ( الاحزاب : 21 )

نیز قرآن پاک میں ا رکا نِ اسلام مثلاً نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ کا ذکر نہایت اجمال کے ساتھ ہے، جس کی مکمل تفسیر و ضاحت آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قولاً اور فعلاً تعلیم فرمائی ہے اور اِنہی اقوال و افعال کو حدیث کہتے ہیں۔

سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان اتباع رسول کے لیے احادیث کریمہ کا بے حد ادب فرماتے اور اسی کوشش میں رہتے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلمکا کلام زیادہ سے زیادہ سن سکیں، وہ حضرات حدیث کے سماع کے لیے دور دراز علاقوں اور شہروں کا سفر اختیار فرماتے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہ کا انداز:

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہخاندانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اہم فرد تھے، کاشانہ نبوت میں ان کی حقیقی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا رہتی تھیں، ان کوشب روز وہاں گزارنے کا موقع ملتا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے "تفقہ فی الدین" کی دعا بھی فرمائی، آپ خود فرماتے ہیں:" میں نے ایک انصاری صحابی سے کہا، کیا ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے تو اب محروم ہو گئے، لیکن اکابر صحابہ کرام ابھی موجود ہیں، چلو ان سے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنیں اور اکتساب علم کریں، وہ بولے:"اے ابنِ عباس! تم کیا سوچتے ہوکہ اکابر صحابہ کرام کے ہوتے ہوئے لوگ آپ سے مسائل پوچھیں گے؟فرماتے ہیں:'میں نے ان کی نصیحت پر کان نہ دھرا اور مسلسل کوشش جاری رکھی، جس کے بارے میں مجھے علم ہوتا کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث ہے، تو میں ان کے درِ دولت پر پہنچ جاتا اور حدیث سن کر یاد کر لیتا، بعض حضرات کے پاس پہنچتا اور معلوم ہوتا کہ وہ آرام میں ہیں، تو میں ان کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ جاتا، ہواؤں کے تھپیڑے چلتے، گردو غبار اُڑ کر میرے چہرے اور کپڑوں پر اَٹ جاتا، لیکن میں اسی حال میں منتظر رہتا، وہ خود باہر تشریف لاتے، تو اس وقت میں اپنا مدعا بیان کرتا، وہ حضرات مُجھ سے فرماتے، آپ تو خاندانِ نبوت کے فرد ہیں، آپ نے یہاں آنے کی زحمت کیوں اٹھائی، ہمیں ہی یاد فرما لیا ہوتا، ہم خود آپ کے پاس حاضر ہوتے، میں عرض کرتا:" کہ میں طالبِ علم ہوں، لہذا میں ہی اس بات کا مستحق ہوں کہ آپ کی خدمت میں حاضری دوں۔(جامع الااحادیث، ج1، ص 128)

پھر انہیں کی طرز پر ہمارے اسلاف رحھم اللہ بھی جمع حدیث میں سرگرم رہے، یہاں تک کہ بہت سی صعوبتیں، مشقتیں اور آزمائشیں برداشت کیں۔

تمام رقم طلب حدیث میں خرچ کردی:

ایک عظیم تاجر حضرت عبد اللہ بن مبارک کے طلبِ حدیث و فقہ میں ذوقِ علمی کا یہ واقعہ بڑا مشہور ہے کہ ایک مرتبہ والد ماجد نے آپ کو پچاس ہزار درہم تجارت کے لئے دئیے، تو تمام رقم طلبِ حدیث میں خرچ کرکے واپس آئے، والد صاحب نے دراہم کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے جس قدر حدیث کےدفتر لکھے تھے، سب ان کے سامنے پیش کردیئے اور عرض کیا:" میں نے ایسی تجارت کی ہے، جس سے ہم دونوں کو جہان میں نفع حاصل ہوگا، ان کے والد محترم بہت خوش ہوئے، اور تیس ہزار درہم مزید عنایت کر کے فرمایا:" جائیے! علمِ حدیث و فقہ کے طالبین پر خرچ کر کے اپنی تجارت کا مل کر لیجئے۔(انوارِ امام اعظم ، ص430)

جو کچھ اثاثہ تھا ختم ہوگیا:

