محمد جان(درجہ دورہ حدیث شریف، جامعۃ المدینہ فیضانِ
مدینہ کراچی، پاکستان)
(1) الرحمن :قرآن پاک میں ہے: (الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ ) بہت مہربان رحمت
والا۔(پ 1 ،الفاتحہ : 2)
رحمن کا معنی ہے بڑا
مہربان ، زبردست رحمت والا ، یہ صرف اللہ پاک کا وصف خاص ہے غیراللہ کے لئے یہ وصف
جائز نہیں۔ اس میں رحیم کی بہ نسبت زیادہ مبالغہ ہے۔
(2) الرحیم: (الآیۃ ایضاً) بہت مہربان رحمت والا
رحیم یعنی بہت رحمت فرمانے
والا یاد رہے کہ حقیقی طور پر نعمت عطا فرمانے والی ذات اللہ پاک کی ہے کہ وہی تنہا ذات ہے جو اپنی رحمت کا بدلہ طلب
نہیں فرماتی، ہر چھوٹی، بڑی ، ظاہری، باطنی، جسمانی، روحانی، دنیوی اور اخروی نعمت
اللہ پاک ہی عطا فرماتا ہے اور دنیا میں جس شخص تک جو نعمت پہنچتی ہے وہ اللہ پاک کی رحمت ہی سے ہے۔ (صراط الجنان جلد 1 تحت الآیۃ)
(3)اَلْمَلِكُ قرآن پاک میں ہے کہ:" اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ
الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-ترجمہ کنز العرفان " بادشاہ، نہایت پاک،
سلامتی دینے والا، امن بخشنے والا، حفاظت فرمانے والا، بہت عزت والا، بے حد عظمت
والا ،اپنی بڑائی بیان فرمانے والا ہے۔(پ: 28 ، حشر : 23) (صراطِ الجنان سورۃ حشر
تحت الآیۃ )
وہ ملک و حکومت کا حقیقی
مالک ہے کہ تمام موجودات اس کے ملک اور حکومت کے تحت ہیں اور اس کا مالک ہونا اور
اس کی سلطنت دائمی ہے جسے زوال نہیں۔ (خازن،الحشر، تحت الآیۃ )
(4) الْقُدُّوْسُ : (آیۃ ایضاً) ہر عیب سے اور تمام برائیوں سے نہایت پاک ہے ۔( خازن ایضًا)
(5) السَّلٰمُ : (آیۃ ایضاً)
اپنی مخلوق کو آفتوں اور نقصانات سے سلامتی دینے والا
ہے۔(صراط الجنان تحت الآیۃ)
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ
وہ ذات، صفات، اور افعال میں کمال کے منافی تمام عیوب اور نقائض سے پاک ہے۔ (ابن
کثیر تحت الآیۃ)
(6) الْمُؤْمِنُ (الآیۃ ایضاً) اپنے فرمانبردار بندوں کو اپنے عذاب سے امن
بخشنے والا ہے۔ (صراط الجنان تحت الآیۃ)
(7) الْمُهَیْمِن (آیۃ ایضاً) ہر چیز پر نگہبان اور ا س کی حفاظت فرمانے
والا ہے ۔(ایضاً)
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ
اپنی مخلوق کے جملہ اعمال پر شاہد ہے یعنی ان پر رقیب ہے ۔(ابن کثیر تحت الآیۃ)
(8) الْعَزِیْزُ (الآیۃ ایضاً)ایسی عزت والا ہے جس کی مثال نہیں مل سکتی
اورایسے غلبے والا ہے کہ اس پر کوئی بھی غالب نہیں آسکتا۔( تفسیر رازی تحت الآیۃ)
(9) الْجَبَّارُ (الآیۃ ایضاً) اپنی ذات اور تمام صفات میں عظمت اور بڑائی
والا ہے۔( صراط الجنان تحت الآیۃ)
(10) الْمُتَكَبِّرُؕ (الآیۃ ایضاً )اپنی بڑائی کا اظہار کرنا اسی
کے شایاں اور لائق ہے۔(ایضاً )
فیصل آباد میں چائنیزلینگویج کورس کا اختتام، طلبہ میں اسناد تقسیم کی گئیں
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام گزشتہ دنوں پاکستان کے شہر فیصل آباد میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں چائنیزلینگویج
کورس کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر اسلامی بھائیوں
کی شرکت رہی۔
9 فروری 2022ء بروز بدھ اس کورس کے اختتام پر
ایک نشست منعقد کی گئی جس میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت
حاجی محمد شاہد عطاری نے اسلامی بھائیوں کی تربیت فرمائی۔
بعدازاں نگرانِ پاکستان
مشاورت نے کورس میں کامیاب ہونے والےطلبہ کے درمیان اسناد تقسیم کیں اور اپنی
دعاؤں سے نوازا۔(رپورٹ:عبدالخالق عطاری نیوز فالواپ ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
محمد اسماعیل عطاری (درجہ رابعہ ،جامعۃ المدینہ فیضان
بخاری ، کراچی،پاکستان)
اللہ کریم قرآن میں فرماتا
ہے:هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ
الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ
اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۲۳)ترجمۂ کنز الایمان:وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں
بادشاہ نہایت پاک سلامتی دینے والا امان بخشنے والا حفاظت فرمانے والا عزت والا
عظمت والا تکبر والا اللہ کو پاکی ہے ان کے شرک سے۔(پ28 ، الحشر : 23)
تفسیر: هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-: وہی اللہ ہے جس کے سوا
کوئی معبود نہیں ۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے دس اوصاف بیان فرمائے ہیں جو
کہ اسماء الحسنٰی بھی ہیں :
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا
هُوَۚ-:
(1) اللہ پاک کے
سوا کوئی معبود نہیں ۔
اَلْمَلِكُ
(2) ملک و حکومت کا حقیقی مالک ہے کہ تمام موجودات اس
کے ملک اور حکومت کے تحت ہیں اور اس کا
مالک ہونا اوراس کی سلطنت دائمی ہے جسے زوال نہیں ۔
الْقُدُّوْسُ
(3) ہر عیب سے اور تمام برائیوں سے نہایت پاک ہے۔
السَّلٰمُ