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری علیہ الرحمہ کو طلبِ حدیث میں کن حالات سے گزرنا پڑا؟ ایک واقعہ سنئے، ان کے ایک ساتھی عمر بن حفص بیان کرتے ہیں، بصرہ میں ہم امام بخاری کے ساتھ حدیث کی سماعت میں شریک تھے، چند دنوں کے بعد محسوس ہوا کہ بخاری کئیں دن سے درس میں شریک نہیں ہوئے، تلاش کرتے ہوئے ان کے قیام گاہ پر پہنچے تو دیکھا کہ اندھیری کوٹھری میں پڑے ہیں اور ایسا لباس جسم پر نہیں جس کو پہن کر باہر نکلیں، دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ جو کچھ اثاثہ تھا سب ختم ہو گیا، اب لباس تیار کرنے کے لئے بھی کچھ نہیں، آخر ہم لوگوں نے مل کر رقم جمع کی اور کپڑا خرید کر لائے، تب کہیں جاکر امام بخاری پڑھنے کے لئے نکلے ۔

( جامع الحدیث مرکز اہلسنت برکاتِ رضا، جلد اول، صفحہ نمبر205)


تدوین حدیث کے لیے علماء کرام نے جانکاہ مصائب برداشت کئے،فقروفاقہ کی زندگی بسر کی ، جانفشانیاں کیں،  مصائب وآلام برداشت کئے لیکن اس انمول دولت کے حصول کے لیے ہر موقع پر خندہ پیشانی کا مظاہرہ کیا۔

1۔ امام ابو حاتم رازی کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں :

میرے والد فرماتے تھے،سب سے پہلی مرتبہ علم حدیث کے حصول میں نکلا تو چند سال سفر میں رہا، پیدل تین ہزار میل سے زائد چلا، جب زیادہ مسافت ہوئی تو میں نے شمار کرنا چھوڑ دیا۔

(جامع الاحادیث ص 294)

اللہ اللہ علماء کرام نے حدیث کی تدوین کے لیے اتنے اتنے طویل سفر پیدل فرمائے۔

2۔ امام محمود بن اسماعیل بخاری:

امیر المومنین فی الحدیث کو طلب حدیث میں کن حالات سے گزرنا پڑا، ایک واقعہ سنتے چلیں۔

انکے ساتھی عمر بن حفض بیان کرتے ہیں :بصرہ میں ہم امام بخاری کے ساتھ حدیث کی سماعت میں شریک تھے، چند دنوں کے بعد محسوس ہوا کہ بخاری کئی دنوں سے درس میں شریک نہیں ہوئے تلاش کرتے ہوئے ان کی قیام گاہ پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک اندھیری کوٹھری میں پڑے ہیں۔ اور ایسا لباس جسم پر نہیں کہ جسکو پہن کر باہر نکلیں۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ جو کچھ اثاثہ تھا ختم ہو گیا اب لباس تیار کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں۔ آخر ہم لوگوں نے مل کر رقم جمع کی خرید کر کپڑا لائے تب کہیں جا کر امام بخاری پڑنے کے لیے نکلے۔(جامع الاحادیث 205,206)

3۔ امام محمود شیبانی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :

مجھے اپنے والد کی میراث میں سے تیسں ہزار درہم ملے تھے ان میں سے پندرہ ہزار میں نے علم نحو،شعر وادب اور نعت وغیرہ کی تعلیم وتحصیل میں خرچ کیا اور پندرہ ہزار حدیث وفقہ کی تکمیل پر۔(تذکرہ امیراہلسنت شوق علم دین ص20)

4۔ حافظ الحدیث "حجاج بغدادی" علیہ الرحمہ حضرت شبابہ محدث کے یہاں علم حدیث پڑھنے کے لیے جانے لگے تو ان کی کل پونچی اتنی ہی تھی کہ ان کو غریب ماں نے ایک سو "کلچے" پکا دئیے تھے جن کو وہ ایک مٹحا کے گھڑے میں بھر کر اپنے ساتھ لے گئے روٹیاں تو ماں نے پکا دی تھیں۔ہو نہار طالب العلم نے سالن کا خود انتظام کر لیا اور سالن بھی اتنا کْثیرولطیف کہ سینکڑوں برس گزر جانے کے باوجود کم نہیں ہوا اور ہمیشہ تازہ ہی رہا اور وہ کیا !

دریائے دجلہ کا پانی، روزانہ یہ ایک کلچہ،دریا کے پانی میں تر کرکے کھالیتے اور شبانہ روز انتہائی محنت کے ساتھ سبق پڑھتے یہاں تک کہ جب کلچے ختم ہو گئے تو مجبوراً استاذ کی درس گاہ کو خیر باد کہنا پڑا۔(تذکرہ اہلسنت شوق علم دین ص 19)

5۔ امام محمد بے حد عبادت گزار تھے:

تصنیف و تالیف اور مطالعہ کتب میں اکثر اوقات مشغول رہا کرتے تھے۔ رات کے تین حصے کرتے ،ایک حصہ عبادت، ایک حصہ مطالعہ، ایک حصہ آرام۔ امام شافعی بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں امام محمد کے پاس ٹھرا میں ساری رات نفل پڑھتا رہا اور امام محمود چارپائی پر لیٹے رہے صبح امام محمد نے بغیر وضو کے نماز پڑھی میں نے پوچھا حضرت آپ نے وضو نہیں کیا ؟فرمایا: تم نے ساری رات اپنے نفس کے لیے عمل کیا اور نوافل پڑھے میں نے تمام رات حضور کی امت کے لیے عمل کیا اور کتاب اللہ سے مسائل کا استنباط کرتا رہا اس رات میں نے ہزار سے زیادہ مسائل کا استخراج کیا۔(تذکرہ المحدثین ص143)

6۔ علم حدیث کے لیے امام مسلم نے متعدد شہروں کا سفر اختیار کیا۔ نیشاپور کے اساتذہ سے اکتساب فیض کے بعد وہ حجاز ،شام،عراق اور مصر گئے ان گنت بار بغداد کا سفر کیا ۔

7۔ امام ترمذی نے حصول علم کی خاطر خراسان ،عراق اور حجاز کے متعدد شہروں کا سفر کیا۔

8۔ امام نسائی نے دوردراز شہروں کا سفر کیا احادیث کی طلب اور روایت کی خاطر متعدد سفر کئے جن میں حجاز،عراق، شام اور فراساں اور مصر قابل ذکر ہیں ۔

9۔ امام ابن ماجہ نے بھی متعدد شہروں کا سفر کیا جن میں خراساں،عراق، حجاز، مصر، مدینہ منورہ، کوفہ،بصرہ، بغداد، طیران قابل ذکر ہیں(تذکرہ المحدثین )

حضرت ابو ایوب انصاری نے مدینہ منورہ سے مصر کا سفر محض اس لیے اختیار کیا کہ حضرت عقبہ بن عامرسے ایک حدیث سنیں چنانچہ وہاں پہنچے اور حضرت عقبہ بن عامر نے استقبال کیا تو فرمانے لگے ۔ میں ایک حدیث کے لیے آیا ہوں جس کو سننے میں اب تمہارے سوا کوئی باقی نہیں۔ حضرت عقبہ نے حدیث سنائی کہ "رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جس کسی نے مومن کی ایک برائی چھپائی قیامت کے دن اللہ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔

حضرت ابو ایوب انصاری یہ حدیث سنتے ہی اپنے اونٹ کی طرف بڑھے اور ایک لمحہ ٹھرے بغیر مدینے واپس چلے گئے۔(تذکرہ امیراہلسنت شوق علم دین ص 16)

حضرت غوث اعظم فرماتے ہیں " میں نے( رہ خدا ) میں بڑی بڑی سختیاں اور مشقتیں برداشت کہیں اگر وہ کسی پہاڑ پر گزرتیں تو وہ بھی پھٹ جاتا۔(قلائدالجواہر ص19)


کسی بھی علم کی اہمیت کا اندازہ اس علم کے موضوع سے لگایا جاسکتا ہے، جس طرح قرآن احکامِ شرع میں حُجّت ہے، اسی طرح حدیث بھی اور اس سے بہت سے احکام شریعت ثابت ہوتے ہیں۔

( نصاب اصول حدیث: صفحہ نمبر 12 )

جمع حدیث :