(4) اپنی مخلوق کو آفتوں اور نقصانات سے سلامتی دینے والا ہے۔
الْمُؤْمِنُ
(5) اپنے فرمانبردار بندوں کو اپنے عذاب سے امن بخشنے
والا ہے۔
الْمُهَیْمِنُ
(6) ہر چیز پر نگہبان اور اس کی حفاظت فرمانے والا ہے۔
الْعَزِیْزُ
(7) ایسی عزت والا ہے جس کی مثال نہیں مل سکتی اورایسے
غلبے والا ہے کہ اس پر کوئی بھی غالب نہیں آ سکتا۔
الْجَبَّارُ ،
الْمُتَكَبِّرُؕ
(8، 9) اپنی ذات اور تمام صفات میں عظمت اور
بڑائی والا ہے اور اپنی بڑائی کا اظہار کرنا اسی کے شایاں اور لائق ہے کیونکہ اس کا ہر کمال عظیم ہے اور
ہر صفت عالی ہے جبکہ مخلوق میں کسی کو یہ
حق حاصل نہیں کہ وہ تکبُّر یعنی اپنی
بڑائی کا اظہار کرے بلکہ بندے کیلئے شایاں یہ ہے کہ وہ عاجزی اور اِنکساری کااظہار کرے ۔
سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا
یُشْرِكُوْنَ
(10) اللہ پاک ان مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔(خازن، الحشر، تحت الآیۃ:
23، 4 / 254، مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: 23، ص:1228، ملتقطاً)
قرآن پاک میں ہے کہ : وَ لِلّٰهِ
الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-ترجمہ کنز العرفان "اور بہت اچھے نام اللہ ہی
کے ہیں تو اسے ان ناموں سے پکارو"۔ ( پارہ 9 ،اعراف : 180)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ
پاک کے ننانوے نام ہیں جس نے انہیں یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہوا۔ (بخاری،1/520،
حدیث :2736)
عبد اللہ ہاشم عطاری مدنی(فاضل جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی،پاکستان)
اسمائے حُسنی سے کیا مراد
ہے؟
اسمائے حسنی سے مراد اللہ پاک کے وہ نام ہیں جن سے اللہ پاک کو پکارنے کا حکم دیا
گیا ہے، اللہ پاک کے یہ ذاتی و صفاتی نام قرآنِ کریم کی مختلف سورتوں میں موجود
ہیں ۔چنانچہ پارہ 9 سورۃُ الاعراف کی آیت نمبر 180میں ہے:وَ لِلّٰهِ
الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو اسے ان سے
پکارو۔
اسمائے حسنی کی فضیلت :ہمارے پیارے آقا صلی اللہ
علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: اللہ پاک کے ننانوے (99) اسمائے حسنیٰ ہیں جس نے
یہ شمار کیے (یعنی یاد کر لئے) وہ جنت میں داخل ہو گا۔
(بخاری، کتاب التوحید، باب
إن لله مئۃ اسم الا واحد1، 4 / 537، حدیث:7392)
ایک اور روایت میں ہے کہ
" اللہ پاک کے ننا نوے نام ہیں جس نے
ان کے ذریعے دعا مانگی تو اللہ اس کی دعا کو قبول فرمائے گا۔(جامع صغیر، حرف الہمزہ، ص 143،
الحدیث 2370)
اسمائے حسنیٰ کا درد اور دعا کرنے کا طریقہ:بزرگ فرماتے ہیں : جو شخص
اس طرح دعا مانگے کہ پہلے کہے ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ
اَسْاَلُکَ یَارَحْمٰنُ، یَارَحِیْمُ ‘‘ پھر ’’رحیم‘‘ کے بعد سے تمام اسمائے
مبارکہ حرفِ ندا کے ساتھ پڑھے (یعنی یِامَلِکُ،
یَاقُدُّوْسُ، یَاسَلَام…یونہی آخر تک) جب اسماء مکمل ہو جائیں تو یوں کہے ’’اَنْ
تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَنْ تَرْزُقَنِیْ وَجَمِیْعَ مَنْ
یَّتَعَلَّقُ بِیْ بِتَمَامِ نِعْمَتِکَ وَدَوَامِ عَافِیَتِکَ یَا اَرْحَمَ
الرَّاحِمِیْن‘‘پھر دعا مانگے، ان
شاءَاللہ مراد پوری ہوگی اور کبھی دعا رد نہ ہو گی۔ (روح البیان، الاعراف، تحت
الآیۃ: 180، 3 / 282)
اسمائے حسنیٰ کو یاد کرنے آسان طریقہ :حضرت سیدنا شیخ ابو طالب
مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب قُوتُ الْقُلُوب میں اسمائے حسنیٰ یاد کرنے کا
بڑا ہی آسان طریقہ نقل فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ اسمائے حسنیٰ پورے قرآنِ
کریم میں مختلف جگہوں پر مذکور ہیں ۔ پس جو یقین رکھتے ہوئے اللہ پاک سے ان کے
وسیلہ سے دعا کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے پورا قرآنِ کریم ختم کیا۔ اگر انہیں
زبانی یاد کرنا مشکل ہو تو حروفِ تہجی کے اعتبار سے انہیں شمار کر لیا کریں ۔ یعنی
ہر حرف سے شروع ہونے والے اَسمائے حسنیٰ یاد کر لیں مثلاً پہلے الف سے شروع کریں
اور دیکھیں کہ اس حرف سے کون سے اَسمائے حسنیٰ آتے ہیں مثلاً الف سے اَللّٰهُ، اَلْاَوَّلُ، اَلْاٰخِرُ وغیرہ۔ ب سے اَلْبَارِیُٔ، اَلْبَاطنُ اور ت سے اَلتَّوَّابُ۔ البتہ! بعض حروف سے
اسمائے حسنیٰ کا پایا جانا مشکل ہو گا لہٰذا جن حروف سے ممکن ہو ان سے اسمائے
ظاہرہ نکال کر انہیں شمار کر لیں اور جب وہ 99 ہو جائیں تو یہی کافی ہے کیونکہ ایک
حرف سے کم و بیش دس اسمائے حسنیٰ پائے جائیں تو بھی حرج نہیں ۔ اگر کسی حرف سے
کوئی اسم نہ ملے تو کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ تعداد پوری ہو گئی ہو تو حدیثِ پاک میں
مروی فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ (قوت القلوب، الفصل الخامس عشر، 1/ 81)
قرآن کریم سے 10 اسماء الحسنیٰ:
اسمائے حسنیٰ ہیں تو بہت زیادہ مگر مشہور 99 ہیں ۔ حضرت
علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
" علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے
الٰہیہ ننانوے میں منحصر نہیں ہیں۔(نووی
علی المسلم ، کتاب الذکر و الدعا و التوبۃ۔۔۔۔ الخ ، باب فی اسماء اللہ و فضل من
احصاہا 9/5 الجزء السامع عشر)
ان مشہور اسماء الحسنیٰ
میں سے 10 اسماء کا ذکر یہاں کیا جائے گا:
(1) الْعَلِیْمُ:بہت زیادہ علم رکھنے والا،
ہر اول اور آخر کو جانتا ہے جوہر چیز کو ہر وقت جاننے والا ہے۔
(2) الْعَدْلُ: انصاف کرنے والا، جو اپنے بندوں کے درمیان تمام
معاملات میں انصاف کرنے والا ہے۔
(3) التَّوَّابُ :توبہ قبول کرنے والا، جو
بڑے سے بڑا گناہ کرنے وا لے کی بھی توبہ قبول کرنے والا ہے۔
(4) الرَّءُ وْفُ: بڑا ہی شفیق و مہربان، جو اپنے بندوں سے نہایت شفقت
اور انتہائی نرمی کا برتاؤ کرنے والا ہے۔
(5) مَالِكُ الْمُلْكِ : حقیقی شہنشاہ، جسے چاہے
بادشاہت عطا کرے اور جس سے چاہے چھین لے۔دنیا و آخرت اور پوری کائنات کا حقیقی
بادشاہ ہے ، پوری کائنات پر جس کی حکومتِ لازوال ہے۔
(6) الْحَیُّ:ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہنے
والا، جسے کبھی فنا اور زوال نہیں جب کہ اس کے علاوہ ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
(7) الْقَیُّوْمُ:کائنات کو قائم رکھنے اور
سنبھالنے والا، جو پوری کائنات کا محافظ اور نگران ہے۔
(8) الْحَقُّ:وہ اپنی ذات و صفات میں
سچا ہے،وہی عبادت کا حقدار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
(9) الْحَکِیْمُ:حکمت و دانائی والا،جو ہر
چیز کو بہتر انداز میں سمجھنے والا ہے،اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے۔
(10) الْکَریْمُ:عطا کرنے والا، بڑا سخی، جو قدرت کے باوجود معاف
کرنے اور امید سے بڑھ کر عطا کرنے والا ہے۔
راحت علی عطاری (درجہ خامسہ ،مرکزی جامعہ
المدینہ فیضان مدینہ فیصل آباد،پاکستان)
اللہ پاک کے بہت نام ہیں
جن میں سے ایک نام ذاتی ہےا ﷲ،باقی نام صفاتی۔صفاتی نام تین قسم کے ہیں: صفت سلبی
پر دلالت کرنے والے جیسے سبحان،قدوس،اولیٰ وغیرہ،صفت ثبوتیہ حقیقیہ پر دال جیسے
علیم،قادر یا ثبوتیہ اضافیہ پر دال جیسے حمید،ملیك،مالك،الملك وغیرہ یا صفت فعلیہ
پر دال جیسے رازق،خالق وغیرہ۔حق یہ ہے کہ اﷲ پاک کے نام توقیفی ہیں کہ شریعت نے جو
بتائے ان ہی ناموں سے پکارا جائے اپنی طرف سے نام ایجاد نہ کئے جائیں اگرچہ ترجمہ ان
کا صحیح ہو لہذا رب کو عالم کہہ سکتے ہیں عاقل نہیں کہہ سکتے،اسے جواد کہیں گے نہ
کہ سخی،حکیم کہیں گے نہ کہ طبیب،خدا رب کانام نہیں بلکہ ایک صفت یعنی مالک کا
ترجمہ ہے جیسے پروردگار،پالنہار،بخشنے والا وغیرہ۔اللہ پاک کے بعض نام مخلوق پربھی
بولے جاتے ہیں جیسے رؤف،رحیم اﷲ کا نام بھی ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم
کا بھی مگر مخلوق کے لئے ان ناموں کے اور معنے ہوں گے۔جب کسی صفت الٰہی کی تجلی
بندے پر پڑتی ہے تو اس وقت اس پر وہ نام بولاجاتاہے۔(مرآة المناجيح ،3/511)
اللہ پاک کے اسماء حسنی جو
قرآن کریم میں ہیں:
(1) الرحمن (مہربان)
(2) الرحيم (رحمت والا)
چنانچہ اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے:الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْمِۙ(۲)
ترجمۂ کنز العرفان :بہت
مہربان رحمت والا۔(پ 1،الفاتحۃ 2)
(3)رؤف(مہربان): اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۴۳)
ترجمۂ کنز العرفان :بیشک
اللہ لوگوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔(پ 2،البقرۃ 143)
(4)الملك(باشاہ)
(5)القدوس(نہایت پاک)
(6)السلم (سلامتی دینے والا)
(7)المؤمن(امن بخشنے والا)
(8)المهيمن(حفاظت فرمانےوالا)
(9)العزيز(بہت عزت دینے والا)
(10)الجبار(بے حد عظمت والا)
(11)المتكبر(اپنی بڑائی بیان فرمانےوالا)
چنانچہ اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ
الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ
الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۲۳)ترجمۂ کنز العرفان :وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ،بادشاہ ، نہایت پاک
،سلامتی دینے والا، امن بخشنے والا، حفاظت فرمانے والا، بہت عزت والا، بے حد عظمت
والا ،اپنی بڑائی بیان فرمانے والا ہے، اللہ ان مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔(پ
28،الحشر 23)
(12) الأول (وہی اول ہے)
(13) الآخر (وہی آخر ہے)
(14) الظاہر(وہی ظاہر ہے)
(15) الباطن (وہی باطن ہے)
(16) العلیم(وہ سب کچھ جاننےوالاہے)
هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ
الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۳)
ترجمۂ کنز العرفان:وہی
اول اور آخر اور ظاہر اورباطن ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔(پ 27،الحدید:3)