جمع حدیث کا سلسلہ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر تبع تابعین تک مسلسل جاری رہا، یہاں تک کہ سینہ درسینہ ،سفینہ در سفینہ،نسل در نسل نقل و روایات کا یہ مقدس سلسلہ آگے بڑھتا رہا، تاکہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال ،احوال وکوائف اور ارشادات و تقریرات کا وہ مقدس ذخیرہ احادیث کی ضخیم کتابوں میں محفوظ ہوکر ہم چودہ سو سال بعد میں پیدا ہونے والے افرادِ امت تک پہنچایا۔ (انوار الحدیث: صفحہ نمبر 55 )

اکابر علماء ملت اور اسانید شریعت نے علم حدیث کی تحصیل کیلئے اپنی زندگیاں وقف کردی تھیں، انہوں نے بارہا صرف ایک حدیث کی خاطر سینکڑوں میل کا سفر کیا، طلبِ حدیث میں کوئی چیز انکی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی تھی، انہوں نے احادیث کو اپنے سینوں میں اور پھر نوشتوں میں محفوظ کیا۔ تذکرہ محدثین: (صفحہ نمبر 23 )

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیش رواٰئمہ کی آرزو ،اساتذہ کا فخر اور معاصرین کیلئے سراپا رشک تھے، جب آسمانِ علم حدیث پر امام بخاری کا سورج طلوع ہوا، تو تمام محدثین ستاروں کی طرح چھپتے چلے گئے، صحیح مجرد میں سب سے پہلے انہوں نے مجموعہ حدیث پیش کیا اور کتبِ صحاح کی تصنیف کا سلسلہ شروع ہوگیا۔( تذکرہ محدثین: صفحہ نمبر 165 )

امام بخاری نے روایت حدیث کے سلسلہ میں بار بار دوردراز شہروں کا سفر کیا اور برسہا برس وطن سے دور بیٹھے اکتساب ِعلم کرتے رہے، انہوں نے خود بیان کیا ہے کہ" میں طلبِ حدیث کیلئے مصر اور شام دو مرتبہ گیا، چار مرتبہ بصرہ گیا، چھ سال حجازِ مقدس میں رہا اور ان گنت مرتبہ محدثین کے ہمراہ کوفہ اور بغداد گیا۔( تذکرہ محدثین: صفحہ نمبر 168 )

امام بخاری اور مسلم کے بعد جو امام حدیث سب سے زیادہ مرتبہ اور مقام کے مالک ہیں، وہ امام ابو داؤد سجستانی ہیں، انہوں نے سب سے پہلے کتاب السنن لکھ کر علم حدیث میں ایک نئی راہ دکھلائی اور اسکے بعد متعدد آئمہ حدیث نے انکے چراغ سے چراغ جلانے شروع کر دیئے اور فنِ حدیث میں کتب سنن کا ایک قابل قدر ذخیرہ جمع ہوگیا۔( تذکرہ محدثین: صفحہ نمبر 271 )

علم حدیث کی خاطر انہوں نے متعدد اسلامی شہروں کا سفر کیا، خاص طور پر مصر،شام، حجاز،عراق اور خراسان وغیرہ میں کثرت کیساتھ قیام کرکے علم حدیث حاصل کیا۔

( تذکرہ محدثین: صفحہ نمبر 272 )

حضرت سیدنا عبد القدوس بن محمد العَبْعَابی کہتے ہیں، کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا :"میں نے حضرت سیدنا شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کو انکے انتقال کے 7 دن بعد خواب میں دیکھا، کہ وہ حضرت سیدنا مِسعَر بن کدام رحمۃ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں اور ان دونوں پر نور کی قمیضیں ہیں ، میں نے پوچھا: "اے ابو بسطام!اللہ عزوجل نے آپکے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ "ارشاد فرمایا " اللہ عزوجل نے مجھے بخش دیا"میں نے پوچھا:" کس سبب سے ؟

ارشاد فرمایا:" روایتِ حدیث میں سچائی سے کام لینے، اسکی نشر و اشاعت اور اس معاملے میں امانت کا حق ادا کرنے کے سبب۔(152 رحمت بھری حکایات، صفحہ نمبر 95 )

علمائے کرام رحمھم اللہ اجمعین نے جمع حدیث میں بہت مشقتیں اٹھائیں، اللہ تبارک وتعالی ہمیں اس علم کی قدر نصیب فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم



جمع حدیث:

احادیث کو لکھنے اور محفوظ کرنے کا کام عہد رسالت میں شروع ہو چکا تھا اور صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے افعال اور احوال لکھ کر قلم بند کیا کرتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کے تابعین نے صحابہ کی مرویات کولکھ کر محفوظ کرنا شروع کیا، اس طرح یہ سلسلہ روایت آگے بڑھتا رہا ، اس طرح بہت سے علماءِ کرام نے جمع حدیث میں بہت سی مشکلیں اٹھائیں، جن میں چند کا تذکرہ مندرجہ ذیل ہے۔( تذکرۃ المحدثین، ص31)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے روایتِ حدیث میں بار بار دُور دراز شہروں کا سفر کیا اور برسہا برس وطن سے دور بیٹھے اکتسابِ علم کرتے رہے، انہوں نے خود بیان کیا ہے کہ میں طلب حدیث کے لیے مصر اور شام دو مرتبہ گیا، چار مرتبہ بصرہ گیا، چھ سا ل حجازِ مقدس میں رہا اور اَن گنت مرتبہ محد ثین کے ہمراہ کو فہ اور بغداد گیا۔( تذکرۃ المحدثین، ص128)

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ:

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فن حدیث کے اکابر آئمہ میں شمار کیے جاتے ہیں، علمِ حدیث کی طلب میں امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد شہروں کا سفر اختیار کیا، "نیشا پور" کےاساتذہ سے اکتسابِ فیض کے بعد وہ حجاز، شام، عراق اور مصر گئے اور ان گنت بار بغداد کا سفر کیا۔ (تذکرۃ المحدثین، ص220)

امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ:

ابتدائی تعلیم کے بعد حدیث کی طرف رجوع کیا، وطن اور بیرونِ وطن ہر جگہ روایتِ حدیث کو تلاش کیا، اس سلسلہ میں انہوں نےخراسان، عراق، حجاز، مصر ، شام اور متعدد شہروں کا سفر کیا۔

(تذکرۃ المحدثین، ص316)

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ:

علمِ حدیث نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نہایت اونچا مقام ہے، انہوں نے افاضل صحابہ اور اقابر تابعین سے احادیث کا سماع کیا، امامِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ علم حدیث میں مجتہدانہ بصیرت کے حامل تھے، اس لئے محض نقل و روایات پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ قرآن کریم کی نصوص صریحہ اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں روایات کی جانچ پڑتال کرتے تھے، آپنے زیادہ احادیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سماع کیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی زندگی میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بارہا بصره گئے تھے، علم حدیث کے لیے۔

( تہذیب التہذیب، ج 1، ص378)


سب سے پہلے حدیث کے جمع کرنے میں صحابہ کرام علیھم الرضوان نے جو مشقتیں اٹھائی ۔اس میعار پر جب ان کی زندگیاں دیکھی جاتی ہیں تو ہر مسلمان بے ساختہ یہ کہنے پر مجبور نظر آتا ہے کہ انکی تبلیغ و ہدایت محض اللہ عزوجل اور رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضا کے لئے تھی اپنے نفس کو دخل دینے کے وہ بالکل روادار نہ تھے کسی کو حکم رسول سنانے میں نہ انہیں کوئی خوف محسوس ہوتا اور نہ کسی سے حدیث رسول سیکھنے میں کوئی عار محسوس ہوتی تھی ان معزز حضرات کے بعد یہ ذمہ داری تابعین اور تبع تابعین علیھم الرضوان نے بخوبی انجام دی اور انہی کے نقش قدم پر چلیں۔

دوسری طرف ایسی شخصیات کی بھی کمی نہ تھی جنہوں نے فقر و فاقہ کی زندگی بسر کی جانفشانیاں کیں، مصائب و آلام برداشت کئے لیکن اس انمول دولت کے حصول کے لئے ہر موقع پر خندہ پیشانی کا مظاہرہ کیا۔

امام ابو حاتم رازی:

آپ علل حدیث کے امام ہیں امام بخاری امام داؤد ، امام نسائی اور امام ابن ماجہ کے شیوخ سے ہیں ۔ طلب حدیث میں اس وقت سفر شروع کیا۔جب ابھی سبزہ کا آغاز نہیں ہوا تھا،مدتوں سفر میں رہتے اور جب گھر آتے تو پھر سفر شروع کر دیتے آپکے صاحبزادے بیان کرتے ہیں میرے والد فرماتے تھے سب سے پہلی مرتبہ علم حدیث کے حصول میں نکلا تو چند سال سفر میں رہا۔ پیدل تین ہزار میل چلا جب زیادہ مسافت ہوئی تو میں نے شمار کرنا چھوڑ دیا۔

امام ہیثم بن جمیل بغدادی:

آپ عظیم محدث ہیں علم حدیث کی طلب میں شب و روز سر گردان رہے مالی پریشانیوں سے بھی دو چار ہوئے ۔ افلس الھیشم بن جمیل فی طلب الحدیث مرتین علم حدیث کی طلب میں ھیثم بن جمیل دو مرتبہ افلاس کے شکار ہوئے سارا مال و متاع خرچ کر ڈالا۔

امام ربیعہ بن،ابی عبد الرحمٰن:

آپ عظیم محدث ہیں تابعی مدنی ہیں۔ اسی علم حدیث کی تلاش و جستجو میں ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ آخر میں گھر کی چھت کی کڑیاں تک بیچ ڈالیں اور اس حال سے بھی گزرنا پڑا کہ ”مزیلہ“ جہاں آبادی کی خس و خاشاک ڈالی جاتی ہے وہاں سے منقی یا کھجوروں کے ٹکرے چن کر بھی کھاتے۔

امام محمد بن اسمعیل بخاری :

عمر بن حفص بیان کرتے ہیں :بصرہ میں ہم امام بخاری کے ساتھ حدیث کی سماعت میں شریک تھے۔ چند دنوں کے بعد محسوس ہوا کہ بخاری کئی دن سے درس میں شریک نہیں ہوئے ، تلاش کرتے ہوئے انکی قیام گاہ پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک حدیث کی تحقیق کیلئے باقاعدہ سفر کیا۔

اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور انکے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اقوال و افعال آپ کے شب و روز کے معاملات ہی مسلمانوں کے لے سر چشمہ ہدایت ہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان حضور صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کے ایک ایک ورق کو حفظ کیا صحابہ کرام نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے احادیث کو سینوں سے لیکر صحیفوں تک محفوظ کیا ۔ان کے بعد تابعین اور تابع تابعین نے حفظ کیا کتابت کے اس عمل کو جاری رکھا۔

علماء کرام نے احادیث کی تحصیل کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں ۔انہوں نے بار ہا صرف ایک حدیث کی خاطر سینکڑوں میل کا سفر کیا۔طلب حدیث میں کوئی چیز ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی تھی یہاں تک کہ اگر وہ اپنے شاگرد سے بھی کوئی حدیث پاتے تو لے لیتے۔ ناقلین کو پرکھنے کے لئے "علم رجال" ایجاد کیا احادیث رسول کی حفاظت وکتابت کا سلسلہ عہد رسالت سے لے کراتباع تبع تابعین تک پورے تسلسل اور تواتر سے ہوتا رہااور ڈھائی سو سال کے اس طویل عرصے کے کسی وقفہ میں بھی اس کام کا انقطاع نہیں ہوا۔

حضور سید عالم کے مبارک زمانے میں متعدد صحابہ کرام علیہم الرضوان نے احادیث کو قلمبند کرنا شروع کر دیا تھا، اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص کو احادیث لکھنے کی عام اجازت تھی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے بھی حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی الله عنہ کے احادیث لکھنے کا تذکرہ کیا ہے ۔فرماتے ہیں۔

" صحابہ میں مجھ سے کسی کے پاس حضور صلی الله علیہ وسلم کی احادیث محفوظ نہ تھی سوائے عبداللہ بن عمروبن عاص کے کیونکہ وہ احادیث لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا"

(صحیح بخاری، جلد 1 صفحہ نمبر 22)