(17) القهار (سب پر غالب)
چنانچہ اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: هُوَ اللّٰهُ
الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ(۴)
ترجمۂ کنز العرفان :وہی ایک اللہ
سب پر غالب ہے۔(پ 23،الزمر: 4)
(18) الرزاق (بڑا رزق دینےوالاہے)
(19) القوة (قوت والا)
(20) المتين (قدرت والا)
چنانچہ اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ هُوَ
الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ(۵۸)
ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا قوت والا قدرت والا
ہے ۔(پ 27،الزايت: 58)
شعبہ جامعۃ المدینہ بوائزپاکستان کے تعلیمی امور
ذمہ داران کامدنی مشورہ
پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ
کے رکن وصدرِ کنزالمدارس بورڈ پاکستان حاجی جنید عطاری مدنی کی جی الیون مدنی مرکز
فیضان مدینہ اسلام آباد میں آمد ہوئی جہاں انہوں نے شعبہ جامعۃ المدینہ
بوائزپاکستان کے تعلیمی امور ذمہ داران کامدنی مشورہ کیا۔
رکنِ شوریٰ نے کنزالمدارس بورڈ کے نصابِ تعلیم
ونظامِ امتحانات پر ذمہ داران سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اُن کی جانب سے ہونے والے
مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔
اس موقع پر تعلیمی امور پاکستان ذمہ دار استاذ
الحدیث مولانا گل رضا عطاری، ناظمِ اعلیٰ وجنرل سیکرٹری کنزالمدارس بورڈ پاکستان سیّد
ساجد عطاری، کنسلٹنٹ کنزالمدارس بورڈ پاکستان پروفیسر جاوید اسلم باجوہ عطاری اورصوبائی
ذمہ داران بھی موجود تھے۔(رپورٹ:حافظ
ساجد سلیم عطاری مدنی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
محمد شاف عطّاری (درجہ ثالثہ،جامعۃ المدینہ فیضان
عثمان غنی کراچی،پاکستان)
جس طرح اللہ پاک کی ذات
پاک ماسوا (اللہ پاک کے سوا ہر شے) سے بلند و بالا ہے اسی طرح اللہ پاک کے نام بھی
بقیہ تمام ناموں سے اعلی و ارفع ہیں جنہیں اللہ پاک نے اسماء الحسنی سے تعبیر
فرمایا ہے اور انہیں ناموں سے پکارنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
وَ لِلّٰهِ
الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪- ترجمہ کَنْزُالاِیِمان: اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام تو
اسے ان سے پکارو۔(پ 9، الاعراف، آیت: 180)
یہاں مالک جنت صلی اللہ
علیہ وسلم اپنی امت کو جنت کے حقدار ہونے کا موقع عطا فرماتے ہیں۔ فرمایا: کہ اللہ
پاک کے ننانوے(99) نام جس کسی نے یاد کر لئے جنتی ہوا۔ ( تفسیر خزائن العرفان،ص:
328، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
قرآن کریم سے 10 اسماء الحسنی:
(1) اللہ: اس ذاتِ اعلی کا عظمت والا نام ہے جو تمام کمال والی
صفتوں کی جامع ہے۔ علامہ جلال الدین محلّی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ اللہ سچے
معبود (جس کی عبادت کی جائے) کا نام ہے۔ (تفسیر صاوی، 1/ 16،مطبوعہ قدیمی کتب
خانہ)
(2) الرحمن: رحمن کا معنی ہے نعمتیں عطا کرنے والی وہ ذات جو بہت
زیادہ رحمت فرمائے یاد رہے کہ حقیقی طور پر ہر چھوٹی، بڑی، ظاہری، باطنی، جسمانی،
روحانی، دنیوی اور اخروی نعمت اللہ ہی عطا فرماتا ہے۔ (صراط الجنان، 1/ 45،مطبوعہ
مکتبۃ المدینہ،الفاتحہ، آیت: 02)
(3) الرحیم: رحیم کا معنی ہے بہت رحمت فرمانے والا اور یہ رحمت صرف
آخرت میں مومنین کے لئے ہے۔ (ہدایۃ النحو، صفحہ: 02، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)
(4) المَلِكُ: مَلِك سے مراد ہے حقیقی بادشاہ، اللہ پاک ایسا بادشاہ ہے
کہ ہر چیز اسی کی ملکیت اور اسی کی بادشاہی میں داخل ہے۔(صراط الجنان،سورۃ
المومنون، تحت الآیۃ 116)
(5) المُتَكَبِّرُ: اپنی بڑائی بیان فرمانے والا، اللہ پاک کی ذات ہی وہ ذات
ہے کہ اپنی بڑائی کا اظہار کرنا اسی کے شایانِ شان اور لائق ہے کیونکہ اس کا ہر
کمال عظیم اور ہر صفت ذاتی ہے جبکہ مخلوق کو جو بھی کمال حاصل ہے وہ اللہ ہی
کا عطا کردہ ہے۔(صراط الجنان، سورۃ الحشر، تحت الآیت: 23)
(6) العليّ: بلند شان والا، یعنی اللہ پاک صفاتِ حوادثہ(ختم ہو جانے
والی، عارضی صفات) سے منزّه و پاک ہے اس کی ہر صفت ازلی ہے ہمیشہ سے ہے اور
ہمیشہ رہے گی۔( تفسیر صاوی، 1/ 217،سورۃ البقرہ تحت الآیت: 255)
(7) العظیم: عظمت والا، اللہ پاک کی ذات ایسی عظیم ہے کہ جس کی عظمت
کی کوئی انتہا نہیں۔(صراط الجنان، 1/ 384، سورۃ البقرہ تحت الآیت: 255، مطبوعہ
مکتبۃ المدینہ)
(8) الکبیر: بڑائی والا، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ پاک کو جو اس
کائنات پہ قدرت حاصل ہے کہ بغیر اس کے چاہے پتہ نہیں ہل سکتا بلکہ بغیر اس کے چاہے
چاہا بھی نہیں جا سکتا یہ قدرت و عظمت اس لئے ہے کہ اللہ پاک ہی اپنی ذات و صفات
میں بلندی والا اور بڑائی والا ہے۔(صراط الجنان، سورہ لقمٰن تحت الآیت: 30، مطبوعہ
مکتبۃ المدینہ)
(9) العزیز: عزت والا، یعنی اللہ پاک کی ذات اپنی بادشاہت میں عزت
والی ہے۔
(تفسیر صاوی، 1/ 247، سورہ آل عمران تحت الآیت:
06، مطبوعہ: قدیمی کتب خانہ)
(10) الحکیم: حکمت والا، وہ اس طرح کہ اللہ پاک نے کسی بھی شی کو بے
مقصد و بے معنی پیدا نہیں فرمایا بلکہ ہر چیز کو اس کی صحیح جگہ میں رکھا جو اس کی
جگہ تھی۔( تفسیر صاوی، 1/ 247، سورہ آل عمران، تحت الآیت: 06، مطبوعہ قدیمی کتب
خانہ)
محمد طلحٰہ خان عطاری(درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان
خلفائے راشدین ،راولپنڈی،پاکستان)
اسماء الحسنی کا معنی ہے
بہت اچھے نام۔ قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ :
وَ لِلّٰهِ
الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-ترجمہ کنزالعرفان : ”اور بہت اچھے نام اللہ ہی کے
ہیں تو اسے ان ناموں سے پکارو“۔(پ : 9 ، الاعراف:180)
اس میں اسماء الحسنی کے
ساتھ اللہ پاک سے مدد مانگنے کا حکم ہےجیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ،” اللہ پاک کے
ننانوے نام ہیں جس نے ان کے ذریعے دعا مانگی تو اللہ پاک اس کی دعا قبول فرمائے
گا۔(جامع صغیر،ص:143،الحدیث:2370)
حضرت علامہ یحییٰ بن شرف
نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:” علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے الہی ننانوے
میں مُنحَصِر (قید/گھرےہوئے/بند) نہیں ہیں“۔ (نووی علی المسلم،کتاب الذکر والدعا
والتوبۃ۔۔۔ الخ،5/9، الجز ٕالسابع عشر)
یعنی حدیث کا مقصود صرف یہ
ہے کہ اتنے ناموں کے ساتھ دعا کرنے سے دعا مقبول ہو گی۔ورنہ اسمائے الٰہیہ اس سے
کئی گُنا زائد ہیں ۔
ان اسماء میں سے دس کو ذکر
کیا جاتا ہے جوکہ قرآن مجید کی سورہ حشر کی آیت نمبر 23،24 ، پارہ 28 میں موجود
ہیں : هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ
الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ
اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۲۳) هُوَ
اللّٰهُ الْخَالِقُ۔
(1) لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-:نہیں ہے کوئی معبود مگر وہ : اللہ پاک کے سوا کوئی
معبود نہیں (2) اَلْمَلِكُ:بادشاہ: ملک و حکومت کا
حقیقی مالک ہے(3) الْقُدُّوْسُ:نہایت پاک: ہر عیب سے اور
تمام برائیوں سے نہایت پاک ہے(4) السَّلٰمُ: سلامتی دینے والا :اپنی مخلوق کو آفتوں اور نقصانات سے
سلامتی دینے والا(5) الْمُؤْمِنُ:امن بخشنے والا: اپنے
فرمانبردار بندوں کو اپنے عذاب سے امن بخشنے والا(6) الْمُهَیْمِنُ:حفاظت فرمانے والا : ہر چیز پر نگہبان اور اس کی حفاظت
فرمانے والا ہے(7) الْعَزِیْزُ: بہت عزت والا : ایسی عزت
والا ہے جس کی مثال نہیں مل سکتی(8) الْجَبَّارُ: عظمت والا: اپنی ذات اور تمام صفات میں عظمت اور بڑائی
والا ہے (9) الْمُتَكَبِّرُ:اپنی بڑائی بیان فرمانے
والا ہے: تکبر یعنی اپنی بڑائی کا اظہار کرنا اسی کےشایاں اور لائق ہے(10) الْخَالِقُ: بنانے والا: وہ بنانے
والا ہے عدم( وجود نہ ہونے) سے وجود میں لانے والاہے۔
احادیث میں اسماء حسنی کے
بہت فضائل بیان کیے گئے ہیں،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ جنت
نشان ہے کہ :”بے شک اللہ پاک کی ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو، جس نے انہیں یاد
کر لیا وہ جنت میں داخل ہوا“(بخاری ، 2/229، الحديث :2736)
اللہ پاک ہمیں بھی اسماء
حسنٰی یاد کرنے اور پڑھ کر خوب برکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
سہیل احمد عطاری المدنی (مدرس جامعۃ المدینۃ شیرانوالہ گیٹ لاہور،پاکستان)
اسماءِ
حُسْنٰی کے فضائل: اَحادیث میں اسماءِ حسنیٰ
کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں چنانچہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ پاک کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو،
جس نے انہیں یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہوا۔(بخاری، کتاب الشروط، 2 / 229،
الحديث: 2736)
اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-
ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ ہی کے ہیں بہت
اچھے نام تو اسے ان سے پکارو ۔(پ 9 ،الأعراف:180)
اسماءِ حُسْنٰی سے 10 کا اجمالاً ذکر
(1،2) الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ۔الرَّحْمَنُ دنیا میں مومنوں اور کافروں پر رحم
کرنے والا اور، الرَّحِيمُ آخرت میں صرف مؤمنوں پر رحم فرمانے والا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر مومن
جان لیتا کہ اللہ پاک کے پاس کتنا عذاب ہے
تو کوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھتا اور اگر کافر جان لیتاکہ اللہ پاک کے پاس
کتنی رحمت ہے تو اس کی جنت سے کوئی ناامید نہ ہوتا ۔(مسلم، کتاب التوبۃ،
،ص:1473،الحدیث:23(2755))
3۔الملک:جس کا معنیٰ ہے بادشاہ جو چاہے کرے اور اس کے فعل پر کسی کو مجال اعتراض نہ
ہو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک ہر رات آسمان
دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے جس وقت رات کا ابتدائی حصہ گذر جاتا ہے تو اللہ فرماتا
ہے میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے
جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں
اسے معاف کر دوں، اللہ پاک اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح روشن ہوجاتی ہے۔
( صحیح مسلم ، باب الترغیب فی الدعائ و الذکر فی آخر اللیل و الاجابۃ فیہ ، رقم الحدیث 1773، ص 307،
مطبوعہ دار السلام للنشر و التوزیع ، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ،
الطبعۃ الثانیۃ ، 1421ھ ، 2000ء)
4۔القدوس: المنزۃ من کل نقص
والطاھر من کل عیب۔ جو ہر نقص سے منزہ اور ہر عیب سے پاک ہو۔ (ضیاء القرآن، جلد5،
تفسیر سورۃ الحشر تحت الآیۃ 23، ص 186)
حدیث پاک میں ہے: أَنَّ رَسُول اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَقُولُ فِی رُکُوعِہِ وَسُجُودِہِ سُبُّوحٌ
قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَءِکَۃِ وَالرُّوحِ
”
حضرت مطرف بن عبد اللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھے عائشہ
صدیقہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں یہ دعاپڑھا کرتے تھے۔ ملائکہ اور جبرائیل امین کے رب ہر
قسم کی تسبیح و تقدیس تیرے لئے ہے۔ “(صحیح مسلم ، باب ما یقال فی الرکوع ، رقم الحدیث 1091، ص
202 ، مطبوعہ دار السلام للنشر و التوزیع ، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ،
الطبعۃ الثانیۃ ، 1421ھ ، 2000ء)
5۔السّلام :ای ذو سلامۃ من النقائص۔ یعنی ہر قسم کی خامیوں سے محفوظ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ
وہ اپنے بندوں کو آلام و مصائب سے بچاتا ہے۔( ضیاء القرآن ، تفسیر
سورۃ الحشر تحت الآیۃ 23، 5/ 186)
حدیث پاک میں ہے:کَانَ رَسُول اللَّہ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَتِہِ اسْتَغْفَرَ
ثَلاَثًا وَقَال اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ
ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَامِ
حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو
تین مرتبہ استغفار کرتے اور یہ دعا پڑھتے۔ ” اے اللہ تو سلامتی والا ہے اور سلامتی
تجھی سے حاصل ہوتی ہے بیشک تو بابرکت اور جلال واکرام والا ہے۔
(صحیح مسلم ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ ، رقم الحدیث 1334، ص
239، مطبوعہ دار السلام للنشر و التوزیع ، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ، الطبعۃ الثانیۃ ، 1421ھ ،
2000ء)
6۔المؤمن : امن دینے والا
‘ کافروں کو ظلم سے اور مؤمنوں کو عذاب
سے۔( حاشیہ تفسیر جلالین مکتبۃ البشریٰ، 3
/ 499،سورۃ الحشر تحت الآیۃ 23)
7۔الشاھد۔ گواہ۔ اور اس کو بھی
کہتے ہیں جو کسی کو خوف سے امان دے۔
( ضیاء القرآن، جلد5،
تفسیر سورۃ الحشر تحت الآیۃ 23، ص 186)
حضرت مسروق کہتے ہیں ہم حضرت ابو موسیٰ کے
ساتھ تھے رات ایک باغ میں ٹھہرے تو آپ رات
کو اٹھے اچھی قرأت کی اور یہ دعا مانگی «اللَّهُمَّ أنْتَ مُؤْمِنٌ تُحِبُّ
المُؤْمِنَ، مُهَيْمِنٌ تُحِبُّ المُهَيْمِنَ، سَلامٌ تُحِبُّ السَّلامَ، صادِقٌ
تُحِبُّ الصّادِقَ»
اے اللہ! تو مؤمن (امان دینے والا) ہے
مؤمن کو پسند کرتا ہے، مُھَیمِن (نگہبان)ہے مھیمن کو پسند کرتا ہے، سلام
(سلامتی والا) ہے سلامتی کو پسند کرتا ہے،
صادق (سچا) ہے صادق کو پسند کرتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ
7/141)
8۔العزیز: غالب ، بے مثال ،شدید ، قوی ،اور عزت دینے والے ہیں۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠(۹)ترجمہ کنزالایمان : اور بے شک تمہارا رب ضرور وہی عزت والا مہربان ہے۔( سورۃ الشعراء ، الآیۃ 9)
یعنی اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا ربّ ہی یقینی طور پر عزت
والا ہے، وہی غالب اور کافروں کو سزا دینے پر قدرت رکھنے والا ہےاور وہی بہت بڑا
مہربان ہےاور اسی نے اپنی رحمت سے مشرکوں
کو فوری گرفت نہیں فرمائی بلکہ انہیں (حال سنوارنے کی) مہلت دی ہے۔(روح البیان،
الشعراء، تحت لآیۃ264/6،9)
9۔الجبار:سب پر غالب بڑی عظمت والا۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَطْوي اللهُ
السَّماواتِ يومَ القيامةِ ثُمَّ يأخُذُهنَّ بيدِه اليمنى ثُمَّ يَطْوي الأَرَضينَ
ثُمَّ يأخُذُهنَّ بشمالِه ثُمَّ يقولُ أنا المَلِكُ أين الجبَّارونَ أين
المُتكبِّرونَ؟”روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ
کر اپنی شان کے مطابق اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا پھر اللہ ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنی شان کے
مطابق اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں
جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں جو متکبر بنے پھرتے ۔ (مجمع الزوائد ، 10/347 )
10۔المتكبر:التکبر۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا: اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ: کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار ہے۔ جو ان کو اوڑھنے کی کوشش
کرے گا میں اس کی کمر توڑ دوں گا اور اس کو دوزخ میں پھینک دوں گا۔ (ضیاء القرآن ، 5 / 185،
ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)
مسلمانوں کو قرآن مجید میں اللہ پاک كو اچھے ناموں سے پکارنے کا حکم دیا گیا،چنانچہ سورہ اعراف، آیت:180 میں
ارشاد ہوتا ہے: وَ لِلّٰهِ
الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ
فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ-سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۸۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بہت اچھے نام اللہ ہی کے ہیں تو اسے ان ناموں سے پکارو اور ان
لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے دور ہوتے ہیں ، عنقریب اُنہیں ان کے
اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔اللہ پاک کے نام یاد کرنے کے دو فضائل:(1):حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عَنْہُ سے روایت ہے، رسول
اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد
فرمایا: بے شک اللہ پاک کے ننانوے نام ہیں ، جس نے انہیں یاد کر لیا وہ جنت میں
داخل ہوا۔(بخاری، کتاب الشروط، باب
ما یجوز من الاشتراط ۔۔۔ الخ،2 /229، حدیث: 2736)
(2):حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عَنْہُ سے روایت ہے، رسول
اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد
فرمایا: اللہ پاک کے ننانوے نام
ہیں جس نے ان کے ذریعے دعا مانگی تو اللہ پاک اس کی دعا کوقبول فرمائے گا۔(جامع
صغیر، ص143، حدیث:2370)
پس قرآن مجید میں اللہ پاک کے
کئی اسماء الحسنی ہیں ،ان میں سے 20 اسماء
مبارکہ یہ ہیں:
(1):اَللّٰہ ، یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً2697 مرتبہ آیا
ہے۔(2): اَلرَّحْمٰن، یہ
مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً43 مرتبہ آیا ہے۔(3): الرَّحِیْم، یہ
مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً114 مرتبہ آیا ہے۔(4):اَلتَّوَاب، یہ مبارک نام قرآن پاک میں
تقریباً12مرتبہ آیا ہے۔(5): اَلْقُدُوْس، یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً2
دو مرتبہ آیا ہے۔(5):اَلْمُھِیْمِن، یہ
مبارک نام قرآن پاک میں صرف ایک مرتبہ آیا ہے۔(6):اَلْعَزِیْز، یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً 90مرتبہ اللہ
پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔(7):اَلْحَکِیْم، یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً 92مرتبہ اللہ پاک کے لئے استعمال ہوا
ہے۔(8):اَلْکَرِیْم،
یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً 5مرتبہ
اللہ پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔(9):اَلْصَمَد، یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً 1مرتبہ اللہ پاک کے لئے استعمال ہوا
ہے۔ (10):اَلْحَمِیْد، یہ مبارک نام قرآن پاک میں
تقریباً 17مرتبہ اللہ پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔ (11):اَلْوَدُوْد، یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً 2مرتبہ اللہ
پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔ (12):اَلْقَدِيْر، یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً
44مرتبہ اللہ پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔ (13):اَلْمَجِیْد، یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً 2مرتبہ اللہ
پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔ (14):اَلْقَادِر ، یہ مبارک
نام قرآن پاک میں تقریباً 4مرتبہ اللہ پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔ (15): ذُو
الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ، یہ
مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً 3مرتبہ اللہ پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔ (16): الْقَیُّوْمُ، یہ
مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً 3مرتبہ اللہ پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔(17): اَلْحَیُّ
،یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً
3مرتبہ اللہ پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔ (18): اَلْغَنِيُّ ،
یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً
18مرتبہ اللہ پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔(19): اَلْغَافِر،یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً ايك مرتبہ اللہ
پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔(20): اَلْفَاطِر،یہ مبارک نام قرآن پاک میں تقریباً 6مرتبہ اللہ
پاک کے لئے استعمال ہوا ہے۔
وَ لِلّٰهِ
الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ
یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ-سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۸۰)ترجمۂ کنزالعرفان:اور بہت اچھے نام اللہ ہی
کے ہیں تو اسے ان ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق
سے دور ہوتے ہیں ، عنقریب اُنہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔(پ
9،الأعراف:180)
حديث شريف میں ہے اللہ پاک
کےننانوے نام جس کسی نے یاد کر لئے جنتی ہوا۔علماء کااس پراتفاق ہےکہ اسمائے الہیہ
ننانوے ہیں ۔ وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى : اور بہت اچھے نام اللہ ہی کے ہیں۔ شانِ نزول: ابوجہل
نے کہا تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے اصحاب (رضی اللہ عنہم )کا
دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ ایک پروردگار کی عبادت کرتے ہیں پھر وہ اللہ اور رحمٰن
دو کو کیوں پکارتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔(خازن، الاعراف، تحت
الآیۃ: 180، 2 / 162)
اور اس جاہل بے خِرَد کو
بتایا گیا کہ معبود تو ایک ہی ہے نام اس کے بہت ہیں۔
اسماءِ
حُسْنٰی کے فضائل:
اَحادیث میں اسماءِ حسنیٰ
کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ترغیب کے لئے دو احادیث درج ذیل ہیں :
(1) حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ پاک کے
ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو، جس نے انہیں یاد کر لیا وہ جنت میں داخل
ہوا۔ (بخاری، کتاب الشروط، باب ما یجوز من الاشتراط والثّنیا فی الاقرار۔۔۔
الخ،2 / 229، الحدیث: 2736)
حضرت علامہ یحیٰ بن شرف
نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے
الہٰیہ ننانوے میں مُنْحَصِر نہیں ہیں ، حدیث کا مقصود صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے
یاد کرنے سے انسان جنتی ہو جاتا ہے۔ (نووی علی المسلم، کتاب الذکر والدعاء
والتوبۃ۔۔۔ الخ، باب فی اسماء اللہ وفضل من احصاہا، 9 / 5، الجزء السابع
عشر)
اسماءالحسنی :(1) الواسع :وسعت رکھنے والا ،(2)الحی :زندہ وجاوید ،(3)الکریم:صاحب کرم ،(4)العزیز : غلبہ اورعزت والا ،(5) الرحیم:نہایت مہربان ،(6)الوھاب :بغیرکسی منفعت کےخواب
عطاکرنے والا ،(7) الحکیم : سب کام حکمت سے
کرنےوالا ،(8)الغفار:گناہوں کابہت زیادہ بخشنے والا ،(9)الودود:اپنےبندوں کوچاہنے
والا ،(10)السلام :جس کی ذاتی صفت سلامتی ہو ،(11)المھیمن:پوری نگہبانی کرنےوالا،(12) الظاہر: بالکل آشکار،(13) العلیم:سب کچھ جاننے
والا،(14) المقتدر:سب پرکامل اقتداررکھنے والا،(15) البصیر:سب کچھ دیکھنے والا ،(16) الرحمٰن :بڑی رحمت والا،(17) السمیع :سب کچھ سننے
والا،(18) الباطن: بالکل مخفی ،(19)الاول :سب سےپہلےوجودرکھنے
والا،(20) الآخر:سب کے بعدوجودرکھنے
والا ،(21) المصور:صورت گری کرنے والا ۔
اللہ پاک کے نام تو کافی
ہیں احادیث میں آیاہے جس نے اللہ پاک کے ننانوے نام یاد کرلئے وہ جنتی ہوا۔ جن میں
سےخدائے پاک کاذاتی نام اللہ ہے اس کو اسم ذات بھی کہتے ہیں لفظ اللہ کے سوا اور
نام جو اس کی کسی صفت کوظاہر کرے اسے صفاتی نام یااسمائے صفات کہتےہیں ۔ (فرض علوم سیکھئے ،ص: 24مکتبۃ المدینہ)
(2،1) الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْمِۙ(۲) ترجمہ :رحمٰن اور رحیم۔(پ1، فاتحہ 2) اللہ پاک کے دو صفاتی نام ہیں ، رحمٰن
کا معنٰی ہے: نعمتیں عطا کرنے والی وہ ذات
جو بہت زیادہ رحمت فرمائے اور رحیم کا معنی ہے : بہت رحمت فرمانے والا
(3،4،5،6) الْمَلِكِ
الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ(۱)ترجَمۂ کنزُالایمان:بادشاہ کمال پاکی والا عزت والا حکمت
والا۔(پ 28،الجمعہ 1)
(7)وَّكِیْلٌ ترجمہ:مختار
۔وظیفہ:جس شخص کو آندھی،آسمانی بجلی یا کسی اور چیز سے نقصان پہنچنے کا ڈر ہو یا
وہ تنگدستی کا شکار ہو تو اسے چاہئے کہ کثرت سے ’’یَا وَکِیْلُ‘‘ پڑھا کرے، اس سے ان شاء اللہ حاجتیں پوری ہوں گی،مصیبتیں دور ہوں گی اور پڑھنے والے کے لئے رزق اور بھلائی کے دروازے کھلیں گے ۔( روح البیان، الزّمر، تحت الآیۃ: 62، 8 /
131، ملخصاً)
(8,9) الْجَبَّارُ
الْمُتَكَبِّرُؕ ترجَمۂ کنزُالایمان:عظمت والا
تکبر والا (پ 28،الحشر 23)
21بارجو "یامتکبر " پڑھے گا ڈراؤنے خواب آتے
ہوتونہیں آئیں گے۔( روحانی علاج ،ص 8)
(10)بَصِیْرٌۢ :دیکھ رہا ۔جوسات
بار کوئی روزانہ پڑھے گاابتدائے وقت عصر تاغروب آفتاب کسی بھی وقت پڑھ لے گااچانک موت سے محفوظ رہے
گا ۔(روحانی علاج ،ص:17)
Dawateislami