ہمارے علمائے کرام نے احادیث کے لئے"اصول" وضع کیے جس سے جھوٹی احادیث کا فرق واضع ہو جاتا ہے اور اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا ، ترجَمۂ کنزُالایمان:اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو ۔ (سورۃ الحجرات آیت 6)

اس آیت مبارکہ سے پتہ چلتا ہےکہ حدیث کو نقل کرنے میں دقت نظر اور دور اندیشی کے متعلق خبردار کیا گیا ہے چنانچہ ہمارے علماء کرام نے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے حکم کو بجا لاتے ہوئے احادیث کو قبول کرنے اور نقل کرنے میں تحقیق سے کام لیا۔خاص طور پر اس وقت جب ان کو نقل کرنے کی صداقت میں شک ہو۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے ہمیں پکا سچا عاشق رسول بنا دے اور ہمارے علمائے کرام کے صدقے ہمیں سنتوں کا پیکر بنا دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


فرمان مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : اللہ تعالی اس شخص کو تروتازہ رکھے، جو مجھ سے کوئی بات سنے اور اُسے اسی طرح آگے پہنچادے، جس طرح سُنا، بعض وہ لوگ جن تک حدیث پہنچائی جاتی ہے، سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنا کرتے اور وہ علم کی مجلس ہوتی تھی، صحابہ کرام آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کو قلمبند کرتے اور جو صحابی اس مجلس میں حاضر نہ ہوتے، ان تک وہ حدیث پہنچاتے، آپس میں احادیث کا تبادلہ کرتے اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرمان کو، تمام احادیث اپنے پاس محفوظ رکھتے اور ذوق و شوق سے اس کا تذکرہ بھی فرماتے تھے۔ اب جن لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ میسر نہ ہوا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یافتہ صحابہ کرام کو پایاتو انہوں نے ان سے حدیث لے کر ذخیرہ محفوظ کر لیا، صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دور سے ہی حدیث کو قبول کرنے اور اس کو روایت کرنے میں احتیاط شروع ہوگئی تھی، پھر تابعین و تبع تابعین کے دور میں علم الجرح والتعدیل ظہور پذیر ہوا۔

پھر علماء نے اس میں وسعت پیدا کی، حتی کہ حدیث سے متعلق بہت سے علوم میں بحث ظاہر ہوئی، جو اس کے ضبط،حدیث لینے اور ادا کرنے کی کیفیت، ناسخ و منسوخ کی معرفت اور حدیث غریب کی پہچان وغیرہ سے متعلق تھی، لیکن علماء اسے زبانی طور پرحفظ کرتے تھے۔

امام بخاری، امام مسلم، اصحاب سنن کا زمانہ آیا، انہوں نے اس سلسلے میں وہ کام کیا جو ان کی مرتب کی ہوئی کتب صحاح کی شکل میں سندوں کے ساتھ اور اصول کو پرکھتے ہوئے کتابی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے، جس سے ہم آسانی سے مستفیض ہو سکتےہیں۔لیکن ان احادیث کو جمع کرنے اور کتابی شکل میں ہمارے سامنے پیش کرنے میں علماء کرام کو جو مشقتیں پیش آئیں، اس کا احاطہ بھی ناممکن ہے ۔

سب سے پہلا سفر:

حضرت سیدنا فضل بن زیاد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناامام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے سنا:"جب تم حضرت سیدنا معمر رحمۃ اللہ علیہ سے کسی کا موازنہ کرو گے، تو انہیں اس سے بڑھ کر پاؤگے کیونکہ انہوں نے طلبِ حدیث کے لئے یمن کا سفر فرمایا اور وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نےاس کام کے لئے سفر فرمایا۔"

علماء کی مشقت:

حضرت سیدنا حاجی ابو مسعود عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا ابن ظاہر رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے سنا کہ میں طلب حدیث کے لئے سفر کرنے کی وجہ سے دو مرتبہ خون آلود ہوا۔

محمد ثین کی ہمیشہ مدد ہوتی رہے گی:

فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہےکہ" میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، اور ان کی مخالفت کرنے والا انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گا" علمائے کرام فرماتے ہیں:" کہ اس گروہ سے مراد محمد ثین ہیں۔"

اللہعزوجل سے دعا ہے کہ علماء کرام کی صحبت سے فیضیاب ہونے اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم